مملکت خداداد میں سیکس کا کاروبار
تحریر . عالیہ جمشید خاکوانی

ایک لڑکی کے نام سے مجھے میسج آیا آپ سے دوستی کرنا چاہتی ہوں ،میں کسی سے دوستی نہیں کرتی میرا جواب تھا دوسرے دن میسج آیا سوری میں لڑکی نہیں ایک بزنس میں ہوں دبئی میں رہتا ہوں آپ میرے بزنس میں شامل ہو جائیں آپ کو ہر ماہ لاکھوں روپے مل سکتے ہیں ،اچھا مجھے کون سا بزنس آتا ہے؟آپ کے لاکھوں فالورز ہیں انہیں ہمارا کسٹمر بنا دیں ویسے تو آپ خود بھی اتنی خوبصورت ہیں لیکن آپ کسی سے دوستی نہیں کرتیں تو چلو ہماری مدد ہی کر دیں میں کچھ سمجھی کچھ نہ سمجھی اس کو میں نے بلاک کر دیا کچھ عرصے بعد دبئی ایرپورٹ کے ایک ملازم نے ایک کہانی سینڈ کی اور کہا میڈم آپ اس پہ ضرور لکھیں میں نے اس پر محدود سا آرٹیکل لکھا جو نیٹ پر لگ گیا تو ایک لڑکی نے مجھ سے رابطہ کیا آپ لکھنا چاہتی ہیں تو پھر مجھ سے دوستی کرنا ہو گی میں اتنا مواد دونگی کہ آپ کے ہوش اڑ جائیں گے نمونے کے طور پر کچھ تصویریں بھی تھیں اب واقعی میرے ہوش اڑ گئے کہ یہ کیا بلائیں پیچھے لگ گئیں میں بلاک کرتی رہی لیکن لکھاری کی حیثیت سے تجسس بھی موجود رہا تب میں نے معلومات اکھٹی کرنی شروع کیں ایک لمبی چوڑی رپورٹ مل گئی ایک مستند ذرائع سے مزید اعدادوشمار مل گئے لیکن سوچتی تھی کہاں سے شروع کروں ،دو دن پہلے علی عباس جلال پوری کا تھیسس پڑھنے کو ملا ’’مسلمان حکمران اور عورتوں کا کاروبار ‘‘ جہاں مسلمان حکمرانوں کی حکومتیں قائم ہوتیں وہاں بردہ فروشوں کی چاندی ہو جاتی انگریزوں نے اس پر پابندی لگا دی ۔۔۔اس کی اینٹی میں بھی تھیسس تھے جن میں انگریزوں کو مورد الزام ٹھیرایا گیا تھا لیکن یہ رپورٹ کیا کہتی ہے جو موجودہ حالات کو ظاہر کرتی ہے ا س کے مطابق پاکستان میں سیکس ورکرز کی تعداد 15لاکھ ہو گئی ہے جبکہ صرف لاہور میں یہ تعداد ایک لاکھ سے اوپر ہے ان سیکس ورکرز خواتین میں نہ صرف لوکل بلکہ بنگلہ دیش،بھارت،برما ،افغانستان اور روسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شامل ہیں انٹر نیشنل ہیومن رائٹس مانیٹرنگ گروپ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جسم فروشی کے پیشے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ان جسم فروش عورتوں میں 44فیصد غربت 32 فیصددھوکے اور فریب 18فیصد جبر اور تشدد 4فیصد وہ خواتین جو انہی گھرانوں میں پیدا ہوئیں اور دو فیصد اپنی مرضی سے اس پیشے میں آئیں ۔ان میں 41.8فیصد خواتین 18سے 25سال کی ہیں جبکہ 6.21فیصد لڑکیاں اٹھارہ سال سے کم عمر کی ہیں 56.79فیصد ان پڑھ ہیں اور 47فیصد سکینڈری سکول سے لیکر کالج یونیورسٹی تک کی تعلیم یافتہ ہیں جبکہ 30فیصد غیر شادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ ساتھ 70فیصد شادی شدہ خواتین شامل ہیں گذشتہ دس برسوں میں بنگلہ دیش سے پانچ لاکھ،برما سے بیس ہزار،افغانستان سے ایک لاکھر روسی ریاستوں اور دیگر ممالک سے ہزاروں خواتین پاکستان آئیں اور جسم فروشی کے پیشے سے منسلک ہو گئیں دوسری طرف اس بے راہ روی کے نتیجے میں ایڈز جیسی موزی بیماریاں پھیل رہی ہیں 1987میں پاکستان میں ایڈز کا صرف ایک کیس رجسٹر ہوا تھا اب 80ہزار کے قریب افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں اس طرح خواتین سیکس ورکرز کے مقابل جسم فروش لڑکوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے
