ادبی دنیا

منفرد انداز کی شاعرہ "ردا” کاتازہ کلام

ڈاکٹرردا فاطمہ

جاہلوں سے کوئی کلام نہیں
عادتوں میں یہ اہتمام نہیں

میں نِمٹ لوں برستے بادلوں سے
کچی بستی میں پکّے بام نہیں

اے سخن کے خدا ! کہاں ملے گا ؟
اِذن دے !! شاعری حرام نہیں

میں تخیل کے دشت میں رہوں گی
کہ حقیقت یہاں دوام نہیں

زندہ رہنا ضروری ہو گیا ہے
خود کشی! تُو مرا مقام نہیں

کِس قدر تم غضب سے دیکھتے ہو
ہاں مگر اِس میں احترام نہیں

اے جہاں! میرے راستے میں نہ آ
سوچ کی حد ہے اختتام نہیں

————————————————————————–

خسرو اٹھے غالب گزرے بزم سے اب نغمات گئے
زہر کا پیالہ کون پیے گا عالم سے سقراط گئے

حبس کا پہرا اندر بیٹھا دل سے سب حضرات گئے
ماپ سکیں احساس کو جو وہ دنیا سے آلات گئے

سبزہ جنگل پربت دریا روہی رب نے کھول دیے
مسجد کھولو مندر کھولو گرجے کھولو رات گئے

ایک ہی جیسا شعر کہیں گے حسن پہ داد بٹوریں گے
پہلے نازل ہوتے تھے اب برکت کے جنات گئے

نطشے نے بھی آخر آدم کو کہہ ڈالا سوپر مین
یوں دعوی کرکے عہدہ لینے والے بہتات گئے

جنسی حسد کی آگ میں جل کر باپ نے بیٹا قتل کیا
پاک کیے تھے عمر نے رشتے , لمحوں میں جذبات گئے

میں درگاہ پہ تجھ سے ملتی حق سے رکھتی عکس ترا
تیرے چرنوں میں رہتی, پر ایسے بھی حالات گئے

———————————————————————

ہر مصیبت اُگا گئی مجھ کو
آہنی زن بنا گئی مجھ کو

وقت کا تیر تھا نشانے پر
دوربینی بچا گئی مجھ کو

خاص ترکیب کی بُنَت میری
عام چہرے دکھا گئی مجھ کو

دو رُخی بات کرنے سے پہلے
یک رخی سچ دکھا گئی مجھ کو

آرٹ میں مصلحت نہیں ہوتی
گوتمی رَگ بتا گئی مجھ کو

میرے اندر خلا سفر میں ہے
مرکزی حِس نبھا گئی مجھ کو

کائناتی بہاؤ جاری ہے
رائگانی سکھا گئی مجھ کو

آپ کی تہمتیں اکارت ہیں
بے بسی ہی ڈرا گئی مجھ کو

درحقیقت سرابوں میں بھٹکی
اِک چمک چندھیا گئی مجھ کو

Back to top button