neelab mianwali

میانوالی کے باسی ہریش چند نکڑہ کی کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ وچھڑا وطن ‘‘ اردو ترجمہ :۔ انجینئر شہزاد اسلم خان ………… پہلی قسط
میں سب سے زیادہ اپنے بچوں، پوتیوں اور نواسے نواسیوں کاشکر گزار ہوں جن کی اپنے خاندان کی جڑوں کو جاننے اور سمجھنے کی شدید خواہش میری اس کاوش کی وجہ بنی۔اس کے بعد میں خاص طور اپنی بیوی کوشلیا کی حوصلہ افزائی کا ذکر کروں گا۔انہوں نے جگہوں ،روایات اور حالات و واقعات کو یاد کرنے میں میری بے انتہا مدد کی۔ہم دونوں نے اپنے ماضی کے واقعات کو دوبارہ زندہ کیا پھر میں انہیں قلمبند کرنے کے قابل ہوا۔
اپنی ذاتی کوششوں کی تکمیل کیلئے میں میانوالی سے چھوڑ کر آنے والے اپنے خاندان کے بہت سے بزرگوں ،رفقاء اور دوستوں سے بھی گفتگو کی جو کہ اپنے واقعات اور تجربات مجھے بتانے کو تیار تھے۔ویسے تو بہت سے افراد نے میری مدد کی مگر میں خاص طور اس بیش قیمت اور قابل ذکر مددکاذکر کروں گا جو شری دھرم سوارپ نکڑہ،روشن لال چکڑ،کرشن گوپال آہوجا گرمکھ خرانا،ہربھگوان سپرا اور میری ممانی بھگونتی نے کی۔میں خوش قسمت ہوں کہ میری ملاقات میانوالی کے مسٹر جی ایم شاہ سے ہوگئی جو کہ حکومت پاکستان کی وزارت تعلیم میں ایک اعلیٰ عہدیدار تھے۔یہ ملاقات 2001ء میں ان کے دورہ دہلی کے موقعہ پر ہوئی۔انہوں نے مجھے بہت سی اہم معلومات فراہم کرنے کے علاوہ پروفیسر محمد سلیم احسن کی چند دلچسپ تاریخی تحریریں میرے حوالے کیں۔
میں پوری طرح اپنے برسوں پرانے دوست ٹی پی اسرہ جوکہ آئی اے ایس کے ایک سابق افسر ہونے کے علاوہ بہت سی کتابوں کے مصنف بھی ہیں کاشکریہ ادا نہیں کرسکتاجنہوں نے اس کتاب کے مسودے کو بار بارپڑھا اور تصحیح کی۔اس دوران انہوں نے کتاب کے بہت سے حصوں کو دوبارہ لکھا بھی اور یوں اپنے مصنف ہونے کا فائدہ پہنچایا۔ اور آخرمیں ان سب سے بڑھ کر میں اپنے لئے دیپک کا مشکور ہوں جو نہ صرف میرے کام کیلئے باعث تحریک بنا بلکہ اس نے انتہائی احسن طریقے سے کتاب کی طباعت و اشاعت کاکام نبھایا یہ اس کی کوشش کا نتیجہ ہے کہ آج یہ کتاب اپنی اس شکل میں موجود ہے۔
پیش لفظ
جب ہریش جی(میں ہمیشہ اپنے تیس برس پرانے دوست ہریش چندرنکڑہ کو اسی نام سے پکارتا ہوں)نے مجھے’’وچھڑا وطن‘‘ کا مسودہ دیکھنے کو کہا اور اس وقت مجھے ان کی اس شاندار کارنامے کو بہت کم علم مجھے یاد تھاکہ وہ مجھے اکثر بتایا کرتے تھے کہ وہ یہ کام کیوں کررہے ہیں کہ یہ سب وہ بالخصوص اپنے پوتے پوتیوں کی تجسس کو دور کرنے کیلئے کررہے تھے جو وہ موجودہ شمال مشرقی پاکستان میں پانی جڑوں کے متعلق رکھتے تھے۔جب انہوں نے ایک کتا ب لکھنے کا ارادہ کیا جو صرف ان کے اپنے بچپن ،تعلیم،کم عمری کی شادی ،روایات ،رسوم اور تہواروں کے متعلق بار بار کئے جانے والے سوالات کا مفصل جواب ہو بلکہ دراصل ایک گزرے ہوئے دور کی زندگی کا احاطہ کرے جس کے اوپر وقت کا کثیف پردہ پڑچکا ہے۔