آئینہ
عالیہ جمشید خاکوانی
وہ وعدہ ہی کیا جو وفا نہ ہو
کہتے ہیں ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی ایک شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو اس نے ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو جو پھٹی پرانی باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا بادشاہ نے اس کے قریب اپنی سواری روکی اور دربان سے پوچھنے لگا تمہیں سردی نہیں لگ رہی ؟دربان نے جواب دیا بہت لگتی ہے حضور لیکن کیا کروں میرے پاس گرم وردی نہیں ہے اس لیے برداشت کرنا پڑتا ہے بادشاہ نے کہا اچھا میں ابھی محل میں جا کر تمھارے لیے اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں دربان خوش ہو گیا اور فرشی سلام پیش کیے اظہار تشکر بجا لایا ادھر بادشاہ جیسے ہی اپنے گرم محل میں داخل ہوا بھول گیا کہ وہ دربان سے کیا وعدہ کر آیا تھاصبح دروازے پر دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی قریب ہی مٹی پر اس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی ہوئی تحریر بھی ’’بادشاہ سلامت میں برسوں اس پھٹی پرانی وردی میں پہرہ دیتا رہا لیکن آج آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان لے لی ۔
زرداری کے ستائے عوام نے جب شریف برادران کے وعدوں پہ اعتبار کیا تو دربان کی طرح اب ان کا صبر چھن گیا ہے وہ زرداری کو سڑکوں پرگھسیٹنے اور حلق سے پیسے نکالنے کے وعدوں کو یاد کرتے ہیں تو ان کا غصہ سوا ہو جاتا ہے وہ ان کے اقتدار کا دبدبہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور الٹا اپنے لٹنے کا احساس انہیں پریشان کر دیتا ہے وہ سوچتے ہیں یہ تو کیا سے کیا ہو گئے اور عوام مزید پاتال میں چلی گئی صرف ایک رائے ونڈ محل کی کہانی پڑھ لو اقتدار کے اس کھیل میں شروع دن سے انہوں نے کتنا مال کمایا اور کس طرح کمایا ۔آئیے رائے ونڈ محل کی کہانی پڑھتے ہیں پھر ان جھوٹے وعدوں کی طرف آئیں گے ۔
رائیونڈ محل کا احاطہ 1700ایکڑ یا 13600کنال ہے اگر ارد گرد کی خریدی گئی زمین بھی شامل کی جائے تو تقریباً25000کنال سے زائد بنتی ہے یہاں جانے کے لیے ایک خصوصی گیٹ بنایا گیا ہے جس پر نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اور بیٹی مریم نواز کے نام بڑے بڑے حروف میں کندہ کیے گئے ہیں ،شاہی رہائش گاہ میں تین باورچی خانے ،تین ڈرائینگ روم، ایک سوئمنگ پول ،ایک فش فارم ،ایک چھوٹا سا چڑیا گھر اور ایک جھیل شامل ہیں اس علاقے میں میاں شریف نے جو زمین خریدی اس کو قومی خزانے سے پیسے خرچ کر کے جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا اس رہائشگاہ میں تقریباً پندرہ سو ملازمین ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ کروڑوں میں بنتی ہے نواز شریف جب دوسری بار وزیر اعظم بنے تو انہوں نے رائیونڈ کی تعمیر و آرائش کے لیے خصوصی توجہ دی تعمیرات کا یہ کام (FWO)فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو سونپا گیا اور ہنگامی طور پر اس کام کی تکمیل کے آرڈر جاری کیے گئے نواز شریف نے دوسری بار اقتدار حاصل کرنے کے فوراً بعد رائیونڈ کی رہائش گاہ کو کیمپ آفس کا درجہ دے دیا اور یوں وفاقی ادارہ پی ڈبلیو ڈی