خوشبو
ڈاکٹر اسد مصطفی
ہمارا امتحان
شاید ساغر خیامی نے اپنی شرافت سے متاثر ہو کر کہا تھا
کیا عجب چیز ہے شرافت بھی
اس میں شر بھی ہے اور آفت بھی
ہم بھی از حد شریف واقع ہو ئے ہیں۔لاہوریوں کے ہاتھوں ہمارے لٹنے کا واقعہ بھی اسی شرافت کے طفیل ہوا تھا وگرنہ آج ہم بھی دعویٰ کر سکتے تھے کہ بی اے میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ ۔انعام اللہ خان کے لاہوریوں سے لٹنے کی خبر پر ہم نے جو کالم لکھا تھا اس پر ہمارے دوست اور سابقہ کولیگ پروفیسر عمران عارف نے فیس بک پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگر ہم لاہوریوں کے ہاتھوں اپنے لٹنے کے واقعے کو بھی اسی انداز میں بیان کر دیں تو ایک اچھا کالم ثابت ہو سکتا ہے ۔ہمارے لٹنے کا واقعہ انعام اللہ نیازی کے واقعے سے کافی مختلف ہے لیکن اس قدر اثر انگیز تھا کہ ہمیں کبھی نہیں بھولے گا ۔ہوا یوں کہ پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں ایم اے اردو میں ہمارا داخلہ ہوا توہمیں بی اے میں نمبر بڑھانے کا خیال آیا تاکہ اپنی سابقہ نالائقیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے آئندہ اچھے نمبر لیے جائیں اور پروفیسری کی راہ ہموار کی جائے۔سو امپرومنٹ کے لیے بی اے کا داخلہ بھیج دیا اور امتحانی سنٹر کے خانے میں لاہور لکھا تاکہ ایم اے کی کلاسز بھی متاثر نہ ہوں اور پرچے بھی اچھے ہو جائیں۔ یونیورسٹی نے ہمارا امتحانی سنٹر،اسلامیہ کالج سول لائنز میں رکھااور ہم بھی خوش تھے کہ وولنر ہاسٹل سے چند قدم کے فاصلے پرہی توپرچے ہونگے۔وولنر ہاسٹل بھی ہماری یادوں کا عجیب وغریب مرکز ہے جس پر پھرکسی روز خامہ فرسائی ہوگی کہ اورینٹل کالج کے میکدہِ علم و عرفان کے بڑے بڑے جام نوش خالد بن ولید ہال اور وولنر ہاسٹل کی دلکش فضاؤں میں سانس لیتے رہے ہیں۔بہر حال پہلے پرچے والے دن ہمیں اپنے علم وفضل پر اتنا یقین تھا کہ آنکھیں بند کر کے بھی پرچہ حل کریں توبھی فرسٹ ڈویژن سے کچھ زیادہ ہی نمبر آئیں گے سو اپنی نشست دیکھ کر خاموشی سے پرچہ حل کرنے بیٹھ گئے۔اچانک ہمیں محسوس ہوا کہ کمرۂ امتحان کی پُر سکوت فضا کسی قسم کے شور سے بھر گئی ہے ۔کاغذوں کو الٹنے پلٹنے اور کتابوں کے کھلنے کی آوازوں نے جیسے ہمیں نیند سے بیدار کر دیا تھا۔ایک دلچسپ اور حیرت انگیز منظر ہمارے سامنے تھا ۔ کمرے میں موجود تمام طلبہ نے اچانک خفیہ خانوں سے مختلف قسم کی ’’بوٹیاں‘‘ نکال لیں تھیں جن میں ٹسٹ پیپرز،کتابیں اور ہاتھ سے لکھے ہوئے چھوٹے بڑے سبھی قسم کے اوراق شامل تھے۔ یہ حیرت ناک بلکہ خوفناک منظر دیکھتے ہی ہمارا دھیان وہاں موجود سپرنٹنڈنٹ اور نگران عملے کی طرف گیا اور خیال آیا کہ یہ حضرات فوری ایکشن لیتے ہوئے تمام ’’بوٹیاں‘‘ چھین لیں گے اور نقل میں مصروف نوجوانوں سے بہت سختی سے پیش آکر ان کے خلاف تادیبی کاروائی کریں گے مگرہماری حیرت کچھ اور بڑھ گئی جب سپرنٹنڈنٹ صاحب خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ ساری کاروائی سے لاتعلقی کا اظہار کر تے ہوئے ہمیں گھور رہے تھے کہ اس طالب علم نے ابھی تک ٹسٹ پیپر کیو ں نہیں نکالا۔