کلُور سے کٙراچی – کراچی گردی

173

     سفر نامہ

   مبشر مہدی اشہر

قارئین ِ محترم ! جس طرح لونگ اور لاچی دونوں ” لام ” سے شروع ہوتے ہیں اسی طرح کلُور اور کراچی میں بھی یہ مماثلت پائی جاتی ہے کہ دونوں” کاف” سے شروع ہوتے ہیں ۔
کافی عرصہ پہلے مسرت نذیر کا لونگ پاکستان میں گواچ گیا تھا ، مجھے شک پڑتا ہے کہیں یہ وہی لونگ انڈیا والوں کو تو نہیں مل گیا ۔لیکن مسرت نذیر کے گواچے لونگ کے ساتھ لاچی نہیں تھی ، یہ لاچی ساتھ پرافٹ میں مل گئی۔یا لاچی لونگ کے ساتھ فِٹ ہو گئی ہے۔ لیکن بھائی یہاں تو لاچی ہی گواچ گئی اور وہ بھی لونگ کے پیچھے۔ “یک نہ شُد دو شُد ” تو اب دو چیزیں ڈھونڈنی پڑیں گی ۔لونگ بھی اور لاچی بھی ۔یہ اور بات ہے کہ ” توں لونگ وے میں لاچی” لکھنے والے کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بات اتنی دُور نکل جائے گی اور لوگ اسے کلُور سے کراچی تک لے جائیں گے ۔
کافی سالوں سے مصروفیات نے گھر سے نکلنے نہیں دیا اور اگر کہیں گئے بھی سہی تو مُشاہدات کو نظر سے قلم تک کی رسائی نصیب نہ ہو سکی ۔اور اب کی بار کھیوڑہ کی طرف نکلے تو پھر مُڑ کر نہیں دیکھا۔اور بات نظر کے مشاہدے سے قلم کے ذریعے اظہار تک جا پہنچی ۔ابھی کھیوڑہ گردی کی گرد نہیں بیٹھ پائی تھی کہ ہمارے ایک دیرینہ مہربان نے کراچی گردی کی دعوت دے ڈالی۔اگرچہ وہ پچھلے سال بھی اِصرار کرتے رہے لیکن ہمیں مصروفیات سے سر کھُجانے کی فرصت نہیں ملی اس لیے معذرت کر لی۔اگرچہ مصروفیات کا تسلسل ہنُوز ویسے ہی ہے لیکن ان کے اصرار پر ہمیں ہتھیار ڈالنے پڑے۔
سو جانے کا پروگرام طے ہوا ۔یہ الگ بات ہے کہ ان کا پروگرام بدلتے دیر نہیں لگتی اور ہم نے ہمیشہ ان سے متعلقہ پروگرامز کو بدلتے ہی دیکھا ہے ۔
” جب تک ٹکٹ لے کے گاڑی میں نا بیٹھ جائیں بات پکی نا سمجھیں ۔سفر کے اِلتوا کا خطرہ سر پر منڈلاتا ہی رہتا ہے۔” ہمارے پروگرام سے آگاہ ہو کر ایک مُشترکہ دوست نے اظہار ِ خیال کیا۔
اس مرتبہ بھی روانگی کا پروگرام پہلے 11 جولائی کی شام کا تھا جو حسبِ سابق ملتوی ہو کر 12 کی صبح 6:30 تک جا پہنچا۔کہ یہاں سے مُلتان اور پھر وہاں سے بزنس کلاس ٹرین کے ذریعہ کراچی۔ رات کو حفظ ِ ماتقدّم کے طور پر صبح جلد اُٹھنے کے لیے الارم کا سہارا لیا۔ضرورت کا سارا سامان پیک کیا ۔صبح تیاری کے بعد گھر سے نکلنے سے قبل اطمینان ِ قلب کے لیے ایک مرتبہ پھر کال کی ،ان کی طرف سے جواب آیا ” ہم گھر سے نکل رہے ہیں” تب جا کے میں نے “شُکراً لِلّہ ” کہا اور گھر سے نکل پڑا ۔سیدھا رانا جہانزیب سروس کے سر پر ۔
ٹکٹ لی،گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی چل پڑی ۔

