اسلام اور جدید تعلیم۔عروہ نیازی (یو ۔او۔ ایس میانوالی کیمپس)
میں نے کئی ایسے طالبعلم دیکھے ہیں جو اپنی تعلیم کے متعلق کنفیو زن کا شکار ہیں۔ان کے سامنے تعلیم کے متعلق احا دیث پیش کی جا ئیں تو وہ ضرور ایک بار کنفر م کر تے ہیں کونسی تعلیم؟ حالانکہ بیا ن کی گئی حدیث میں تعلیم کی کو ئی ایک شاخ پہ با ت نہیں کی گئی ہو تی۔مثا ل کے طور پہ میں تین احا دیث بیا ن کروں گی۔
حضور پاک ﷺ کا فرمان ہے۔
۱۔محد سے لحد تک علم حا صل کرو۔
۲۔علم حا صل کرو چا ہے تمہیں چین جانا پڑے۔
۳۔علم حا صل کرنا ہر مر د و عو رت پر فرض ہے۔
ان احا دیث میں کہیں بھی تعلیم کی کسی ایک شا خ کا ذکر نہیں کیا گیا،یہاں تعلیم کی بات کی گئی ہے،چا ہے وہ دینی تعلیم ہو یا دنیا وی۔
اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ دنیا وی یا سائنس کی تعلیم ان احا دیث کے زمرے میں کیسے آتی ہے،اس کے لئے میں کچھ مثا لیں دوں گی۔ َ ِ 8غ غزوہِؑ ؑ ؑ ؑ بدرکے مو قع پر جنگی قیدیوں کی رہا ئی کے لئے جودو شرا ئط رکھی گئیں تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ۱۰،۱۰ بچوں کو تعلیم دیں۔
کفا ر کے پاس تو دنیا وی تعلیم ہی تھی۔اور رسول پاک ﷺ نے اس تعلیم کو دینے کاخود حکم جا ری کیا تھا ۔تو اس حکم کی رو سے دنیاوی تعلیم
سنت بن گئی۔اور نبی پاک کافرما ن ہے۔جس نے میری ایک سنت کو زندہ کیا اسے ۱۰۰ شہیدوں کا ثواب ملے گا۔
ِِاب اگر ہم بغور سا ئنس کی تعلیم کو دیکھیں تو وہ ہمیں کئی جگہ پہ قر آن پا ک کی بڑی خو بصو رت تشریح کرتی نظر آتی ہے۔
8قر قر آنِ پا ک میں ہما را رب فرماتا ہے۔
اورجو لوگ کفر کرتے ہیں کیا انہوں نے غو ر نہیں کیا کہ کا ئنا ت کو ایک اکا ئی سے پیدا کیا گیا ہے۔
اگر ہم فزکس میں جا ئیں
البرٹ آئن سٹا ئن۱۹۱۵۔
ایڈمن ہیل۱۹۳۹۔
ٓآخر پہ ۱۹۶۵ میں میں آنے والی بگ بیگ تھیوری اسی آ یت کی تشریح کر تی نظر آتی ہے۔اور اوپر کے دو سائنسدانوں کے تصورات اسی
تھیو ری کی طرف ایک قدم تھے۔اسی تشریح کی طرف ایک قدم تھے۔
اب اگر ہم دیکھیں تو کیا نیل آ رم سٹرا نگ ایسے ہی چا ند پر پہنچ گئے تھے،نہیں۔۔۔اس کے پیچھے بہت سی وجو ہات ہوں گی لیکن ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے میرے آقا ﷺ کے معجز ہ کی تصدیق کرنی تھی۔میرا رب چا ہتا تھا کہ کوئی غیر مسلم اس معجزے کو پو ری دنیا کو بتائے،اور پھر جب وہ واپس پلٹے تو اپنے ساتھ یہ الجھن لے کے زمین پر اترے کہ چاند پر ایک دراڑ کیوں تھی؟اور پھر اسکا جواب اسلام میں موجود تھا۔
میرے آقا ﷺ کا چا ند دو ٹکرے کرنے والامعجزہ انہیں جواب دے گیا۔
یہ فزکس چا ہے غیر مسلمزکی تھیو ریوں پہ بحث کرتی ہو بیان میرے نبیﷺ کے معجزے اورتشریح ہما رے قرآن کی آیتوں پہ کرتی ہے۔تو پھرہم فزکس کے سٹو ڈنٹ ہو کے کیوں یہ سوال کرتے ہیں۔کونسا علم؟
ایک اور جگہ ار شاد ہو تا ہے۔
ہم نے جاندا روں کو جو ڑوں کی صو رت پیدا کیا۔
بائیولو جی کے کئی ٹا پک اسی ایک آیت پہ بیس کرتے ہیں۔
اکثر سٹو دنٹ کو یہ شکا یت بھی رہتی ہے کہ اگر ہم انسانوں کے بارے میں پڑہیں تو وجہ سمجھ میں آتی ہے لیکن ایسے جانوروں کے بارے میں روز پڑہنا کہاں کی عقلمندی ہے جن سے ہما را کبھی واستہ ہی نہیں پڑا، ایسے سٹو ڈنٹ کے لئے یہ جواب ہے کہ میرے رب نے جاندار کالفظ استعمال کیا اس لئے ہم ہر جاندار کو سٹڈی کرتے ہیں۔اگر وہ انسان فرماتا تو پھر یہ سب کبھی بھی نہ پڑہا جاتا۔
اب اگر کو ئی باٹنی یا زو لو جی کا سٹو ڈنٹ ہو تو کیا اس کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ پو چھے کونسا علم؟؟
میرے آقاﷺ نے تجا رت کے لئے مختلف ممالک کا سفر کیا۔مختلف صحا بہ کرام کا اپنا اپنا بزنس تھا۔
میرے آقا ﷺ نے تجارت کے دوران ہر چیز کا حساب کتا ب رکھا ہو گا۔
کیا اب ہما را یہ حق بنتا ہے کہ ہم بزنس کے سٹوڈنٹ ہو ں ،اور پو چھیں کو نسا علم؟
کمپیوٹر سائنس ایک ایسا سبجیکٹ ہے جس کی اپنی ویلیو ہو نے کے با وجودوہ ان تمام سبجیکٹس کو سپورٹ کرتا ہے۔
اب کمپیوٹر سائنس کے سٹوڈنٹ ہو کے کیا ہما را یہ حق بنتا ہے کہ ہم سوال کریں کہ کو نسا علم؟
مدر جہ بالا بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان احا دیث میں کسی مخصوص علم کی نہیں بلکہ ہر طرح کے علم کی بات کی گئی ہے۔

حصہ