ردھانی (Radhani) قبیلہ

368

ردھانی (Radhani) قبیلہ اعوان خاندان کا ذیلی قبیلہ ہے۔ اعوان حضرت علی رض کی اولاد ہیں اور پنجاب میں وادی سون میں آکر آباد ہوئے.

اعوان خاندان کے کچھ قبیلے وادی سون سے وادی نمل جو موسی خیل کی ڈھک والی پہاڑیوں کے قریب واقع ہے، وہاں آباد ہوئے. وہاں پر ایک خاندان سیلو بھی آباد تھا۔ وادی نمل میں قحط پڑا تو یہاں کے اعوان اور سیلو نقل مکانی کر کے دریائے سندھ کے کنارے کندیاں شہر کی دوسری طرف آباد ہوئے. اب بھی وادی نمل میں سیلواں کے کھولے نامی جگہ موجود ہے. عمران خان کے نمل کالج کے لیے نمل کے قریب رکھی کے سیلو قبیلے کے لوگوں نے اپنی زمین بھی دی ہے۔

اب جب نمل سے سیلو اور اعوان کندیاں شہر سے دریا کی دوسری طرف آباد ہوئے تو اس آبادی کا نام سیلواں پڑ گیا۔ یہ کندیاں کچہ کا حصہ تھا۔ سیلواں شہر جب کے دریا کنارے آباد ہوا تو وہاں کے لوگ میانوالی میں وتہ خیل کے علاقے کے قریب اپنے کاروبار وغیرہ کے لیے آتے تھے اور آج بھی وہاں چنگی سیلواں موجود ہے۔ سیلواں کے سیلو اور اعوان اپنے مردوں( میتوں) کو پہلے پہل کنڈل کے پہاڑوں کے قریب دفناتے تھے۔ کنڈل میں آج بھی سیلواں کا قبرستان موجود ہے۔ اور بعد میں کشتی کے ذریعے دریا پار کر کے کندیاں میں گھنڈی کے مقام پر دفنانا شروع کر دیا۔ سیلواں میں تریڑ اعوان اور ڈرہال اعوان بھی آباد تھے۔

لفظ ردھانی کے متعلق تین قیاس آرائیاں مشہور ہیں۔ پہلی یہ ہے ردھانال نامی قبیلی پہلے سے ہی اعوانوں میں موجود تھا۔ اور اس کی دلیل آج بھی وادی سون میں نوشہرہ نامی گاؤں میں ردھانال اعوان رہتے ہیں۔

دوسری رائے یہ موجود ہے کہ دریا کے کنارے جس علاقے میں سیلو اور اعوان آباد ہوئے، وہاں ایک ردھان نامی جڑی بوٹی تھی، اسے اعوانوں کے ایک گھرانے نے ختم کر کے اس جگہ کو آباد کر لیا، یوں اس گھرانے کے لوگ ردھانی کہلانے لگے. دھان اب بھی چاول کی ایک قسم ہے۔ لیکن سیلواں میں موجود پودے کے متعلق کچھ یقینی نہیں کہا جاسکتا.

تیسری رائے یہ ہے کہ اعوان قبیلے کے جو لوگ شروع میں آئے انہوں نے دریا کے کنارے کافی ساری جگہ پر قبضہ کر لیا. اور اسے کاشت کاری کے قابل بنایا. کچے والی ھندکو سرائیکی میں کہتے ہیں “انہاں کنڑک رادھ چھوڑی ہے” اس رادھ کا مطلب ہے کچھ کاشت کرنا اور اس علاقے میں کاشتکاری کرنے کی وجہ سے انہیں ردھانی ردھانی کہنا شروع کیا گیا۔

ردھانی اعوان سیلواں گاؤں کی سب سے بڑی آبادی تھے اور سب سے زیادہ علاقہ بھی انہی کے قبضہ میں تھا۔ 1938 میں ردھانی اعوان قبیلے کے سردار خان زمان ردھانی اعوان نمبردار تھے۔ انہوں نے جولائی 1937 میں دریا کے قریب گرنے والے جہاز کو بچانے میں مدد کی جس پر 5 اکتوبر 1938 میں ڈپٹی کمشنر میانوالی نے انہیں سراہا اور ایک سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا.

جب 1970 کے قریب وزیر اعظم زلفقار علی بھٹو نے چشمہ کے مقام پر ڈیم اور بیراج بنانے کا فیصلہ کیا تو سیلواں کا گاؤں بھی اس ڈیم کی ضد میں آیا. اس پر حکومت نے وہاں کے ردھانی اعوانوں اور سیلو قوم کو کندیاں نقل مکانی کرنے پر زرعی زمین اور کیش مالیت ادا کی. اب علو والی شہر اور کندیاں شہر میں نئی آبادی سیلواں نامی محلے ہیں۔

سیلواں سے نکل مکانی کرنے والے ردھانی اعوان کندیاں شہر میں جرنیلی روڈ کے قریب آباد ہوا. انکا شہر سے باہر اپنا ایک ڈیرہ بھی ہے جسے ردھانیوں والا بھانڑ کہتے ہیں۔ کافی تعداد فیصل آباد 586 چک جا کر آباد ہو گئی۔ 1ML کے قریب رکھ نصیر والا کیساتھ ایک ڈیرہ ردھانیاں اعواناں والا موجود ہے اور اسی طرح کچھ گھر 3DB, 2DB, جوہر آباد کے قریب روڈا گاؤں، بلند گاؤں اور میکن گاؤں میں بھی آباد ہیں۔

اس قبیلے کے اکثر لوگ سادہ ثقافت رکھتے ہیں۔ عموماً شادیاں اپنے خاندان میں کرتے ہیں۔ ہر جگہ بہت سارے گھر اکھٹے مل کر رہتے ہیں۔ سیلواں سے نقل مکانی کے بعد کافی سارے لوگ سرکاری ملازمت اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ردھانی اعوان خاندان کے مزید ذیلی قبیلے یہ ہیں؛ عبد اللہ خیل، علی خیل، فاضل خیل، انور خیل، شالم خیل، ودے خیل، حسین خیل، خواجہ خیل، رحمان خیل.

ردھانی اعوان قبیلہ ایک مذہبی اور سیاسی گھرانہ ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کندیاں شہر سے ملک محمد فیض ردھانی اعوان کونسلر منتخب ہوئے. اس سے پہلے 1980 کی دہائی میں بھی ملک محمد زمان ردھانی اعوان مرحوم کندیاں یونین کونسل کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ 2000 کی دہائی میں ملک سلطان محمود ردھانی اعوان مرحوم بھی الیکشن میں امیدوار رہے ہیں.

حصہ