کو اس رہائش گاہ کے تمام اخراجات اور ترقیاتی پروجیکٹس کے اخراجات ادا کرنے کا پابند قرار دے دیا گیا وزیر اعظم کیمپ آفس کے علاوہ ادارے کو پابند کیا گیا کہ وہ وزیر اعظم کے دیگر عزیز و اقرب کی رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے اخراجات بھی وسیع پیمانے پر ادا کرے گا اس حوالے سے برطانیہ کے اخبار ’’سنڈے ٹائمز‘‘ میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں لکھا گیا تھا کہ رائیونڈ میں ہزاروں ایکڑ پر پھیلی ہوئی نواز شریف کی جائیداد ایک ایسے شخص کی جانب سے اپنی دولت کی بے جا نمود و نمائش ہے جو غریبوں کی زندگی بدل دینے کے مینڈیٹ کے ساتھ فروری 97میں برسر اقتدار آیا تھا شریف خاندان نے رائیونڈ کی زمین تیرہ کروڑ میں خریدی تھی اس سے قبل اسلام آباد سے ایک شاہی فرمان جاری ہوا یہ فرمان کمشنر لاہور ڈویژن کے نام تھا وزیر اعظم سیکٹریریٹ نے اس فرمان کے ساتھ کمشنر لاہور کو سرکاری خزانے سے پانچ کروڑ روپے جاری کیے تاکہ وہ شریف خاندان کی رائیونڈ میں واقع اس عالیشان رہائش گاہ کو لاہور سے جوڑنے والی سڑک کی حالت کو بہتر بنائیں فوری بعد ایک اور حکم نامہ جاری ہوا اور ساتھ ہی مزید رقم بھی جاری کی گئی اس بار کمشنر لاہور کے لیے حکم یہ تھا وہ ایک اور سڑک تعمیر کرائیں جو اتفاق کمپلیکس اور اتفاق فارم کے درمیان سے گذرے اور اس پروجیکٹ کے لیے چودہ کروڑ نوے لاکھ روپے اضافی ادا کیے گئے بہت شروع کے اقدام کے طور پر پی ڈبلیو ڈی کی طرف سے رہائش گاہوں اور وزیر اعظم کیمپ آفس کی تزئین و آرائش کے لیے آٹھ کروڑ روپے کی سمری وزیر اعظم ہاؤس بھیجی گئی جو چند لمحوں میں منظور ہو کر وذارت خزانہ پہنچ گئی اور اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر اس رہائش گاہ پر ترقیاتی کام شروع ہو چکا تھا ایک طرح سے یہ وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے کھلی جارحیت تھی کیونکہ ریاستی قوانین کے مطابق کسی کیمپ آفس پر مستقل نوعیت کی کوئی تعمیرات نہیں کی جا سکتیں لیکن ان تمام قوانین اور ضابطوں کو روند دیا گیا بعد ازاں شاہی فرمان کے ذریعے سوئی ناردرن گیس کو شریف فارم سے احکامات موصول ہوئے پہلا حکم نامہ یہ تھا کہ مذکورہ محکمہ فوری طور پر مرکزی گیس پائپ لائن شریف فارم سے منسلک کر دے اور اس کام میں کسی نوعیت کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے اس موقع پر خصوصی اہتمام کیا گیا کہ گیس کی سپلائی کے ساتھ کسی اور کو کنکشن نہ دیا جائے مقامی لوگوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی مگر ان درخواستوں کو رد کر دیا گیا ایک محتاط اندازے کے مطابق سات کروڑ روپے جو آجکل کے ستر کروڑ روپوں کے برابر ہیں خرچ کیے گئے وفاقی محکموں سے بھاری رقوم وصول کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ پنجاب حکومت کی طرف سے شروع ہوا وزیر اعظم کے بھائی وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے ضلع کونسل لاہور کو ایک حکم جاری کیا جس میں کہا گیا تھا ضلع کونسل فوری طور پر بیس فٹ کارپٹڈ سڑک تعمیر کرائے جو شریف فارم کے درمیان سے گذرے ضلع کونسل نے بھاری اخراجات کر کے یہ سڑک تعمیر کرا دی اس کے بعد ایک اور حکم جاری ہوا