دیوار پہ دستک
لاہور ہائی کورٹ مشکل میں
منصور آفاق
بحیثیت قوم ہمارے پاس تیرہ بختیوں کی ایک طویل فہرست ہے ۔گننا شروع کریں تو ختم ہی نہیں ہوتیں ۔اس کے برعکس خوش بختیاں بہت کم ہیں ۔اکثر اوقات یوں بھی ہوتاہے کہ جسے خوش بختی سمجھے ہیں وہ بد بختی نکلتی ہے۔ماضی قریب میں جس شخص کو پاکستانی قوم نے اپنی خوش بختی قرار دیا وہ راحیل شریف ہیں اور الحمدللہ ابھی تک خوش بختیوں کی لسٹ میں سرفہرست میں ہیں ۔ان دنوں ایک اور شخصیت بھی خوش قسمتی قرار دیا جارہا ہے ۔بہت سے اہم لوگوں نے کہا ہے اپنی قسمت نے شاید کروٹ لی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ بنا دئیے گئے ہیں ۔ایسے ایسے تبصرے سننے کو ملے ہیں ’’پنجاب میں انصاف گاہوں کو نئی زندگی مل گئی ہے ‘‘۔’’گھٹا ٹھوپ تاریکیوں میں امیدکا ایک چراغ جل اٹھا ہے ‘‘۔واقعی ایسا لگ رہا ہے کہ قدرت نے ایک ایسی شخصیت کو اِس منصبِ جلیلہ پر فائز کردیا ہے جس کا ماضی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ یہ ایک انتہائی ایمان دار آدمی ہے ۔ یہ اپنے کام سے آخری حد تک اخلاص رکھنے والا شخص ہے ۔یہ اپنی جسمانی قوت سے زیادہ محنت کرنے کی ہمت رکھنے والا ہے ۔اِس شخصیت نے آتے ہی دیارِ عدلیہ میں بے رحم صفائی کے احکامات جاری کر دئیے ۔سیکڑوں کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کے کاروائی شروع ہوچکی ہے۔بے شمار جوڈیشل آفسران او ایس ڈی بنا دئیے گئے ہیں ۔ بہت سے معطل کر دئیے گئے ہیں ۔ابھی کل جوڈیشل اکیڈمی میں ان کی تقریرمیں بذریعہ سیٹلائٹ سن رہا تھا۔ کہہ رہے تھے کہ’’ میرے نزدیک ہائی کورٹ کا مالی اور رجسٹرار اپنی اپنی حیثیت میں برابر ہیں ۔ دونوں ایک جیسے انسان ہیں ۔دونوں کے برابر حقوق ہیں ۔‘‘بے شک پنجاب بھر کی عدالتوں کو نااہل اوربدعنوان ججز اور وکلاء سے پاک کرناکسی جہادِ اکبر سے کم نہیں ۔انہوں نے آتے ہی اپنے چیمبر کا دروازہ ایک فراش سے لے کر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تک کے لیے کھول دیاہے اور کہاہے’’ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔میں ایماندار ججوں کے پیچھے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوں۔ ہم نے آیندہ نسلوں کے لیے اس نظام کو ٹھیک کرنا ہے ۔عدلیہ میں خوداحتسابی کا عمل جاری رکھناہے۔میرا وعدہ ہے کہ کچھ ہی عرصہ میں کوئی بدعنوان، نااہل اور منفی رویے والا جوڈیشل افسرہم میں نہیں ہوگا۔جو معیار پر پورا نہیں اُترتا، وہ عدلیہ میں نہیں رہیگا۔گھر جائے گا۔‘‘
میری سسٹر ان لاء جو امریکہ میں اٹارنی ہیں ۔وہ کچھ عرصہ لاہور میں سید منصور علی شاہ کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں ۔ انہوں نے جس روزچیف جسٹس کا حلف اٹھایا تو مجھے اُس کا فون آیا ۔وہ بہت خوش تھی ۔کہنے لگی اگرسید منصور علی شاہ کے چیف جسٹس بننے کے بعد بھی پنجاب کی عدالتوں میں لوگوں کو انصاف نہیں ملتا تو پھر کبھی نہیں مل سکتا ‘‘۔مجھے بھی خوشی ہوئی کہ چلو کوئی ایسی شخصیت مسندِانصاف جلوہ افروز ہوئی ہے جس سے لوگ بہت توقعات رکھتے ہیں ۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں لوگوں کی توقع پر پورا اترنے کی ہمت عطا کرے ۔
