(احوال عصر)
نظامِ تعلیم
عبدا لستار اعوان ۔satarawan@gmail.com
معروف اسلامی مفکر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے شان دار حال اور مستقبل کے لئے تعلیم کا حصول از حد ضروری ہے۔ شاہ ولی اللہ ؒ افراد کی شخصیت کی نمو کے لئے ایک جامع نظام تعلیم پر زوردیتے ہیں۔ آپ ؒ فرماتے ہیں کہ مثالی تعلیم و تربیت صرف وہی ہے جس میں مادی پہلوکے ساتھ ساتھ روحانی اوراخلاقی پہلوؤں کو بھی مد نظر رکھا جائے ۔مشہورِ زمانہ مغربی دانش ورافلاطون (Plato) کے مطابق : ’’تعلیم فرد کے ذہن اور جسم کی اس طرح نمو کانام ہے کہ وہ اپنے آپ کو مثالی شہری بنا کر ذاتی اور معاشرتی تکمیل کر سکے ‘‘۔ ایک اور مغربی مفکر کا کہنا ہے کہ ’’تعلیم انسانی ذہن کی ترقی اور قوم کے نوجوانوں کی تکمیل کا عمل ہے تاکہ معاشرتی بہبود اور امن کو یقینی بنایا جا سکے ‘‘ ۔ غرض مغربی دانش ور ہوں یا یا اسلامی مفکر ‘ سبھی ایک نکتے پر متفق ہیں کہ تعلیمی نظام کو پائیدار بنیادوں پر استوار کئے بغیر کوئی بھی معاشرہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا اور جس قوم میں تعلیم اور تعلیمی ادارے پہلی ترجیح نہ بن سکیں اسے اپنی قسمت پر نوحہ کناں ہو نا چاہیے کیونکہ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیرکوئی بھی قوم تعمیر و ترقی اور تشکیل نو میں اپنا کردار قطعاً ادا نہیں کر سکتی اور دورِجدید کے تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے ۔ ان سطور میں ہم ذرا اپنے نظام تعلیم کاجائزہ لیتے ہیں کہ اس ضمن میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تعلیم کے حوالے سے وطن عزیز میں صورتحال کچھ اتنی حوصلہ افزا نہیں کہ جسے فخر کے ساتھ پیش کیا جا سکے‘ قیام وطن سے آج تک شعبہ تعلیم پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ اس حوالے سے آئے روز ہوشربا رپورٹس اور خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے کسی کسمپرسی کاشکار ہیں اورہمارا نظام تعلیم ہمیں کیا دے رہا ہے ۔ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر ‘ہر ریاست اور معاشرے میں تعلیم کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ابھی تک تعلیم اور تعلیمی نظام اولین ترجیح قرارنہ پا سکااور خود کو اخلاقی و مادی حوالے سے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اہم اور ٹھوس قدم اٹھانا تو دور کی بات ایسا سوچا بھی نہیں گیا ۔
