SOFT IMAGE پیدا کرنے کا واحد راستہ تحریر: سہیل احمد اعظمی
دنیا بھر میں رائیونڈ کی پہچان دعوت و تبلیغ کے اس کام کے مرکز کی وجہ سے ہے جو آج دنیا کے ہر ملک کی گلی، کوچوں، بازروں، ریگستانوں، جنگلوں، ایوانوں، تعلیمی اداروں، کھیل کے میدانوں، دفاتر میں زو رو شور سے جاری ہے۔ امت محمدیہ ؐ کو حضور ؐ نبوت کے صدقے میں جو اہم ذمہ داری قیامت تک آنے والی انسانیت کی رہنمائی اور اصلاح و بھلائی کی صورت میں سونپی گئی ہے اس سے ایک محتاط اندازے کے مطابق 25کروڑ سے زائد مسلمان وابستہ ہیں۔ جسکا نہ کوئی تشہیری شعبہ ہے اور نہ ہی چندے کاکوئی عنصر ان میں موجود ہے۔ اپنی کامیابیوں کو عام انسانوں کو بتانے سے گریز کرتے ہیں کیوں کہ ریاکاری، دکھلاوا، نمو د و نمائش سے بچنا اس کا ایک اہم رکن بلکہ اسلام میں ریاکاری سے عمل کرنے والے کو اوندھے منہ گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالاجائے گا۔ رائیونڈ کا شہر جو لاہور سے 25میل کے واصلے پر ضلع قصور روڈ پر واقع ہے پہلے ایک چھوٹا سا قصبہ ہوا کرتا تھا لیکن یہاں پر موجود تبلیغی عالمی مرکز کے باعث اس شہر کی قسمت تاحال دینی لحاظ سے تو نہیں جاگی کیونکہ چراغ گلے اندھیرا کے مصداق یہاں کے مقامی لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہم ذمہ داری سے اسطرح وابستہ نہیں ہوسکے ہیں جسطرح سے دیگر علاقوں کے لوگ ہوئے ہیں لیکن کاروباری لحاظ سے ان کی قسمت جاگی ہے۔ رائے ونڈ شہر میں ہزاروں کی تعداد میں روزانہ اندرون و بیرون ملک اللہ کے دین کی محنت کرنے والوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے جسکے باعث ایک تو یہاں پر جائیداد کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے دوسرے لاہور سے رائیونڈ تک بیشما رانڈسٹریز اور کالونیاں وجو دمیں آچکی ہیں۔ بحریہ ٹاؤن، شریف ہسپتال، جاتی امراء بھی رائے ونڈ روڈ پر واقع ہیں۔ دنیا بھر میں رائے ونڈ مسلمانوں، نو مسلموں کیلئے ایک جذباتی لگاؤکا مرکز ہے۔ جہاں اگر ہماری حکومت ویزوں کی پالیسی میں نرمی کرے تو اتنے غیر ممالک سے مسلمان دین سیکھنے او رپھر اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے آجائیں جسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ظاہر ہے مسلمان اپنے ساتھ زر مبادلہ بھی لائیں گے ان کے باعث ہمارا کاروبار زندگی بہتر ہوگا۔ زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہماری ادائیگیوں کے توازن میں بھی بہتری آئے گی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہا۔ ہماری حکومت عقل و دانش کے فیصلوں سے عاری ہے۔ ہمارے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کی جو جنگ ہم نے اپنے سر تھونپی ہے اسکے باعث سیاحت کا شعبہ گذشتہ کئی عشروں سے تقریبا ختم ہے۔ کوئی یہاں آنے کو تیار نہیں۔ حتی کے ہمارے کھیل کے میدان ویران پڑے ہیں۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ یہاں نہ ہوسکا۔ کرکٹ، ہاکی، سکوائش و دیگر کھیلوں کی سیریز مقابلے منسوخ کردی گئیں۔ لے دے کر اللہ کے دین کی ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے یہاں لوگ دین اور اس اہم کام کو سیکھنے کیلئے آنا چاہتے ہیں لیکن انہیں ہم آنے نہیں دیتے۔ دعو ت و تبلیغ کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں دیگر ممالک سے مسلمانو ں ہمارے مدارس میں بھی تعلیم حاصل کررہے تھے لیکن انہیں بھی ہم نے چلتا کیا اور بھارت نے ان کو اپنے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کیلے فورا َویزے جاری کررہا ہے۔ حالانکہ بھارت ایک مسلمان دشمن ملک ہے لیکن انہیں جب ان طالب علموں سے کوئی خطرہ نہیں ہے تو ایک مسلمان ملک پاکستان کو کیسے ہوسکتاہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کی اپنی کوئی پالیسی اور سوچ تو ہے نہیں وہ غیروں، اسلام دشمن عناصر جن میں یہو د و نصاری قابل ذکر ہیں کی زبان بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس دہشت گردی پھیلارہے ہیں۔ ہم نے سر تسلیم خم کرکے مدارس کے خلاف اندھی کارروائیاں شروع کردیں۔ تبلیغی مراکز کے خلاف بھی یہو د و نصاری کوئی بہانہ ڈھونڈرہے ہیں لیکن انہیں کوئی ہاتھ نہیں آرہا۔ رائے ونڈ تبلیغی مرکز کو دنیا بھر کے مسلمان جس قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسکا ادراک ہمیں نہیں ہے وہ یہاں آکر پاکستان میں چند ایام جن میں چلہ، چار ماہ شامل ہیں کو لگانااعزاز سمجھتے ہیں او رپاکستان سے جو جماعتیں دیگر ممالک میں سال، سات ماہ پیدل اور مستورات کی عرصہ 3ماہ کیلئے جاتی ہیں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں لیکن گھر کی مرغی دال برابر کے مصداق ہم اس اہم کام، مرکز، ذمہ داری کی قدر نہیں ہے جسکے باعث ہمیں بہترین امت، امتوں کا سردار نبی ؐ کو نبیوں کا سردار او رہمارے مذہب کو تمام مذاہب کا سردار بتایاگیاہے۔ آج مغربی ممالک میں پاکستان کی گرتی ہوئی ساکھ کو بہتر بنانے کیلئے ناچ گانوں اور صوفی ازم کے نام پر غل غپاڑہ کرنے والے وفود بھیجے جاتے ہیں۔ ہمارے حکمران ناچ گانوں کی محفلیں منعقد کرکے اور مخلوط طرز زندگی کو پروان چڑھاکر اس کوشش میں ہے مصروف ہے کہ شاید ہمارا Soft Image ابھر سکے جو ان کے بقول ہماری قدیم اسلامی اقدار کے باعث گرا ہوا ہے لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے ہمیں دنیا بھر میں مقام صر ف اور صرف اس کام کی بدولت ملے گا جو ہمارے نبی ؐ، ان کے رفقاء، تبعہ، تابعین، اولیائے کرام نے کیا یعنی اسلام کے زریں، کلمہ کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا۔ اسلام کے منافی ہم جو بھی کام کریں گے ا س سے ہمیں دنیا و آخرت دونوں میں ذلت و رسوائی کا سامنا ہوگا۔ ہمارے ملک کی ساکھ کو بحال کرنے اور اقوام عالم میں بلند مرتبہ دلوانے میں اسلام پر عمل درآمد کے ذریعے ہی سے کامیابی مل سکتی ہے۔ یہ کامیابی ہمارے صحابہ کرام اور ان کی پیروری کرنے والوں کو حاصل تھی۔ دنیا کے تین بر اعظموں تک ہماری حکومتیں پھیلیں 65لاکھ مربع میل تک کا علاقہ مسلمانوں کے زیر اثر آگیا۔ عدل و انصاف میرٹ کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ حکمران خادم او رعوام متقی پرہیزگار تھے۔ ہمارے طریقے دوسروں نے اپنا لئے۔ انہوں نے باطل و مذاہب کی تبلیغ شروع دن سے جاری رکھی ہم نے اسکو بھلادیا بلکہ اس کام کوکرنے والوں کے راستے میں روڑے اٹکانا شروع کیا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے لیکن اللہ کا فیصلہ اٹل ہے اللہ کے دین کی جو مدد کریگا اللہ اس کی مدد کرے گا اغیار کی پالیسیوں اور اصولوں پر چل کر ہم کبھی اپنی پہچان پیدا نہیں کرسکتے۔

حصہ