لیکن جب میں نے ڈیڑھ سو صفحات کی اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تب مجھے پتہ چلا کہ میں صرف متجسس بچوں کو معلومات کے لکھے جانے والے یادوں کے ایک مجموعے کو نہیں بلکہ معاشرت کے زبردست مطالعے کو پڑھ رہاتھا۔اس کتاب نے میرے اپنے دل کے تار بھی چھوئے کیونکہ میں خود بھی برصغیر کے اسی خطے میں پیدا ہوا۔اگرچہ میرے ماں باپ جہلم اور روالپنڈی سے تعلق رکھتے تھے مگری میری پیدائش ملتان کی ہے ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازی خان سے حاصل کی۔ مجھے یاد ہے کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ ہرنال گاؤں جایا کرتا تھا جو کہ راولپنڈی کے ساتھ واقع ہے تقسیم سے ایک سال پہلے میں لاہور بیھ گیا۔ان گزرے ہوئے سالوں کے جونقوش میں نے حاصل کئے وہ آج بھی میری اس دور کی یادداشت کا حصہ ہیں۔
جیسے جیسے میں ’’وچھڑاوطن‘‘پڑھتا گیا مجھے لگا اس کے صفحات پر میرے اپنے راشتہ داروں، دوستوں اور سکول کے ساتھیوں کاعکس موجود ہے اس کتاب نے میرے طاق نسیان سے بھولے بسرے لوگوں کا ایک ہجوم پھر سے زندہ کر دیا۔اس کتاب میں پیش کئے گئے گردو پیس ،حالات و واقعات اور حکایات،سب کے سب تقریباً ویسے ہی ہیں جن کو میں نے خود دیکھا یا محسوس کیا۔
میانوالی کی اصل سر ا ئیکی میں لکھا گیا دیباچہ بہت پر اثر انداز میں آبائی وطن سے جدائی اپنے ماں باپ سے جدائی سے بہت مختلف ہے۔ اس جدائی میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔کتاب کا آخری صفحہ اس کتاب کے لکھنے کی ایک اور وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یعنی اپنے’’وچھڑے‘‘ مگرکبھی نہ بھلانے جاسکنے والے ’’وطن‘‘کو خراج عقیدت پیش کرنا اور یہ بقول مصنف وہ صرف اپنی یادداشتوں کے ذریعے ہی کرسکتے تھے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہریش جی نے اظہار عقیدت کا یہ طریقہ اختیار کیا جس کی بدولت یہ تمثیل انگیز اور دلکش کتاب سامنے آئی۔اس کتاب نے مصنف کی کئی ظاہری اور پوشیدہ صلاحیتوں کو بھی ظاہر کیا ان کا داستان گوئی کا ہنر،گزرے واقعات اور مشاہدات کی جاندار انداز میں دوبارہ تخلیق جو کہ اس دور کے روئیوں،طرزفکر،توہمات اور رحجانات کو کھل کر بیان کرتی ہے اور آخر میں ان کی خوبصورت لفاظی ان سے سے بڑھ کر ہے۔جس کے استعمال سے انہوں نے قابل ذکر واقعات ،مزاحیہ حالات اور رقت انگیز مصائب کے بیان میں سب کے ساتھ انصاف کیا ہے۔