جس کے مطابق ضلع کونسل لاہور نے اڈا پلاٹ رائیونڈ سے شریف فارم تک نہر کے دونوں کناروں پر سڑک کو شریف فارم تک پہنچا دیا شریف فارم پر قومی خزانے سے بے تحاشہ اصراف سے صرف شریف فارم کے لیے تو ترقیاتی کام جاری رہا مگر ارد گرد کے دیہات کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا صرف شریف فارم سے مختلف سڑکوں کو جوڑنے کے لیے قومی خزانے سے بتیس کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ ملحقہ دیہاتوں میں اینٹوں سے بنی سڑکیں بھی نہ تھیں جس کی وجہ سے کسان اپنی زرعی مصنوعات منڈی تک پہنچانے کے لیے مشکلات میں تھے انہیں مرکزی پائپ لائن سے گیس کنکشن بھی نہ دیے گئے نہ ہی بجلی کے کنکشن دیے گئے شریف فارم کے ساتھ ہزاروں ایکڑ پر مشتمل زمین پر جوبلی ٹاؤن نامی سکیم کا اعلان کیا گیا حالانکہ حکومت پنجاب کی اعلان کردہ جوہر ٹاؤں اور سبزہ زار سکیم ابھی نامکمل تھی لیکن جوبلی ٹاؤن کا منصوبہ اس لیے بنایا گیا کہ شریف خاندان نے جو اراضی ارزاں نرخوں پر خرید کر قومی خزانے سے پیسے خرچ کر کے بہت قیمتی بنا لی تھی اس کو جوبلی ٹاؤن میں شامل کر کے اربوں روپے کمائے جا سکیں اس عظیم الشان منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 80دیہات کا پانی بند کر دیا گیا میاں شریف کے کہنے پر بچہ کہنہ نہر کا وہ حصہ جو شریف فارم سے گذرتا ہے اس کو نہایت مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ پختہ کیا گیا اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کام پر قومی خزانے سے 80ملین روپے خرچ ہوئے دوسرا حکم محکمہ انہار کے عملے کے لیے تھا جنھیں وزیر اعلی نے سختی سے کہہ دیا کہ اب اس خوبصورت اور پختہ نہر سے مقامی زمیندار پانی حاصل نہیں کر سکیں گے کسانوں کو پانی لینے سے روک دیا گیا جس کی وجہ سے ان کی تیار فصلیں سوکھ گئیں اور ان کے مال مویشی پانی کو ترس گئے جب انہوں نے اس ظلم کے خلاف احتجاج کرنا چاہا تو پنجاب پولیس کے جوانوں کو حکم دیا گیا جنھوں نے نہتے کسانوں کی خوب مرمت کی واضح رہے کہ اس شاہی حکم سے پہلے اس نہر سے 80دیہات پانی حاصل کرتے تھے اور اس سے لاکھوں ایکڑ اراضی سیراب ہوتی تھی (سید عبید مجتبی کی کتاب ’’شریف خاندان نے پاکستان کو کس طرح لوٹا ‘‘ سے اقتباس۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ لوٹ مار اب بھی جاری ہے اربوں کی جائیدادیں باہر بنا لیں مگر لندن کی سڑکوں پر دھکے کھانے کے بعد کل جب بادشاہ سلامت پاکستان پہنچے تو ان کے پروٹوکول کے قافلے میں پچاس گاڑیاں شامل تھیں جن میں 18گاڑیوں میں سیکورٹی اہلکار اور کمانڈوز تھے (انکو خطرہ عوام سے تھا)7گاڑیاں پروٹوکول سٹاف کے لیے 6ایمبولینسس,2فائر برگیڈ کی گاڑیاں،8گاڑیاں صوبائی انتظامیہ کے اہلکاروں کی 7بلٹ پروف گاڑیاں جو وزیر اعظم کی ریپلیکا ہوتی ہیں تاکہ کسی کو اصل گاڑی کا علم نہ ہو سکے اور دو گاڑیوں میں ذاتی سٹاف شامل تھا یہ ہیں ہمارے عوامی نمائندے جو بیس کروڑ عوام کی نمائندگی کا دعوی کرتے ہیں اور ان کے پیسوں پر اس قدر عیش کرتے ہیں مگر ان سے کیے گئے وعدے بھول جاتے ہیں تب ان کی اکڑی ہوئی لاشیں کھلی ٓنکھوں سے سوال کرتی ہیں کیا ہوا تیرا وعدہ؟وہ وعدہ ہی کیا جو وفا نہ ہوا!

حصہ