ایک طرف صورتحال یہ ہے کہ ہم مغربی نظام تعلیم میں جکڑے ہوئے ہیں جو اخلاق اور تہذیب سے عاری صرف مادیت پرستی کے گرد گھومتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اب تو اہل مغرب بھی اس نظام تعلیم سے خلاصی حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہیں ۔ دوسری جانب رہی سہی کسر طبقاتی نظام تعلیم نے پوری کردی ہے ، ہمیں سب سے پہلے تعلیمی ماہرین کو آگے لا کر ان کے ذریعے تعلیمی سسٹم اس طرح سے ترتیب دینا ہو گاکہ بلا تفریق ہر بچہ تعلیم حاصل کر سکے ۔ہمیں امیر اور غریب کا فرق ختم کر کے یکساں نظام تعلیم رائج کرنا ہوگا۔یہ امر کس قدر باعث حیرت ہے کہ اس ملک میں طرح طرح کے نظام تعلیم رائج ہیں اور امیر غریب ، صنعت کار، بزنس مین ، سیاستدان اور جرنیل‘غرض مختلف طبقات کے لئے الگ الگ طریق ہائے تعلیم رائج ہیں اور اس طبقاتی تفریق نے ہمارے نظا م تعلیم کو اس کی اصل سپرٹ سے محروم کر دیا ہے ۔ دوسری جانب المیہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں سے ایسی کھیپ تیار ہو رہی ہے جو صرف مادیت پرستی کے ٹکسال میں ڈھل کر نکل رہی ہے اور اس کے ہاں تعلیم حاصل کر کے دولت کمانا ہی مشن ہے۔ یہ ہمارے نظام تعلیم ہی کی وجہ ہے کہ ایک بچہ جب ابتدائی کلاسوں میں پوزیشن لیتا ہے تو اس کا عزم ہوتا ہے کہ میں پڑھ لکھ کر قوم کی خدمت کروں گا لیکن جب وہ ڈاکٹر‘وکیل یا انجینئر بن کر عملی میدان میں اتر تا ہے تو پھر اس کے ہاں سب سے پہلی ترجیح محض دولت کمانا ہی رہ جاتا ہے خواہ وہ حلال حرام کسی بھی طریقے سے حاصل ہو۔آج ہمارے سر کاری و پرائیویٹ ہسپتالوں کی دگرگوں صورتحال ‘اداروں میں کرپشن کا بڑھتا ناسور اسی امر کی غمازی کرتا ہے۔
شعبہ تصنیف و تالیف جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر ‘ممتاز ماہرتعلیم ڈاکٹر خالد جامعی اسی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ :’’ تاریخ میں کبھی کوئی نظام تعلیم مادہ پرستی، شکم اور شہوت پرستی کی بنیاد پر تعمیر نہیں کیا گیا، ہر تعلیمی نظام کسی اعلیٰ ترین تصورِ خیر’’Meta Narrative ‘‘کی فوقیت اور فروغ کا فریضہ انجام دیتا تھا۔ تعلیم کا مقصد روٹی کمانا نہیں تھا، علم حقیقتِ مطلقہ ’’Absolute Reality ‘‘اللہ رب العزت کی معرفت تک پہنچنے کا ذریعہ تھا۔ مگر عصر حاضر میں تعلیم کا اصل مقصد آزادی، مساوات اور ترقی کا حصول ہے، لہٰذا علم وہ ہے جس سے مال و دولت کثرت سے حاصل ہوتے ہوں، لہٰذا ہر شخص حصولِ دولت کے لیے علم حاصل کرتا ہے۔ یہ محض دعویٰ نہیں ہے، اس کی دلیل بھی موجود ہے۔اگراعلان کردیاجائے کہ کسی سرکاری وغیر سرکاری یورنیورسٹی سے سند لینے والے کو کسی ادارے میں ملازمت نہیں ملے گی تو تمام اسکول یونیورسٹیاں ویران ہو جائیں گی۔ یہ تعلیم علم کے لیے نہیں، روٹی کمانے کے لیے ہے، اس کا تعلق ’’العلم‘‘ سے نہیں، صرف عقلی علوم، سائنس، سوشل سائنس، آرٹ، کرافٹ اورفنون سے ہے۔ جسے دنیا کی تیئس تہذیبوں میں علم نہیں سمجھا جاتا تھا اور تجربی، سائنسی، حسی، عقلی علوم کو علوم کی تلچھٹ کہا جاتا تھا، اسی لیے سقراط ، افلاطون اورارسطو کے ہاتھوں سوفسطائیوں کو شکست ہوئی تھی، جو پیسے لے کر فنون بیچتے تھے اور اسے علم کہتے تھے، علم خرید و فرخت کی شئے نہیں ہے‘‘