لیکن جس طرح میں نے پہلے کہا اگرآپ کتاب کی بیان کردہ دلکشی اور دلربائی کو نظر انداز کربھی دیں اور اس کو انیس تیس اور چالیس کی دہائیوں کے متحدہ ہندوستان کے شمال مغربی حصے کے معاشرتی مطالعے کے طورپر دیکھیں تو یقیناً’’وچھڑا وطن‘‘ ماہرین عمرانیات کی خصوصی توجہ حاصل کرسکتی ہے۔لیکن ایک چھوٹے سے قصبے کے ماحول،ثقافت اورطرز عمل کو مکمل بیان کیا گیا ہے۔مثلاً اس شہر کے گردوبیش،برسوں قدیم سجاوٹ کے انداز،ذخیرہ کرنے اور کھانا پکانے کے طریقے وغیرہ،یہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ کی آنکھوں کے سامنے تصویریں گزریں گی۔ چابی دا لٹھا چار آنیگز،بستہ قاعدہ تختی،طرے والی پگ،ستھنٹر تے بوچھنٹری،بالکل ویسے ہی جیسے اس ’’جادو دا ڈبہ‘‘ کی تصویریں جو ہمیشہ بچوں کیلئے کشش کا باعث تھا۔اس ’’جادو دا ڈبہ‘‘ کو مصنف نے اپنے انداز میں خوب بیان کیاہے۔یہ کتاب پڑھتے ہوئے مختلف کرداروں اور چہروں کا ایک ہجوم زندہ ہوکر آپ کے سامنے آجاتا ہے۔آپ کی ملاقات باتونی حجام سے ہوتی ہے جو کہ اپنے استرے اور پھٹکڑی سے لیس ہے۔ انہی صفحات پر آپ کو خندق کھودنے والا وہ بھائی بھی نظر آئے گا جو کہ لاہور اپنی سہری بہن کو ملنے جاتا ہے اور رات کو تقریباً بھوکا ہی سونے کو جاتا ہے ۔کیونکہ بہن کے گھر ملنے والا کھانا اس کیلئے بہت کم ثابت ہوتا ہے۔یہیں کہیں آپ اس ٹھگ ویدسے بھی ملیں گے جو کہ روحوں سے باتیں کرنے کی اپنی خصوصی قوت کا مظاہرہ کررہا ہے۔پھرآپ مقامی اداکاروں کی ’’رام لیلا‘‘میں وہ فاش غلطیاں بھی نظرآئیں گی جن سے ناظرین کو ہنسی کے دورے پڑجاتے ہیں۔(کیا ہم سب آج بھی ان کو محبت سے یاد نہیں کرتے اوراپنے دوستوں کے ساتھ محفوظ نہیں ہوتے؟) ایسے ہی آپ کئی چٹ پٹی باتوں کی مثال پیش کرسکتے ہیں جو مہارت سے نشانے پر لگائی جانے والی ضربوں کا کام کرتی ہیں اور ایک مکمل واضح تصویر بناتی ہیں۔
میانوالی کے’’اردو شعرا‘‘ کے عنوان تلے مصنف نے تلوک چند محروم کا ذکر کیا ہے جو لابھورام جوش ملسیانی کی طرح اس زمانے میں برصغیرکے اندر اردو شاعری کے بچے کھچے بزرگوں میں سے ایک مانے جاتے تھے(مجھے نہیں علم تھا کہ ان کا تعلق بھی میانوالی سے تھا) مجھے ایک واقعہ یاد ہے جو کہ مجھے محروم صاحب کے ایک دوست شاعرنے سنایا۔یہ واقعہ اس بھاری دور میں لوگوں کو جکڑے حالات کا عکاس ہے جب برصغیر کی تاریخ کا ایک المناک باب لکھا جارہا تھا۔محروم صاحب اس دور میں گورڈن کالج راولپنڈی میں اردو پڑھایا کرتے تھے۔جب بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہوئی اوت تقسیم ناگزیر نظرآنے لگی تو محروم صاحب کے مداحین نے ان کو الوداع کہنے کیلئے ایک مشاعرے کا اہتما کیا ۔مشاعرے کا طرح مصرعہ تھا’’جارہے ہیں حضرت محروم پاکستان سے‘‘ کئی نظمیں پیش کی گئیں جن میں دکھ اور تکلیف کے ساتھ محروم صاحب سے جدائی پر پچھتاوے اور احساس زیاں کا بیان تھا۔آخرمیں شمع محروم صاحب کے سامنے رکھی گئی۔انہوں نے اپنے کلام کا اختتام اس شعر پر کیا۔
جا رہے ہیں حضرت محروم پاکستان سے
گر نہ پاکستان سے جائیں تو جائیں جان سے