جس میں نوعمر بچوں کی تعداد قابل تشویش ہے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جہاں لڑکیاں اور خواتین اس پیشے میں پچیس سے تیس ہزار روپے ماہانہ کماتی ہیں وہاں یہ جسم فروش لڑکے پچاس سے ستر ہزار روپے ماہانہ کما لیتے ہیں لاہور پولیس کے مطابق شہر میں جگہ جگہ جسم فروشی کے اڈے کھل گئے ہیں بلکہ نجی اور سرکاری اداروں میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جبکہ بڑی مارکیٹوں،سڑکوں ،درباروں،باغوں ،پارکوں اور اہم علاقوں میں بھی ایسے افراد کی کوئی کمی نہیں 5سال قبل شہر میں 200قحبہ خانے تھے جو اب 445ہو چکے ہیں اسی طرح لاہور میں پانچ سال کے دوران جسم فروشی میں دگنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے شہر میں ایک لاکھ سے زیادہ جسم فروش خواتین اور لڑکے ہیں جن کی عمریں 12
13سال سے لیکر 40 45,سال تک ہیں اور ان کی تعداد میں ماہانہ سو سے دو سو تک کا اضافہ ہو رہا ہے جسم فروشی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون (نائیکہ) نے بتایا کہ اس دھندے میں معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیں ان میں ایسی بھی ہیں جو سو روپے میں بک جاتی ہیں اور ایسی بھی جو اپنے آپ کو پیش کرنے کے لاکھوں روپے وصول کرتی ہیں اس نے کہا یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ جہاں ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے وہاں عورت کی عصمت سستی ہو رہی ہے چند سال پہلے جس میعار کی لڑکی پانچ ہزار میں ملتی تھی اب ایک ہزار میں مل جاتی ہے کیونکہ یہ عورتیں کسمپرسی کی زندگی گذارتی ہیں ان کے بچے ضروریا ت زندگی کو ترستے ہیں پھر اس پیشے میں لا تعداد لڑکے ،لڑکیاں شامل ہو گئی ہیں اس لیے سودا سستا ہو گیا ہے اور گاہک کم پڑ گیا ہے گاہک کم پڑنے کی وجہ بھی اس نے غربت اور بے روزگاری کو قرار دیا اب یہ کام صرف امیرزادوں کا رہ گیا ہے یا وہ جو دو نمبر کمائی کے ذرائع رکھتے ہیں اس نے بتایا اس پیشے میں سامنے نظر آنے والی خواتین اور لڑکوں کے علاوہ بڑے بڑے نام اور گروہ شامل ہیں جن کا کام مختلف طریقوں سے لوگوں کی مجبوریاں خریدنا اور انہیں اس طرف راغب کرنا ہے یہ گروہ نو عمر بچوں اور بچیوں کو اغوا بھی کرتے ہیں اور بعد ازاں انہیں بھی جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیا جاتا ہے اس نے بتایا جب کشمیر اور دیگر علاقوں میں زلذلہ آیا تھا تب لاہور کے بعض بڑے کوٹھی خانوں کی مشہور خواتین زلذلہ ذدہ علاقوں سے بے سہارا لڑکیوں اور خواتین کو ورغلا کر لاہور لے آئی تھیں جن میں سے بیشتر کو اس کام پر لگا دیا گیاجبکہ اب سیلاب ذدہ علاقوں کی بھی کئی لڑکیاں لاہور میں یہی کام کرتی ہیں سیکس ورکرز کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم کے ایک رکن نے بتایا کہ جسم فروشی میں اگرچہ ہیجڑوں کا بھی کردار ہے لیکن موجودہ دور میں نوعمر لڑکوں کی شمولیت خاصی تشویش کی بات ہے کچھ عرصے سے تیرا چودہ سال کے لڑکوں سے لیکر بیس پچیس سال کے لڑکوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو گیا ہے اس نے بتایا لڑکوں کی جسم فروشی اس معاشرے