تحریر عابد ایوب اعوان

امریکی سابق سفیر ، ماہر تجزیہ کار سی آئی اے اور پاکستانی سیاست پر گہری نگاہ رکھنے والی رابن رافیل نے پاکستان کی انتہائی اہم جغرافیائی اہمیت اور پاکستان کو دنیا کی چھٹی بڑی فوج رکھنے والے ملک کی بنیاد پر صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی میں پاکستان کے ساتھ نئے طریقے سے نمٹنے کی حکمت عملی پر امریکہ کو خبردار کر دیا ہے کہ امریکہ پاکستان کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ افغانستان کی صورت حال کے باعث امریکا کو پاکستان کے ساتھ قابل عمل تعلقات رکھنے چاہئیں ۔

ٹرمپ باولہ ہو گیا ہے جو شکست خوردہ امریکہ کے ہاتھوں پاکستان سے جنگ کرکے پاکستان کو تسخیر کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ ٹرمپ کے لیئے صرف اتنا ہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ “ٹرمپو میٹھا میٹھا بول” اور پاکستان سے ٹکر نہ ہی لے تو اچھا ہے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب امریکہ دو لاکھ کے قریب نیٹو فورسز کے ساتھ ملکر افغانستان میں فتح حاصل نہ کر سکا تو اب نیٹو کی مدد کے بغیر چند ہزار امریکی آکر پاکستان سے نئے طریقے سے نمٹ کر کیا تیر چلا لیں گے؟
جب کراچی سے لیکر خیبر تک ملک کے چپے چپے پربکھرے کوئی تقریبا ایک لاکھ کے قریب ٹی ٹی پی، بی ایل اے، القاعدہ اور ایم کیو ایم کے دہشت گرد ملکر پاکستان کو کمزور نہ کر سکے تو اب ان کے بچ جانے والے چند سو کارندے کیا کر لینگے؟
سابق امریکی صدر جارج بش کی پاکستان پر حملے کی دھمکی اس وقت واقعی ایسا کر سکتی تھی کیونکہ تب پاکستان کے پاس آپشنز محدود تھے۔ پاکستانی میزائل کی رینج صرف چند سو کلومیٹر تک تھی۔ چین تب نہ اتنی بڑی معاشی منڈی تھا نہ چین دفاعی میدان میں اتنا طاقت ور تھا۔ پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات کی نوعیت اسطرح نہ تھی۔
خطے میں کوئی خاص امریکی فورسز اور اڈے موجود نہیں تھے ( پاکستانی میزائلز ٹیکنالوجی میں ترقی کے بعد امریکہ ان اڈوں کو اپنی طاقت نہیں کمزوری سمجھئے)۔ بلاشبہ اس وقت امریکہ اپنے جوبن پر تھا۔ افغان اور عراق جنگ نہیں چھڑی تھی۔
مگر اب حالات وہ نہیں رہے حضور ۔
اب پاکستان کا تیمور مزائل 17 ہزار کلومیٹر کی پرواز کر کے براہ راست واشنگٹن ڈی سی، نیویارک اور پینٹاگان کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
پاکستان چین اور روس کے ساتھ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے دفاعی اتحاد میں شامل ہوچکا ہے (چین نے فوراً ٹرمپ کے بیان پر ردعمل بھی دکھایا ہے)
خطے میں موجود تمام امریکی فورسز اور ان کے اڈے پاکستانی میزائیلوں کے براہ راست نشانے پر ہیں جہاں ان کے پاس کوئی مزائل ڈیفنس شیلڈ بھی نہیں۔ پاکستان کے میزائل حملے کے بعد ان میں کوئی ایک بھی امریکی سپاہی زندہ بچ گیا تو معجزہ ہی ہو سکتا۔
آج امریکہ اور اسکی افواج شکست خوردہ حالت میں ہیں اور امریکہ کی معاشی کمر تقریبا ٹوٹ چکی ہے۔
جبکہ دوسری طرف تمام تر جنگوں کے باوجود حیران کن انداز میں پاک فوج نے اپنی طاقت بڑھائی ہے۔ ایک دو مثالیں پیش خدمت ہیں۔
جب امریکہ نے سٹیلتھ ہیلی کاپٹروں سے دنیا کو ڈرایا ( جو ریڈار پر نظر نہیں آتے)