بس سٹاپ پر دیر سے آنے سے یہ نقصان ہوا کہ ہمیں سیٹ ذرا پیچھے ملی۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں دیر سے آنا علامہ اقبال رح کے علاوہ کسی اور کے لیے آج تک فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکا۔ کیوں کہ زمانہ طالب علمی ہی سے ہم نے بھی بہت کوشش کی کہ علامہ اقبال کی دیر سے آنے والی بات کو اپنا لیا جائے، شاید اس طرح اقبال کا کوئی اثر ہم پربھی پڑ جائے لیکن اور تو کچھ نا ہوا البتہ دیر سے آنے پر ہمیشہ ماسٹر صاحب سے سزا ہی مِلتی رہی اور ہم ہاتھ مَلتےرہے۔ اور رہی بات اس مُحاورے “دیر آید درُست آید ” کی تو میرے خیال میں یہ بولا ہی وہاں جاتا ہے جہاں سکول نا ہو۔
اور میرے مشاہدے کے مطابق تو کسی دیر سے آنے والے کوآج تک کسی نے نہیں سراہا بلکہ اُلٹا اسے اُلٹی سیدھی سُنائی جاتی رہی ہیں۔ شاید آپ کا مُشاہدہ کچھ اور ہو لیکن اس کا مُجھے تو کُچھ فائدہ ہونے والا نہیں۔
البتہ منیر نیازی صاحب کا ” ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ” اپنی الگ حیثیت رکھتا ہے۔کہتے ہیں کہ انھوں نے بیگم کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد ہی دوسری شادی کر لی ۔اور اس کے بعد کسی مشاعرے میں جب انہوں نے یہی پڑھنا شروع کیا کہ ” ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ” تو پیچھے سے آواز آئی ” ویاہ کرن لگے تاں تُسی کوئی دیر نئیں کیتی جے “۔
گاڑی ابھی کلُورکوٹ سے نکل رہی تھی کہ گیٹ سے ایک دوست سوار ہوا اس نے دُورسے ہی مجھے دیکھا تو وہیں سے ہاتھ اوپر اُٹھا کے آواز دی پروفیسر صاحب!سلام!
( دراصل کثرت ِ مطالعہ کی وجہ سے ہر موضوع پر بولنا، بحث کرنا اور ہر محفل میں گفتگو میں ٹانگ اڑا کے اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کی وجہ سے احباب ہماری علمیت کے قائل تو تھے ہی لیکن پبلک سروس کمیشن سے سبجیکٹ سپیشلسٹ سلیکٹ ہونا سونے پر سہاگہ ثابت ہوا اور قریبی دوست ہماری قابلیت کے اتنے معترف ہوئے کہ پروفیسر کا لقب دے ڈالا۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے اس اعتراف اور لقب پر ابھی تک ہم خود مطمئن نہیں ہوئے اور نا ہی کوئی انجان آدمی)۔ اُن کی اِس آواز پر میرے اِرد گِرد بیٹھے افراد نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن کسی پروفیسر نُما چیز کو نہ پا کر تھوڑا حیران ہوئے ۔اِس سے پہلے کہ وہ کُچھ اور کہتا میں نے صورت ِ حال کو بھانپتے ہوئے جواباً ہاتھ ہِلا دیا ۔ میرے ہاتھ ہِلانےاور سلام کا جواب دینے پر ایک دو آدمی نے کچھ اس طرح مجھے دیکھا جیسے دل ہی دل میں کہ رہے ہوں، ہُونہہ۔۔۔! ” یہ مُنہ اور مسُور کی دال “۔
جیسے ہی دوران ِ سفر میں سیٹیں آگے خالی ہوئیں کنڈکٹر نے ہمیں آگے بُلا لیا ۔اور پھرپنجگرائیں سے گزرتے ہوئے پنجگرائیں اور اس کے مضافات سے وابستہ کچھ دیرینہ یاد ِیں تازہ ہو گئیں ، میرے تعلیم و تدریس کے کچھ سال یہیں بسر ہوئے ہیں۔ میرے بہت سے عزیز دوست اور شاگرد پنجگرائیں اور اس کے مٙضافات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن کا ذکر طوالت کا باعث ہوگا ۔ جامعہ نقویہ میں،علامہ طاہر حسین ترابیؔ صاحب مرحوم کے زیرِ سایہ چند برس زیر ِتعلیم رہا۔ان کا مدفن بھی پنج گرائیں کا قبرستان میں روضہ کے دیوار کے سائے میں ہے ، جناح پبلک سکول میں، سر منظر عباس، سر طارق حسین و سر ساجد مرحوم کے ساتھ گزرا وقت بلا شُبہ زندگی کے قیمتی اور یادگار لمحات تھے ۔لیکن مُجھے کبھی یہ شعر پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ 
یاد ِ ماضی عذاب ہے یارب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اب حال میں دیکھیں تو عزیز دوست و نوجوان شاعر “شعیب صدیقی” کی جنم بھُومی بھی پنجگرائیں ہی ہے۔ پنجگرائیں کے بازار میں سیوریج کے پانی کی وجہ سے ٹوٹی پھُوٹی سڑک کا دیرینہ مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے۔ سیوریج کی لائن کے بچھانے کے دوران سڑک کو اکھاڑا گیا لیکن پھر دوبارہ بنایا نہیں گیاہے ۔
گاڑی بھکر سے روانہ ہوئی اور سرائے مہاجر سے نکلی تو فتح پور ضلع لیہ کی حدود تک جوٹوٹے پھوٹے ایم ایم روڈ پر گاڑیوں اور ان میں موجود سواریوں کا حشر ہوتا ہے الامان۔۔۔۔ چاہے نوانی برادران ہوں یا ڈھانڈلہ دونوں نے اپنے دورانیے میں اس کی طرف مُطلٙق توجہ نہیں دی اور آج بھی ہر جمپ در جمپ پر گالیوں سے ان کو یاد کیا جاتا ہے۔
(جاری ہے )۔

حصہ