ہندواورمسلمان برادریوں کی اپنی الگ ثقافتی اقدار سے ہٹ کر ان کے معاشرتی روابط بہت بھرپور طریقے سے مقصدیت اور ایمانداری کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔کتاب کے وہ ابواب جو میانوالی کی زندگی کے اس رخ کو بیان کرتے ہیں انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ باوجودیکہ ہندو پانی،مسلم پانی کا تصور مو جو دتھا اور کھانا بھی اکٹھا نہیں کھایا جاتا تا یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا واقعی ملک کی تقسیم ناگزیر تھی۔
بہرحال یہ ساری محنت جس کا آغاز دراصل ہریش جی کی اپنے پیاروں سے محبت میں کی گئی ایک کوشش سے ہوا۔اس کا نتیجہ ایک پڑھنے کے قابل اور دلکش چھوٹی سے کتاب کی صورت میں نکلا۔جو ایک طرف تو ایک عام قاری کیلئے دلچسپی اور وطن کی یاد کو ابھارنے کا باعث ہے اور دوسری طرف ماہرین عمرانیات کیلئے قیمتی معلومات سے بھر پور ایک دستاویز ہے۔جو تاریخ کا ایک حصہ بیان کرتی ہے۔ آخر یہ خوبصورتی سے لکھی ہوئی یاداشتیں ہی ہیں۔ نہ کہ بادشاہوں ،جنگوں اور معاہدوں کے قصے جو ملاوٹ،کجی،مبالغہ آرائی اور غلو سے پاک ہوتی ہیں اور تاریخ کو زندہ رکھتی ہیں۔یہی تاریخ کا اصل جزو ہیں۔(ٹی ۔پی اِسّر)
وچھڑا وطن تے عمراں لنگھیاں
بھاویں وَت اساں ملے ناں
میانوالی آڈکھاں جو کہڑی گلوں
ہنٹر تک تینوں بھلے ناں
1947ء میں میانوالی کے لوگوں کیلئے سب کچھ اچانک اور تیزی سے بدل گیا۔وہ واقعات جو لاکھوں لوگوں کیلئے ڈراؤنے خواب ثابت ہوئے اور اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ان کے نتیجے میں میانوالی کے ہندوؤں اور سکھوں کی ساری آبادی اپنے وطن سے بے دخل ہوئی اور ہندوستان اور دنیا کے کئی دوسرے علاقوں میں جاآباد ہوئی۔ آج 60 سال گزرنے کے بعد یہ واضح ہے کہ آج ان مشترکہ اقدار،ثقافت،رسوم یہاں تک کہ زبان کا بھی بہت کم حصہ ہمارے پاس رہ گیا ہے،جو ہمارے بچھڑے وطن میں ہمیں ایک بندھن میں باندھے ہو ئے تھے۔میانوالی کے باسی جہاں بھی گئے انہوں نے خود کوئی نئے ماحول کے مطابق ڈھال لیا۔اور اس دوران اپنے طبقے کی مشترکہ خصوصیات کھوبیٹھے۔لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے کردار کی مضبوطی کو قائم رکھا جو اس مٹی نے انہیں دی تھی جو کبھی ان کا گھر تھی۔
یہ کتاب لکھنے کا خیال 1994ء کے موسم گرما میں آیا۔میں اور میری بیوی کوشلیا بنگلور میں اپنے بیٹے دیپک،بہومارگریٹ،پوتے نکھل اور پوتی مایا کے ساتھ لطف اندوز ہورہے تھے۔ہمیں جنوبی بھارت کی ایک شادی میں بلایا گیا۔شآدی ہال بہت بڑا،روشن اور گیندے کے پھولوں سے خوبصورتی کیساتھ سجا ہواتھا۔ جبکہ ہال میں جدید موسیقی کا انتظام بھی تھا۔
نئے جوڑے کو آشیر باد دینے کے بعد ہمیں ڈائننگ ہال لے جایا گیا جہاں ہم بھی دوسرے بہت سے مہمانوں کی طرح کھانے کیلئے بیٹھ گئے میں کھانے کا آغاز میٹھے چاول’’پایاسم‘‘سے کیا جوکھیر سیملتے جلتے تھے میں وہاں ذکر کیا کہ میانوالی میں خاص موقعوں پر کھانوں کا آغاز ایک میٹھی ڈش کڑاہ سے کیا جاتا تھا۔