میں کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایک عرصے سے ہو رہی ہے انہوں نے برطانوی رائٹر Richard Francis Burtomکی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا جو 1842میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم ہونے کے بعد بھارت میں آئے اور اس دوران مختلف شہروں میں تعینات رہے کراچی کے حوالے سے بھی وہ لکھتے ہیں کہ کراچی میں ایک ایسا قحبہ خانہ موجود تھا جہاں صرف لڑکے ہی ملا کرتے تھے اور افغان علاقوں میں کم عمر لڑکوں کی دوستی کو برا نہیں سمجھا جاتا جبکہ اب تو تقریبا ہر شہر میں مخصوص علاقے ہیں جہاں پر لڑکے سیکس ورکرز کے طور پر کام کرتے ہیں کراچی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہاں زیادہ تر امیر اور مڈل کلاس خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لڑکے شامل ہیں جو وڈیو گیم شاپس،فاسٹ فوڈ سپاٹ ،ریسٹورانس اور کولڈ ڈرنک شاپس پر ملتے ہیں جبکہ لوئر کلاس خاندانوں کے لڑکے زیادہ تر گلشن اقبال ،سبزی منڈی،کھارادر،لی مارکیٹ ،لانڈھی،ملیر اور لیاری کے علاقوں میں ملتے ہیں جیسے ان لڑکوں کے گاہک ہوتے ہیں ویسے ہی یہ لڑکے بسوں کے اڈوں ،سینماؤں اور پارکوں وغیرہ میں اپنا شکار ڈھونڈتے ہیں ریلوے اسٹیشن ،ہوٹل کی لابی ،ہسپتال سکول اور کالج بھی ان کی شکارگاہ ہوتے ہیں ان لڑکوں میں زیادہ تعداد کم پڑھے لکھوں کی ہے مگر گریجویٹ سطع کی تعلیم رکھنے والے بھی شامل ہیں چونکہ یہ انگریزی زبان بولنا جانتے ہیں اس لیے یہ زیادہ تر غیرملکی سیاحوں کے لیے کام کرتے ہیں ان کی ایک ایسی قسم بھی ہے جو جو صرف ہوٹلوں کے کمروں تک اپنی خدمات محدود رکھتے ہیں جبکہ کچھ گاہک کے گھر بار تک بھی چلے جاتے ہیں چھوٹی عمر کے لڑکے جو پارٹ ٹائم یہ کام کرتے ہیں دوران سفر کار میں یارات کے وقت باغات پارکس اور دیگرجگہوں پر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں پارٹ ٹائم کام کرنے والوں میں زیادہ تر طالب علم،سیلز مین ہوٹلوں اور گیراجوں میں کام کرنے والے لڑکے شامل ہیں جو مزید پیسوں کے حصول کے لیے یہ کام کرتے ہیں چونکہ ان لڑکوں کو با آسانی ہر جگہ لے جایا جا سکتا ہے اس لیے ان کے کام کو فروغ ملا ہے کراچی کی سوسائٹی ’’ فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ ‘‘ کے ریجنل پرموشن مینجرسلام دریجو کا کہنا ہے اگر چہ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں تو بہت ہیں لیکن خصوصا سیکس ورکرز بچوں کے حوالے سے کوئی خاص کام نہیں ہو رہا ابھی تک شہر میں اس پیشے سے منسلک بچوں کی حتمی تعداد کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکا کیونکہ ان میں 30ہزار سے زائد سٹریٹ چلڈرن (گھروں سے بھاگے ہوئے یتیم اور بے سہارابچے) بھی شامل ہیں جبکہ لوکل لڑکوں کی بھی کمی نہیں اس پیشے سے منسلک لڑکوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان میں بیشتر ایسے ہوتے ہیں جو شروع میں اپنے ہی کسی رشتہ دار کی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں بعد ازاں وہ اس کام کو پیسے کے حصول کا ذریعیہ بنا لیتے ہیں اس سے مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں لیکن اس کی بہتری کے لیے کوئی کام نہیں ہو رہا ۔شمائلہ نامی ایک سماجی کارکن کا کہنا ہے (IHRM