تب پاکستان نے حتف 7 (بابر) میزائل کا تجربہ کیا جو سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے اور ریڈار پر نظر نہیں آتا۔
امریکہ نے غالباً ٹنگسٹن کاربائٹ ( دنیا کی سخت ترین دھات ) سے بنے ٹینک اتار کر عراقی افواج کو حیران کر دیا تھا ( ان ٹینکوں پر عراقی افواج کے تمام ہتھیار غیر موثر ثابت ہوئے تھے )۔
پاک فوج کے انجنیرز نے جواباً تھوڑے ہی عرصے میں ٹینک تو نہیں بنائے البتہ اسی دھات کے ایسے گولے ضرور بنا لیے جو ان امریکی ٹینکوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔
امریکہ نے پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی دینے سے انکار کیا تو پاکستان نے اگلے ایک سال میں براق نامی اپنے ڈرون تیار کر لیے جو نہایت درستگی کے ساتھ دشمن کو نشانہ بھی بنا سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ہرزہ سرائی کے بعد پاکستان کو فوراً کچھ اقدامات کر لینے چاہئیں جن میں سب سے پہلے پاکستان فوراً شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں شامل اہم ترین شق ” مشترکہ دفاع” کو نافذالعمل کرائے جس کے مطابق پاکستان پر حملہ روس اور چین پر حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان روس اور چین کے ساتھ ملکر ” دہشت گردی ” کی ایک عالمی تعریف وضع کرنے کی کوشش کرے۔ تاکہ اصل دہشت گردوں کا تعین ہوسکے اور جنگ آزادی اور دہشت گردی میں فرق واضح ہوسکے۔
حکومت پاکستان اعلان کرے کہ پاکستان میں کوئی ڈرون داخل ہوا تو نہ صرف گرایا جائیگا بلکہ افغانستان میں جوابی حملہ بھی کیا جائیگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بات ذہن میں بٹھا لینی چاہیئے کہ جن 10 ارب ڈالر کی امداد پر وہ اتنا اچھل کود کر شور مچا رہا ہے اتنے تو ہر سال صرف سعودی عرب میں مقیم پاکستانی بھیجتے ییں۔ ہاں البتہ پاکستان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ امریکہ نے ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کی ہے جس نے نہ صرف پاکستان کو کم از کم 50 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے بلکہ ہزاروں پاکستانی فوجی اور لاکھوں پاکستانی عوام اپنی قیمتی جانوں کے نزرانے بھی پیش کر چکے ہیں۔ پاکستان امریکہ سے اس کا تاوان طلب کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ شائد کوئی ریسلنگ کا میچ سمجھ رہا ہے اور وہ بھی نقلی ۔ ٹرمپ کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ پاکستان کے بغیر اس خطے میں وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا چاہے ہندوستان سے جتنی مرضی پینگیں بڑھانے کے شوق پورے کرلے۔
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ آج تک امریکہ نے دنیا بھر میں جتنے بھی جنگی جنون کیئے ہیں ان میں اسکی اپنی عوام ہزاروں میل دور بیٹھ کر صرف چین کی بانسری ہی بجاتی رہی ہے۔ مگر اگر پاکستان سے کسی بھی قسم کا جنگی جنون کرنے کی کوشش کی گئی تو ان شاءاللہ امریکی عوام اور خواص براہ راست اس جنگ کا مزہ چکھ لیں گے۔ اس سب کچھ کے باوجود پھر بھی امریکہ کو پاکستان کے ساتھ کسی قسم کا جنگی ایڈوانچر کرنا ہے تو ست بسم اللہ پاکستان حاضر ہے۔

حصہ