“تعلیمی انقلاب “

افریقہ کے سابقہ صدر نیلسن منڈیلا جن کا شمار افریقہ کے انقلابی لیڈروں میں ہو تا ہے انہوں نے اپنی قو م کے لیے 30سال جیل میں گزارے ۔نیلسن میڈیلا سے کسی نے پوچھا کہ لیڈر اور سیا ستدان میں کیا فرق ہے ؟تو انہوں مسکرا کر جواب دیا کہَ َََ ’’ ایک سیاستدان سوچتا ہے کہ اگلا الیکشن کیسا ہوگا اور میں اس الیکشن میں کس طرح جیت سکوں گا جبکہ ایک لیڈر سوچتا ہے کہ میر ے ملک کی اگلی نسل کیسی ہو گی اور میں کیا ایسا کر سکتا ہوں کہ میر ی آنے والی نسل کو فائدہ ہو۔‘‘
قارئین سیاست دان اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اپنے من پسند افراد سے مل کر رینٹل پاور اور ایفی ڈرین سکینڈل جیسے منصوبے بناکر اربوں روپے کا غبن کرتے ہیں جبکہ لیڈر سوچتا ہے کہ ایسا منصوبہ بنایا جائے کہ ملک میں آنے والی نسل کو اس مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور موجودہ نسل کو کوئی ہنگامی اور سستا ترین منصوبہ بنایا جائے ۔سیاست دان سمجھتا ہے کہ سٹرکیں،پُل ،فلائی اوور،اور سرکاری محکموں میں سفارشی بھرتی کر اکر اور انھیں لیپ ٹاپ ،وطن کارڈ اور بینظیر سپورٹ پروگرام دے کر وقتی طور پر انقلاب کا نعرہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ ایک لیڈ ر کی سوچ کے مطابق تعلیم کے بغیر دنیا کے کسی معاشر ے میں انقلاب لانا ناممکن کے قریب تر ہے ۔
قارئین چند دلچسپ معلومات بھی آپ سے شےئر کر تا جاؤں کہ امریکہ میں دو قسم کے لوگوں کو vipپروٹوکو ل دیا جاتا ہے 1۔سائنس دان 2۔ٹیچر
آپ خود سوچیں کے ہمارے ملک میں کوئی ایسا لیڈر یا سیاست دان جس نے ان تین طبقوں کو یہ سہولیا ت یا vipپروٹوکول دینے کی کوشش کی ہو بلکہ یہا ں تو پی پی پی کے رہنما اسلم مڈھیانہ جیسے لو گ اساتذہ پر تشدد کرتے نظر آتے ہیں یا پھر اساتذہ وزیر اعلیٰ ہاوس کے سامنے اپنے حق کے لیے دھرنے اور احتجا ج کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
2۔فرانس کی عدالتوں میں ٹیچر یا سکالرز کے سوا کسی بھی عہدہ پر فائز شخص کو بیٹھنے کے لیے کرسی پیش نہیں کی جاتی ہے اگر وہ ٹیچر یا سکالرز ہے تو اس کو عدالت میں بیٹھنے کے لیے عزت کیساتھ کرسی پیش کی جاتی ہے ۔
3۔جاپان میں ٹیچر ر یا سکالر گرفتار کرنے کے لیے پہلے حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے کیا ہمارے ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت ہے جس نے استاتذہ کو اس کا حقیقی مقام دلانے کی کوشش کی ہو۔
4۔کوریا میں سکالر یا ٹیچرز اپنا کارڈ دکھا کر وہ سہولیا ت لے سکتے ہیں جو پاکستا ن میں صرف ایم پی اے اور ایم این اے کو نصیب ہوتی ہیں ۔
کیا ایسی صورتحال میں پاکستان میں کسی لیڈر کا پید ا ہونا ممکن ہے میرے خیال میں بہت مشکل ہے کیونکہ امید پہ دنیا قائم ہے اس لیے میں بھی نا امید نہیں ۔اصل میں پاکستان کے زوال کی سب سے بڑی وجہ اہل علم لو گوں کی ناقدری ہے جن معاشروں میں اہل علم لوگوں کی قدر نہیں ہوتی وہا ں لیڈر نہیں بلکہ غنڈے ،ڈاکو ا و ر لٹیر ے پید ا ہوتے ہیں ۔