اس ماحول میں نقل نہ کرنا، وہاں پر موجود عملے اور طلبہ کی نگاہ میں نیک عمل کم اور مجرمانہ زیادہ تھا۔بہرحال بہت جلد ہم نے اپنے آپ کو سنبھال لیا اور ارد گرد سے بے نیاز ہو کر اپنا پرچہ حل کرنے میں مصروف ہو گئے۔یہ غیر معمولی امتحان ہمیں اپنا امتحان محسوس ہونے لگا تھا کیونکہ کمرے میں ہم دوتین طلبہ کے علاوہ سبھی اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے بلکہ اشنان کرنے میں مصروف تھے۔جب کبھی خبر آتی کہ انسپکٹر صاحب آنے والے ہیں تو ’’بوٹیاں‘‘ اور سارے ’’پرزے‘‘ فورا منظر سے غائب ہوجاتے اور یہ سب لوگ ایسے معصوم دکھائی دیتے جیسے انہوں تو کبھی کسی غیر محرم لڑکی کوبھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا ہو لیکن انسپکٹر کی روانگی کی خبر ملتے ہی کمرے میں کتابوں کے کھلنے اور اوراق پلٹنے کی آوازیں بہت تیز ہو جایا کرتی تھیں۔امتحان ختم ہوا توہمیں یقین تھا کہ اس بار ہم اسی فیصد سے زیادہ نمبر لے کر شاندار قسم کی پروفیسری کی بنیاد رکھیں گے ۔ہمیں رزلٹ کی خوشی پہلے ہی سے محسوس ہونے لگی تھی ،اور اس خوشی میں اپنے قریبی دوستوں اور کلاس فیلوز کو بھی شریک کر لیا تھا ۔جوں جوں بی اے کے نتیجہ کے دن قریب آرہے تھے ہماری خوشی میں اضافہ ہورہا تھا کیونکہ اس سے پہلے ہم نے اتنے اچھے پرچے کبھی بھی حل نہیں کیے تھے۔رزلٹ کے دن بے چینی کے عالم میں گزٹ دیکھنے کے لیے لمبی قطار میں ہم سب سے آگے تھے کہ شایداس دن کی کلاسز بھی چھوڑدی تھیں۔لیکن جیسے ہی ہماری نظر اپنے رزلٹ پر پڑی ہم سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا کیونکہ ہم صرف دو مضامین میں کامیاب تھے اور باقی تمام مضامین میں غیر حاضر یعنی Absent قرادر دیے گئے تھے۔رزلٹ کارڑ ملتے ہی متعلقہ کلرک سے لے کر کنٹرلر صاحب تک سب سے فریاد کی ، ان کو اپنی حاضری کا یقین دلایااور اپنے اچھے پرچوں کا احوال سنایا مگر کہیں سے کوئی آس اور امید کا ستارہ روشن نہیں ہوتا تھا ۔اسی اثنا میں ہمیں ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اسلامی جمعیت طلبا کے ناظم صاحب سے مل کر اپنا احوال کہو اور انہیں کنٹرولر صاحب کے پاس لے جاؤ ۔سو ان کے در پر حاضری دی تو یہ سفارش کام آگئی اور کنٹرولر صاحب نے ہماری اشک شوئی کرنے کی حامی بھر لی۔اب ایک مرتبہ بھر ہماری امیدیں زندہ ہوگئی تھیں اور سوکھے دھانوں پر پانی پڑنے لگا تھا ۔ہم روزانہ ایم اے کی کلاسز کے بعد متعلقہ کلرک صاحب کے دفتر میں باقاعدگی سے حاضری دینے لگے اور وہ صاحب بھی شاید اس لیے آج اور کل پہ ٹالنے لگے کہ’’کٹا چو لیا جائے‘‘ مگر کٹے کا دودھ کدھر سے آتا ۔اسے جب ہم سے مایوسی ہوئی تو ایک دن اس نے ہمارے ہاتھ میں بی اے پاس کا ایک رزلٹ کارڈ تھما دیا جس میں ہمارے نمبر سابقہ نمبروں سے بھی تقریباً سو نمبر کم تھے۔اپنا رزلٹ دیکھتے ہی ہم آگ بگولہ ہوگئے اور اس کارڈ کے پرزے پرزے کرتے ہوئے اسے لاہوری کلرک کے منہ پر دے مارا۔۔۔۔لیکن ہمیں آج بھی افسوس ہے کہ ہم نے ایسا کیوں کیا تھا کیونکہ اصل قصور وار وہ کلرک نہیں بلکہ ہم خود تھے کہ ہمیں پتہ بھی نہ تھا کہ اسلامیہ کالج کے سنٹر میں بی اے کا امتحان کس طرح ہوتا ہے ۔

حصہ