ڈھول کی تھاپ حرام۔۔ بندوق کی ٹھاہ حلال ……………حفصہ نور
پاکستان کی درسی کتابوں میں الف سے انتقام، ب سےبارود اور پ سے پٹاخہ، ت سے تلوار، ٹ سے ٹھکائی، ج سے جہاد، چ سے چور کی داڑھی میں تنکا تلاش کرنا، ح سے حلوہ، خ سے خار کھانا جیسے اسباق دراصل قوم کے بچوں کو انتہا پسند بنانے کے مترادف ہیں۔۔۔
ہر روز لاشیں گرتی ہیں، عقیدوں کے نیزے چلائے جاتے ہیں، فتوؤں کے خنجر لہرانے والے اپنے کام میں اتنے دلیر ہوچکے ہیں کہ پیار کا درس دینے والوں کو گالی بنایا جا رہا ہے۔
یہاں شہید کربلا کا غم بھی ناگوار ہے تو عیدمیلاد النبی بھی تنقید کی زد پہ ہے ۔ یہاں یوم حیا صرف عورت کو چولی یاد دلانے کے لیے منایا جاتا ہے۔
امجد صابری کی خون میں لت پت لاش کو دفن بھی نہیں کیا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے ذمہ داری قبول کرلینے کا بیان سامنے آ گیا، بیان کے مطابق انہوں نے امجد صابری کو اس لیے قتل کیا کہ انہوں نے توہین کی تھی، اس ملک میں اگر اللہ اور اس کے پیارے رسول سے عشق بھی توہین کے زمرے میں آ جائے تو منکروں سے پھر کیسا گلا کر سکتے ہیں؟
اس ملک میں ایک جانب ناحق مارے جانے والے کو شہید کا درجہ دیا جاتا ہے مگرقاتلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے زبانیں لکنت کا شکار ہوجاتی ہیں جیسا امجد صابری کے معاملے میں ہوا کہ سترہ رمضان کو ان کی شہادت کو فتح مکہ سے ملا دیا گیا مگر کسی کمبخت کو ہمت نہ ہوئی کہ قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کی مذمت میں دو بول ہی بول دے۔ جنید جمشید کی جانب سے امجد صابری کو رمضان میں مرنے پر خوش نصیب کہا گیا مگر اپنے ساتھ بھاری محافظوں کا لشکر چھوڑ کر خود کو کبھی اس خوش نصیبی تک پہنچنے کا موقع نہیں دیں گے۔
امجد صابری جیسے چراغ کے بہیمانہ قتل پر اس قدر فرقہ واریت کا مظاہرہ کیا گیا کہ دشمنوں کی جانب سے ڈھول باجا پیٹنے والا کہا گیا۔ جب ایسے فنکاروں کو بھی قتل کر دیا جائے گا اور الزام ہر بار تیسرے ہاتھ پر تھونپ دیا جائے گا تو ناگزیر ہے کہ کسی کو دہشت گردی کے شعلے نظر نہیں آئیں گے۔
پھر کس منہ سے ہندوستان کی جانب سے فنکاروں کو ہراساں کرنے کو سوالیہ نشان بنایا جاتا ہے جب کہ ہندوستان نے ہمیشہ اپنے فنکار کو نہ صرف عزت دی بلکہ مقامِ ثریا تک رسائی دی۔ شاید ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ امجد صابری ایک شخص ہی نہیں تھا، اس کے پیچھے ایک ثقافت اور تاریخ تھی، دنیا میں ایسے رنگ زندگی کا مزہ ہوتے ہیں۔۔۔
آج بندوق کی گولی کے دور میں اگر محبت کے ڈھول بجانے والی آوازیں
سچل سرمد، شاہ لطیف، بابا بلھے شاہ، خوشحال خان خٹک، لال شہباز قلندر، بابا رحمان، وارث شاہ، میاں محمد بخش، بابا فرید، جیسے صوفی بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی فرقہ واریت کی گولی سے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا کہ ڈھول کی تھاپ حرام جب کہ گولی کی ٹھاہ حلال ہے۔
دوسری جانب حمزہ علی عباسی کے سوال کرنے پر قادیانی لابی کی سازش تک ڈھونڈ نکالی گئی اور کھلے عام ایک عالم دین نے قتل و غارت گری کا مشورہ ہی نہیں بلکہ حکم بھی دے دیا، ایک مقبول ترین اینکر جو اپنے آگے کسی کو بولنے نہیں دیتے، گزشتہ دنوں ایک پروگرام میں بنگلہ دیش کی دہائی دے رہے تھے، انہوں نے بنگلہ دیش میں بلاگرز کی موت کی باتیں کر کے پاکستان میں مستانے شاہینوں کو اکسایا کہ وہ بھی اپنے حریفوں کو موت کی نیند سلا دیں۔۔۔
ہمارے ہاں اگر کوئی سوال کرنے کی جرات کرلے تو پہلےفتوؤں کے نشتر چبھوئے جاتے ہیں اور پھر امتیازی قوانین کا لیموں چٹا کر اظہار رائے کا نشہ اتار دیا جاتا ہے۔ ان کی آنکھ لڑکی کے باولنگ کروانے کے سین میں فحاشی دیکھتی ہے مگر یہ بات بتانے سے قاصر ہے کہ فحاشی دیکھنے والی کی آنکھ میں ہوتی ہے۔
ہر روز سڑکوں پر بارود کے دھوئیں، خون کی ہولی اور لاشوں کا جشن منایا جارہا ہے۔ ایک طرف تین سو ملین روپے حقانی مدرسے کو دیے جائین اور دوسری پاکستان کے دنیا بھر میں تنہا رہ جانے کا گلہ کیا جاتا ہے۔ ہمیں اب مٹی کی تجارت بند کرنا ہو گی۔ ہم کفن خرید خرید کر تھک چکے ہیں، نفرتوں، فرقوں کا زہر پلانے والوں کو خدا حافظ کہنا ہو گا۔ ، یہ دراڑیں ہمیں ایک دوسرے سے کوسوں دور لے جا چکی ہیں، اگر اب بھی خاموشی نہیں ٹوٹی تو تو آوازوں کو یونہی دفنایا جاتا رہے گا۔ ہمین دیکھنا ہو گا کہ اس شہر کو قبرستان بنانے میں ہمارا ہاتھ تو نہیں

حصہ