انٹر نیشنل ہیومن رائٹس مانیترنگ گروپ کی رپورٹ کے مطابق 44فیصد خواتین غربت کی وجہ سے اس پیشے میں آتی ہیں جن کے بچوں کو خوراک اور علاج کی سہولت نہیں ملتی ان میں 55فیصد ان پڑھ ہوتی ہیں ضرورت ہے کہ ایسی ورکشاپس منعقد کروائی جائیں جہاں انہیں محفوظ سیکس سے متعلق آگاہی دی جائے چونکہ یہ کام اب ایک کاروبار کی شکل اختیار کر شکا ہے ایڈز اور دوسرے موذی امراض سے بچا جا سکے
انہوں نے بتایا کہ گذشتہ برس اقوام متحدہ کے ادارے ’’یواین ایف پی اے ‘‘ اور مقامی سرکاری تنظیموں کی طرف سے منعقد کردہ ورکشاپ میں شرکت کرنے والی خواتین سیکس ورکرز کو محفوظ جنسی طریقوں سے آگاہی دی گئی تھی ان خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے پہلے ان محفوظ طریقوں سے آگاہی نہیں تھی یہ ورکشاپس ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی ہیں ’’یونائیٹڈ نیشنزپاپولیشن فنڈ‘‘ کے پراجیکٹ آفیسر ڈاکٹر صفدر کمال پاشا کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پورے پاکستان کے مکمل اعدادوشمار تو نہیں لیکن اس وقت ایک سروے کے مطابق کراچی میں ڈیڈھ لاکھ سے زائد سیکس ورکرز کام کر رہے ہیں ان میں محفوظ جنسی طریقوں سے آگاہی ہونا ضروری ہے تاکہ ایڈز پر قابو پایا جا سکے انہوں نے کہا ایک مسلم ملک یعنی بنگلہ دیش میں اس کاروبار کو قانونی تحفظ حاصل ہے لیکن پاکستان میں اسے قانونی تحفظ حاصل نہیں یہی وجہ ہے کہ اس ورکشاپ کو منعقد کرانے سے پہلے خدشات موجود تھے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خوف سے اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنے والے سیکس ورکرز اس میں شرکت نہیں کریں گے لیکن اس ورکشاپ کے اختتام پر ایک سو سے زیادہ سیکس ورکرز کی شرکت سے ہماری حوصلہ افزائی ہوئی ہے جو ہماری امیدوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ جن سیکس ورکرز نے یہ آگاہی حاصل کی ہے وہ اپنے ساتھ کام کرنے والی دوسری ورکرز کو بھی اس طرف راغب کریں گی انہوں نے کہا اس ورکشاپ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے گلی ورکشاپ لاہور میں منعقد کی جائے گی اور پھر اس موضوع پر قومی کنونشن منعقد کروانے کا ارادہ بھی ہے جس میں ملک بھر سے سیکس ورکرز کو مدعو کیا جائے گا جب سے افغانستان میں امریکی اور یورپین فوجوں نے ڈیرے ڈالے ہیں اور کابل میں ڈالروں کی بھر مار کے علاوہ کلب قائم ہوئے ہیں تب سے امریکہ ،مشرقی یورپ،یورپ
اور دوسر ریاستوں کے سیکس ورکرز نے کابل کا رخ کر لیا جسم فروشی سے متعلق کام کرنے والی ایک تنظیم کے رکن نے بتایا پاکستان میں غربت اور افلاس کے مارے لوگ کئی سالوں سے مہنگائی کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں جس کے اثرات نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں ضروریات زندگی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے امیر اور غریب کے درمیان خلیج تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے نوجوان لڑکے چوری چکاری اور ڈاکے کی طرف راغب ہو رہے ہیں تو غریب خواتین اپنے حالات بدلنے اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے جسم فروشی کا دھندہ اختیار کر رہی