قارئین حیر ت کی بات ہے کہ صرف پنجاب میں جو پورے پاکستان کا 62% حصہ ہے اسمیں 50لاکھ بچے پرائمری سکول کی تعلیم سے محروم ہیں ۔سرکاری سکولوں کی ابتر صورتحال پاکستان میں تعلیم میں کمی کی بنیادی وجہ ہے اور خادم اعلیٰ پنجاب نے پرائمری سکولوں کی حالت بہتر بنانے کی بجائے دانش سکول سسٹم بنا ڈالے جسکی وجہ سے پاکستان میں پرائمری لیول سے ہی تعلیم میں فرق شروع جاتا ہے ۔کیا پورے پاکستان میں یکساں تعلیمی نصاب رائج کرنے کے لیے عمران خان اور سراج الحق کے سواء کسی نے آواز بلند کی ہے یا اس کو اپنے منشور کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ۔
میں وزیر اعظم پاکستان کے میگا پراجیکٹ جو ہیں وہ بھی پاکستان کی تاریخ بدلنے کے لیے ہیں جن میں بجلی کے میگا پراجیکٹ،تاپی گیس،قطر ایل این جی منصوبہ،اورنج ٹرین،میڑوبس،گرین بس سروس بھی اچھے مگر خدارا اس ملک کے غریب عوام کے لیے صحت اورتعلیم کی ذمہ داری بھی اللہ تعالی نے آپ کے کندھوں پہ رکھی ہے۔خدارا سرکاری ہسپتال اور تعلیم کے شعبے پر آپ کی خصوصی توجہ اس ملک میں انقلاب کی نوید سنا سکتی ہے۔عوام آپ کے میگا پراجیکٹس کو بھی یا د رکھے گی مگر تھرپارکر میں روزانہ کی بنیادمیں جو بچے مر رہے ہیں اس کا بھی جواب بھی آپ کو دینا ہوگا۔کیونکہ حضرت عمرفاروق نے کہا کہ دریائے نیل کے کنارے پیاس کی شدت سے اگر ایک کتا بھی مر گیا تو اس کا بھی عمر کو اللہ کو جواب دینا ہوگا۔
جناب وزیراعظم صاحب میں آپ کی تعلیم کی اہمیت کا اندازہ حضور ﷺ کی مشعل راہ زندگی میں سے ایک واقعہ پیش کر کے دینا چاہوں گا۔
غزوہ بدر میں بدرمیں 70کافر مارے گئے اور 14مسلمان شہید ہوئے اور جو قیدی بنے انکے متعلق شوریٰ نے فیصلہ کیاکہ جو قیدی فدیہ دے گا اس کو رہا کردیا جائے گا۔اور جن قیدیوں کے پاس رقم نہیں تھی ان کو مدینہ لے جاکر حضورﷺ کی خدمت پیش کیا گیا۔ان میں سے بعض قیدی پڑھے لکھے تھے ۔حضور ﷺ نے انصار کے بچے ان قیدیوں کے سپرد کرتے ہوئے کہاکہ تم زر فدیہ کے عوض ان بچوں کو تعلیم دے دو ۔اس سے تعلیم کی اہمیت کا اندازہ آپ بخوبی لگا لیں۔
میں وزیراعظم پاکستا ن میاں محمد نواز شریف سے اپیل کرتا ہوں کہ پاکستان میں یکساں تعلیمی نظام کے حوالے سے قانون سازی کریں اور امیر اور غریب کے درمیان تعلیم کے اس فرق کو ختم کرتے ہوئے تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھیں گے تو آنے والی نسلیں انھیں لیڈر کے نا م سے یا د رکھیں گی ورنہ تاریخ میں آپ وہ واحدپاکستانی سیاستدان ہونگے جو تین مرتبہ وزیراعظم بننے کے باوجود بھی تعلیمی انقلاب کی بنیاد نہیں رکھ سکے اور صرف ایک سیاستدان کے نام سے تاریخ کے اوراک میں دُھول بن جائیں گے

حصہ