میرا یہ عام سا تبصرہ میرے بارہ سالہ متجسس پوتے نکھل کے تجسس کیلئے ایک نکتہ آغاز ثابت ہوا۔اور اس نے مجھ پر میانوالی میں ہونے والی شادیوں کے متعلق سوالات کی بوچھاڑ کردی۔اگلے کئی دن میں اس کا یہ تجسس صرف شادیوں تک محدود نہ رہا بلکہ وہ مانوالی میں زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق پوچھنے لگا جس میں روایات،طرز زندگی،لوگوں کا انداز فکر اور رویئے ،سب شامل تھے۔
میرا بیٹا دیپک بھی سوالات و جوابات کے چند ادوار میں موجود تھا۔اس دوران اس نے محسوس کیا کہ ان میں سے کئی باتیں اس کیلئے بھی نئی تھیں۔اس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے پرانی نسل ختم ہوتی جارہی ہے۔ شاید ان سوالات کے جواب دینے والا کوئی باقی نہ رہے جو نوجوان نسل کو میانوالی میں اپنی ثقافت،اقدار اور طرز زندگی کے بارے میں بتا سکے۔اس نے شدت سے محسوس کیا کہ میں جو نکرہ خاندان کی کہانی لکھنے کا کام شروع کیا ہوا ہے وہ شآید نئی نسل کو ان کی جڑوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہ دے سکے۔چنانچہ یہی وہ موقعہ تھا جب میں نے اپنا مقالہ لکھنے کے خیال کو مانوالی کے بارے میں ایک کتاب لکھنے کے ارادے سے بدل دیا۔
جب میں نے اپنے منصوبے پر کام شروع کیا اور معلومات اکٹھی کرکے ان کا جائزہ لینا شروع کیا تو اس وقت بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک انتہائی کٹھن تجربہ ثابت ہوگا۔ جس پر مجھے کئی سال محنت کرنا پڑے گی۔میں دوبارہ انہی حالات و واقعات میں جابسا جن کے بارے میں میں نے کئی برسوں سے سوچنا بھی چھوڑ دیا تھا اور شاید دوبارہ کبھی سوچتا بھی نہیں اور نہ کبھی انہیں یاد کرتا۔اگر انہیں نئی نسل کیلئے محفوظ کرنے کی خواہش اتنی شدید نہ ہوتی۔ انہی یادوں کے ساتھ ساتھ میرے بچھڑے وطن کی یاد اپنے عروج پر جا پہنچی لیکن اب اس میں ایک مقصد بھی شامل ہوچکا تھا۔مزید یہ کہ مجھے احساس ہوچکا تھا کہ میں میانوالی میں رنے والے اپنے طبقے کی آخر ی نسل سے تعلق رکھتا ہوں چنانچہ میں وہاں کی زندگی کے بارے میں قابل اعتماد معلومات دے سکتا ہوں۔
’’وچھڑا وطن‘‘ بیتے سالوں کے حقائق، یاداشتوں اور حکایات کو اکٹھا کرنے کی میری ایک حقیر سے کاوش کا نتیجہ ہے۔اس کے ذریعے میں نے اس علاقے کی جغرافیائی اور ظاہری حالت کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی وہاں کیلوگوں کی زندگی کے طبقاتی، معاشرتی اور ثقافتی پہلوؤں کو بھی بیان کیا ہے۔
یہ میرے لئے انتہائی اطمینان کا با ت ہوگی اگر یہ کتاب نوجوان نسل کو ان کی اصل کے بارے میں جاننے میں مدد دینے کا ایسا مقصد حاصل کرلے اور ساتھ ہی ساتھ پرانی نسل کو کسی حد تک اپنے مشترکہ ماضی میں دوبارہ جابسائے وہ ماضی جو اب صرف یاد بن کر رہ گیا ہے

حصہ