ڈاکٹر خالد جامعی کہتے ہیں کہ ’’ ہمارے ایک دوست جو ملٹی نیشنل کمپنی میں ڈائریکٹر فنانس کے عہدے پر فائز ہیں اور ان کا بچہ ’’جنریشن اسکول‘‘ میں پڑھتا ہے، ہمیں بتایا کہ ان کا بچہ بہت اداس اور افسردہ ہے، وہ پوچھتا ہے کہ ابو ہمارے گھر میں سب کچھ ہے، مگر سوئمنگ پول (تیراکی کا حوض) کیوں نہیں ہے؟ بچے کے گھر میں دنیا کی ہر نعمت ہے، صرف پانی کا حوض نہیں ہے، تو اسے اپنا گھر حقیر نظر آتا ہے۔ ’’ھل من مزید‘‘ کایہ طرزِ فکر، یہ احساس محرومی، بے بسی و بے کسی کا یہ اسلوب کس نے پیدا کیا؟ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ جدید تعلیمی ادارے ہماری تاریخ نے تخلیق نہیں کیے، یہ ہم پر مسلط کیے گئے ہیں،اس نظام کو فی الحال بدلنا ممکن نہیں ہے اور ریاستی قوت کے بغیر اس کا فوری متبادل پیش کرنا بھی اس وقت ممکن نہیں، لہٰذا ہم حالت اضطرار میں ہیں۔ لیکن لمحۂ موجود میں امریکہ، کنیڈا میں جدید اسکولوں کا متبادل Home School/ Mom School/ Dad School وجود میں آچکے ہیں۔ گھروں، بستیوں، محلوں میں قائم یہ غیر تجارتی ’’Non Commercial‘‘ مکتب جو ہمارے شاندار ماضی کی یاد گار ہیں، مغرب کے موجودہ نظام تعلیم کے لیے موجودہ سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں سے بہت اچھے، سستے اور بہت بہتر طلبہ تیار کررہے ہیں، جو اخلاقی طور پر اور صلاحیتوں کے اعتبار سے بہت برتر ہیں۔ یہ اسکول ماں باپ نے خود اپنی مدد آپ کے تحت قائم کیے ہیں، کیونکہ صرف مادی کامیابی کے لیے تخلیق کیے گئے جدید اسکول مغرب کے بچوں کی مادی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر ہیں اور بے شمار سنگین مسائل پیدا کردیتے ہیں۔ یہ مکتب قائم کرنے والے بہت مذہبی لوگ بھی نہیں ہیں، ان کا مقصد بچوں کی اخلاقی، روحانی، ایمانی، نورانی تربیت بھی نہیں ہے، محض مادی احساسِ زیاں یعنی ترقی کی رفتار تیز تر کرنے کی خواہش، آرزو اور جستجو نے ان کو ایک نئے تجربے اورمتبادل نظام پر آمادہ کیا اور وہ صرف مادی طور پر کامیاب ہوگئے۔برصغیر پاک و ہند میں سرسید نے دو سو سال پہلے جدید سیکولر تعلیم کا آغاز کیا، مگر اس وقت بھی انہیں یقین تھا کہ: ’’جدید تعلیم کے نتیجے میں ہندو، مسلمان، عیسائی کے دل میں بھی مذہب کی وقعت باقی نہیں رہتی، ان کے عقیدے نبوت اور الوہیت کی طرف سے بھی متزلزل ہوجاتے ہیں۔ ان کو معلوم تھا کہ مغربی علوم اور مغربی لٹریچر کی بدولت اکثر ممالکِ یورپ میں روز بروز دہریت اور الحاد پھیلتا جارہا ہے۔ (حالی،حیات جاوید،ہجرہ انٹر نیشنل پبلشر لاہور، ۱۹۸۴ء ،طبع اول، ص: ۲۳۳، باب پنجم )
