امجد طفیل بھٹی

اعتبار ایسی چیز ہے جو کہ اتنی آسانی سے کسی پہ نہیں آتا لیکن جب آ جاتا ہے تو پھر کوئی بھی انسان آنکھیں بند کر کے اسکی ہر بات کا یقین کر لیتا ہے جس پہ اعتبار کیا گیا ہو۔ دوسرے لفظوں میں ہم اعتبار کو یقین بھی کہہ سکتے ہیں۔ اب اس دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں ،ایک وہ جو کسی کے اعتبار کے بھی قابل نہیں ہوتے یعنی کہ ” بے اعتبارے ” اور دوسری قسم کے لوگ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہ کسی کے اعتبار کو قائم رکھنے کی خاطر اپنے نقصان کی پرواہ بھی نہیں کرتے۔ اور یقیناًیہ ایک مشکل ترین کام ہے مگر بہت سے لوگ ابھی بھی اس دنیا میں موجود ہیں جو کہ قابل اعتبار ہیں اور شاید اگر دنیا کا نظام چل رہا ہے تو خدا کے بعد ان اچھے اور با اعتبار لوگوں کی وجہ سے چل رہا ہے۔
آج کل مادہ پرستی کا دور ہے اور ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے ، ہر کوئی اپنی ذاتی زندگی کے علاوہ کسی کے بارے میں سوچنا بھی گوارا نہیں کرتا مگر پھر بھی کچھ لوگ دوسرے لوگوں کی بے لوث خدمت کر کے خدا کے آگے سرخرو ہو رہے ہیں۔ اور اس مفاد پرستی کے دور میں کسی کو اگر کوئی اچھا مشورہ یا اچھی بات بھی بتا دیتا ہے تو یہ بھی اپنے نفس کے خلاف جہاد ہی تصور کیا جائے گا کیونکہ آج ہر انسان اپنے نفس کا غلام ہے ، اور انسان کے نفس کی یہی خرابی اور خامی ہے کہ وہ ہمیشہ الٹی جانب ہی چلتا ہے اسی لیے تو نفس کے خلاف جہاد کو سب سے افضل جہاد کہا گیا ہے۔اور دوسروں کے اعتبار کو ٹھیس پہنچانے میں بھی یہی نفس کارفرما ہے جو کہ انسان کو اس وقت تک چین سے بیٹھنے نہیں دیتا جب تک کہ اپنی مرضی انسان پر مسلط نہ کر لے۔

ہر انسان کو اپنی زندگی میں قابل اعتبار اور ناقابل اعتبار لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اور اعتبار ایسی چیز ہے کہ اگر ایک بار ہو جائے تو پھر بار بار کرنے کا من کرتا ہے جبکہ دوسری جانب اگر کسی انسان کا کسی دوسرے انسان پر سے اعتبار اٹھ جائے تو وہ زندگی بھر کسی پر اعتبار نہیں کر پاتا۔ اور یہی اعتبار نہ کرنا کئی بار بلکہ اکثر اوقات نقصان کا باعث بھی بن جاتا ہے مگر کوئی بھی انسان اعتبار کر کے نقصان اٹھانے پہ کہیں زیادہ پچھتاتا ہے جتنا کہ اعتبار نہ کر کے پچھتاتا ہے۔یہ بات بھی بالکل حقیقت ہے کہ کسی کے اعتبار کو ٹھیس پہنچانے والا کبھی بھی سکون کے ساتھ نہیں رہ سکتا بلکہ ایک انجانا ڈر اور خوف ہر وقت اس کا پیچھا کرتا رہتا ہے جبکہ اسکے برعکس جو شخص کسی کے اعتبار پر پورا اترتا ہے وہ ذہنی سکون کی دولت سے مالا مال اور پرسکون رہتا ہے۔

ہر شخص کو اپنی ذات کا احاطہ کرنا چاہیئے اور اپنے بارے میں کھوج لگانی چاہیئے کہ وہ کس قسم کی کیٹیگری میں شامل ہے ؟ کیا اسکی زندگی میں سکون ہے کہ نہیں ؟ اور اگر نہیں تو اسکی وجہ کیا ہے ؟ کیا اس نے کبھی بھی کسی بھی انسان کا اعتبار تو نہیں توڑا ؟ ۔یہ سب سوچنے کے لیے بھی خاصی مشکل پیش آ سکتی ہے کیونکہ نفس تو ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے اور جس کو شیطان نے مکمل طور پر اپنے تابع کیا ہوا ہے۔ اور وہ کبھی بھی خود کو برا کہنے ہی نہیں دیتا بلکہ نفس تو ہمیشہ انسان کو اپنے بجائے دوسروں کی خامیوں کو تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔بعض اوقات انسان بہت قیمتی دوست اور رشتہ دار محظ اعتبار توڑ کر کھو دیتا ہے یعنی دوسرے لفظوں میں جب بھی آپ کسی انسان کی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو اس کا آپ پر یقین اور اعتماد بری طرح متاء ثر ہوتا ہے۔

بعض لوگ اعتبار کو شیشے سے بھی تشبیع دیتے ہیں ، کیونکہ جب شیشہ ٹوٹتا ہے تو پھر اپنی اصلی حالت میں کبھی بھی واپس نہیں آ سکتا چاہے وہ دوبارہ جڑ بھی جائے تو۔ بالکل اسی طرح اعتبار بھی جب ٹوٹ جائے تو وہ مکمل طور پر بحال کبھی بھی نہیں ہو سکتا چاہے لاکھ کوشش بھی کر لی جائے۔ اعتبار کا سب سے اچھا پہلو یہ ہے کہ دنیا میں تقریبا ہر شعبے میں ہی اعتبار کو ایک مستند حیثیت حاصل ہے ، چاہے لین دین ہو ، کاروبار ہو ، نئے لوگوں سے تعلقات ہوں غرض کوئی بھی شعبہ باہمی اعتبار کے بغیر نہیں چل سکتا۔ جہاں ایک طرف تو اعتبار کرنے والوں کی بہتات ہے تو وہیں پہ اعتبار نہ کرنے والوں اور دوسروں کے اعتبار کو توڑنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔

آج کل ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص سے ہاتھ ملانا تو درکنار بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔مخلصانہ مشوروں کے ناپید ہونے کی وجہ سے آئے روز لوگ مختلف نقصانات کو برداشت کررہے ہیں کیونکہ جس کو بھی کوئی مشورہ دیتا ہے کوئی بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ بس یہی وجہ ہے کہ اعتبار نام کا لفظ ہماری زندگیوں سے ایسے نکلا ہے کہ باپ کو بیٹے پر ، بھائی کو بھائی پر ، دوست کو دوست پر ، استاد کو شاگرد پر ، اور مسافر کو مسافر ہر اعتبار نہیں ہے۔اور اعتبار نہ کرنے کی اور اعتبار توڑنے کی ایک بڑی وجہ حسد اور جلن بھی ہے۔ہمیں چاہئیے کہ اپنی زندگیوں کو دوسروں کے اعتبار پر پورا اترتے ہوئے گزاریں تاکہ تمام لوگ دوسرے لوگوں کے لیے سود مند بنیں ناں کہ نقصان دہ بن کے اپنی زندگی اور آخرت دونوں کو خراب کریں۔

حصہ