ہیں دن بدن اس پیشے سے وابستہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے انہوں نے یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس کے مطابق پاکستان ایشیا مں غربت کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر تھا اور دنیا میں ایک سو ایک ویں نمبر پر پچھلے سال تک بیروزگاری کی شرح 55فی صد اور بے روز گار افراد کی تعداد 29لاکھ تھی ملک کی 22.6فی صد آبادی یومیہ سوا ڈالر سے کم آمدنی پر گذارا کر رہی ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے سات ممالک میں سے پاکستانی عوام کو بد ترین مہنگائی کا سامنا ہے جس کے باعث عوام کے لیے زندگی کی گاڑی چلانا مشکل یا ناممکن ہوتا جا رہا ہے یہ کام کرنے والی لڑکیاں زیادہ تر لاہور کے گرد و نواح مرید کے،پتوکی،قصور ،شرقپور وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں رات بھر رکھا جا سکتا ہے یہ موبائل سیکس ورکرز کی ایک قسم ہے جو بیرون ملک جانے کے لیے بھی تیار ہوتی ہیں ان میں زیادہ تر فلم انڈسٹری سے تعلق رکھتی ہیں جیسے اب گرمیوں کی آمد آمد ہے گرمیاں شروع ہوتے ہی تفریحی مقامات کے لیے بکنگ شروع ہو جاتی ہے جبکہ بیشتر گروپ اپنی سیکس ورکرز کے ساتھ ہی وہاں منتقل ہو جاتے ہیں سرکاری اداروں اور نیم سرکاری دفاتر میں جسم فروشی کے حوالے سے ذرائع نے بتایا نہ صرف دیگر اداروں میں بلکہ لاہور پولیس میں بھی سیکس ورکرز موجود ہیں لیڈی پولیس کی کچھ اہلکار اس دھندے میں ملوث ہیں پولیس ذرائع کے مطابق لیڈی پولیس انسپکٹر شافیہ بخت کو اس کاروبار کا سر غنہ کہا جاتا ہے جس نے مبینہ طور پر دو لیڈی پولیس کانسٹیبلز کو ڈیوٹی کے بہانے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ایک بلڈنگ افسر رانا شفقت شہزاد کے پاس بھیجا جب رانا شفقت اور اس کے ساتھیوں نے ان کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ان لڑکیوں نے مزاحمت کی جس پر انہیں چھوڑ دیا گیا اور اس شرط پر جانے دیا گیا کہ وہ معاملے کو اچھالیں گی نہیں تاہم لیڈی کانسٹیبلز نے ان افراد کے خلاف تھانہ سبزہ زار میں درخواست دے دی اور ایس ایچ او نے اس واقعہ کی اطلاع اعلی حکام تک پہنچائی جس پر لاہور پولیس کے آپریشن انچارج شفیق احمد نے جنسی دھندے میں ملوث ہونے کے الزام میں انسپکٹر شافیہبخت سمیت چار کانسٹیبلز کو نوکری سے معطل کر دیا ایک سیکس ورکر رخشندہ نے بتایا کہ اس دھندے سے معقول آمدنی ہو جاتی ہے لیکن کبھی کبھار ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں کہ اس دھندے کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہنے کو دل کرتا ہے مثلا ایک لڑکی ایک نے بک کی لیکن وہاں جا کر پتہ چلتا ہے سات آٹھ لوگ ہیں جو نہ صرف تشدد کرتے ہیں بلکہ ایسے جنونیوں سے بھی واسطہ پڑ جاتا ہے جو لڑکیوں کے جسم سیگریٹ سے داغتے ہیں