دوسری جانب سرکاری سکولوں اور محکمہ تعلیم کی ابتری کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ نظام تعلیم ہمیشہ نان پروفیشنل لوگوں اور ریٹائرڈ جرنیلوں کے حوالے کیا جاتا رہا ہے ۔ یہاں ایسے وزرائے تعلیم رہے ہیں جن کی صلاحیتیں قطعاً اس میدان کے قابل نہ تھیں۔ ایک نہایت سادہ سوال ہے کہ جن لوگوں نے تعلیمی شعبے کی تربیت ہی حاصل نہیں کی ‘جنہیں یہ سسٹم چلانے کی سدھ بدھ بھی نہیں، جو کسی اور میدان کے لوگ ہوں وہ ہمیں اس میدان میں کس قدر بہتر نتائج دے پائیں گے اور وہ مادی و اخلاقی ضروریات کو ایک ساتھ لے کر کیسے چل سکتے ہیں۔۔۔۔؟ اداروں میں کس طرح کا نصاب پڑھایا جا نا چاہیے ‘اس کے بچوں پر آنے والی زندگی میں کیا اثرات مرتب ہوں گے اور وہ مستقبل میں ملک و قوم کی بہتری کے لیے کیا کردارادا کر سکیں گے ‘ ملکی ترقی کا پہیہ کس قدر تیزی سے رواں ہو پائے گا ‘ تعلیم اور تعلیمی نصاب پر دسترس رکھنے والے ماہرین کی کماحقہ خدمات لینے سے ہی اس طرح کے نظام کو بخیر وخوبی چلایا جا سکتاہے۔جنہو ں نے کبھی دیہاتی سکولوں کی صورت دیکھی ہو ‘ٹا ٹ پر بیٹھے ہوں اور نہ ہی انہیں یہاں کی تہذیب و ثقافت سے دلچسپی ہو ‘وہ اعلیٰ طبقے کے فرد ہوں اور انہوں نے تمام تر تعلیم بیرون ممالک سے حاصل کی ہو اگر ایسی بیوروکریسی کے ہاتھ میں یہاں کا تعلیمی سسٹم دے دیا جائے تو اس سے بہترثمرات کی توقع کیونکر رکھی جا سکتی ہے۔ ۔۔۔؟کس معیار کے حامل لوگوں کو بطور استاذ تعینات کیا جائے اور کن لوگوں کو تعلیمی مینجمنٹ کے شعبے میں لیا جائے ‘ابتدائی کلاسز سے بچوں کی تربیت کن خطوط پر استوار کی جائے ‘کس قسم کے تعلیمی منتظمین ہوں‘ایسے اور ان جیسے دیگر بنیادی مسائل جان کر اور یہ خامیاں دور کر کے ہی نظام تعلیم کو بہتر کیا جا سکتا ہے ۔ہمارا سسٹم چونکہ جمہوری ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ایسے لوگوں اور ایسی جماعتوں کو ایوانِ اقتدارتک پہنچایا جائے جو تعلیم کے میدان میں بنیادی اور انقلابی اصلاحات لانے کی جستجو اور فکر رکھتی ہوں اورجو اس شعبے کو اس کی اصل روح لوٹادینے کے لئے کچھ کر گزرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہوں۔
ہمارے ماہرین تعلیم صرف مادی کامیابی کو مد نظر رکھ کر ہی نظام ترتیب نہ دیں‘مادی ترقی سے انکار بھی حقیقت سے انکار ہے مگر ایساتعلیمی لائحہ عمل مرتب کیا جائے جس میں اخلاقی ، ایمانی اور نورانی تربیت کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے اور ایسی کوششیں بروئے کار لائی جائیں جن سے معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک ہی نظام تعلیم کی لڑی میں پرویا جا سکے ۔اس شعبے میں تربیت یافتہ اورمحب وطن ماہرین کو شامل کر کے ان کی صائب رائے اور ان کے تجربات سے استفادہ کئے بغیرنظام تعلیم کومادی ‘ اخلاقی اور طبقاتی تقسیم سے بالاتر بنیادوں پر استوارکرنے کے خواب دیکھنا محض احمقوں کی جنت میں بسنے کے مترادف ہوگا ۔
*****

حصہ