دوستو!ان تمام باتوں کا اگر مجھے علم ہوسکتا ہے توسابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کیسے نہیں جانتے ہونگے۔وہ مجھ سے کہیں زیادہ سید منصور علی شاہ کی دیانت اور صداقت سے واقف ہونگے ۔یقیناًاسی بات کو دیکھتے ہوئے ان کی پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم نواز شریف کی ناہلی کا مقدمہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر کیا گیاہے ۔لاہور ہائی کورٹ کیلئے یہ ایک مشکل ترین فیصلہ ہوگا ۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مشاورت سے جمع کرائی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف آئین کے آرٹیکل 63 کی دفعہ 2 پر پورا نہیں اترتے کیونکہ انھوں نے اپنی لندن کی جائیداد اپنے گوشواروں میں ظاہر نہیں کی۔یہ درخواست ساڑھے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے ۔اس درخواست میں وزیراعظم نوازشریف، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور وفاقی حکومت کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
سید منصور علی شاہ کو جاننے والوں کا خیال ہے کہ اگر کیس میں وزیر اعظم کے خلاف مکمل ثبوت موجود ہوئے تویہ ممکن نہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں۔ نون لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پنجاب ہائی کورٹ میں وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ بھی آگیا تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سپریم کورٹ فوراًاس کے خلاف سٹے آرڈرجاری کر دے گی جس طرح وفاقی وزیر ریلوے کے ساتھ الیکشن کمیشن کے ایک جج نے نا انصافی کی تو سپریم کورٹ نے سٹے آرڈر جاری کردیا۔اسی طرح پچھلے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف جب عدالتی فیصلہ آیا تو انہیں بھی اعلی عدالت سے سٹے آرڈر مل گیا تھااور وہ اُسی سٹے آرڈر پر چار سال وزیر اعلیٰ رہے ۔ہمیں یقین ہے کہ اب بھی عدالت عالیہ ملکِ پاک کے بہترین مفاد میں ہمارے حکومت کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دے گی۔
سابق چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری جب وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے لیے یہ کیس تیار کررہے تھے تو انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 184 کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم کے خلاف پانامہ لیکس میں بیرون ملک اثاثے بنانے اور رقم بیرون ملک منتقل کرنے کا کیس خاصا مضبوط ہے، انہیں نااہل قرار دینے کے لیے وہ اسپیکر قومی اسمبلی، الیکشن کمیشن سے رجوع کریں گے یا سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کریں گے۔‘‘سپیکر قومی اسمبلی کے پاس وہ درخواست لے کرگئے مگر وہاں شنوائی نہ ہوسکی ۔سپیکرآفس نے اعتراض لگا کر درخواست واپس کردی تھی۔یقیناالیکشن کمیشن نے بھی بات نہیں سنی ہوگی کیونکہ درخواست میں اسے بھی فریق بنایا گیا ہے ۔یہاں تک
تو بات ٹھیک ہے۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے اس کے بعدتو انہوں نے توسپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہوا تھا وہ وہاں نہیں گئے ۔ وہاں جانے کی بجائے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست کیوں جمع کرادی ۔لوگوں کا خیال ہے کہ سابق چیف جسٹس نے یہ فیصلہ اس امید پر کیا ہے کہ ایک انتہائی ایماندار آدمی لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا گیاہے۔اسے وہاں سے ضرور انصاف ملے گا۔

حصہ