اور زبردستی شراب بھی پلائی جاتی ہے ۔ہیرا منڈی لاہور کی طوائفوں کی تنظیم کے ایک سابق رکن نے بتایا لاہور میں موجودہ بازار سینکڑوں سال قبل قائم ہوا اس بازار میں شاہی درباری ،وزرا،اور امرا اپنے بچوں کو تربیت کے لیے بھیجا کرتے تھے یہاں پر گیت اور رقص کی محفلیں سجتیں جبکہ جسم فروش عورتیں ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع موجودہ لنڈے بازار میں رہا کرتی تھیں یہ بازار سکھوں کے دور حکومت تک قائم رہا سکھا شاہی کے دوران اس بازار میں بیٹھی چند خواتین کی وجہ سے ہندو مسلم فساد ات ہوئے تو کشمیر کے مسلمان راجہ نے لنڈا بازار کی تمام عمارتیں خرید لیں اور یہاں سے تمام افراد کو نکال دیا گیا یہ تمام خاندان پرانی انارکلی کے علاقے میں منتقل ہو گئے انگریز دور حکومت میں یہاں قائم ہونے والی فوجی بیرکوں کی وجہ سے انہیں وہ علاقہ بھی چھوڑنا پڑا تو یہ ہیرا منڈی منتقل ہو گئے جہاں ان کا دھندہ پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہا مگر جب جنرل ضیا الحق کے دور میں بازار حسن کو بند کر دیا گیا تو یہاں پر ہر قسم کی پرفارمنس ممنوع قرار دے دی گئی تب یہ خاندان ایک مخصوص علاقے سے نکل کر شہر میں کئی جگہوں پر شفٹ ہو گئے اب یہ ہیرا منڈی پورے شہر میں پھیل چکی ہے اب نہ صرف لاہور ،فیض آباد ،پتوکی اور حیدر آباد کے بھی کئی خاندان یہاں منتقل ہو چکے ہیں پیپلز لائر فورم لاہور کے صدر شاہد حسین ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ جسم فروشی ایک قدیم پیشہ ہے اس کی سب سے بنیادی وجہ انسان کے اندر موجود حیوانی جبلت اور نفسانی خواہش ہے اس پیشے کو جہاں بعض لوگ اپنی مرضی سے اپناتے ہیں وہاں پر خصوصا تیسری دنیا کے ممالک میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جنھیں جبر و استحصال کے سبب اس پیشے میں شامل ہونا پڑتا ہے اس کی دیگر وجوہات میں تعلیم کی کمی ،غربت ،دولت کی غیر مساویانہ تقسیم اسلامی تعلیمات سے دوری ،طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح،
خواتین پر بے جا تشدد ،قانون کی عدم حکمرانی ،ڈش اور انٹر نیٹ تک ہر خاس و عام کی رسائی اس کی سب سے بڑی وجوہات ہیں انہوں نے بتایا کہ امتناع زنا حدود آرڈیننس 1979کے تحت بطور سیکس ورکرز اپنی خدمات پیش کرنا جرم ہے جبکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 377کے تحت لڑکوں سے سیکس کرنا بھی جرم ہے انہوں نے بتایا کہ سیکس ورکرز کے متعلق ہر ملک کے اپنے ضابطے اور اصول ہیں کچھ ملکوں نے انہیں قبول کر کے ان سے متعلق قانون واضح کر لیے اور انہیں کچھ حقوق بھی دیے جبکہ دیگر ممالک میں سخت سزائیں موجود ہیں مگر قانون کی عدم موجودگی یا موجودگی کی پرواہ کیے بغیر اس پیشہ سے متعلق افراد تمام دنیا میں موجود ہیں ۔بحر حال لاہور پولیس کی جنوری 2010کی رپورٹ میں دیے گئے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان بھر کراچی اور لاہور میں جسم فروشوں کی تعداد اور قحبہ خانوں کی تفصیل کچھ اس طرح ہے پاکستان میں کل تعداد پندرہ لاکھ سے زائد،کراچی میں ڈیڈھ لاکھ سے زائد ،لاہور میں ایک لاکھ سے اوپر جسم فروش لڑکے تیس ہزار سے زائد سیکس ورکرز کی آمدنی بالترتیب خواتین اور لڑکیاں پچیس سے تیس ہزار روپے ماہانہ جبکہ جسم فروش لڑکے پچاس سے ستر ہزار روپے ماہانہ لاہور میں قحبہ خانے 445ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں 128صدر میں 96سٹی میں 75اقبال ٹاؤن میں 52سول لائن میں 52اور کینٹ ڈویژن میں
42جبکہ 19موبائل قحبہ خانے بھی شامل ہیں !
( یہ تحریر مضمون نگارہ کی ذاتی ریسرچ ہے اس سے نیلاب ڈاٹ کام کا متفق ہونا ضروری نہیں . ادارہ

حصہ