شاکرہ نندنی

ہم جسے چاہیں، وہ بھی ہمیں چاہے
یہ ضروری تو نہیں
ملے پیار کے بدلے پیار
یہ ضروری تو نہیں

ملاکر نظریں کُچھ لوگ
مل جاتے ہیں دل میں
ہو ملن تن کا تن سے
یہ ضروری تو نہیں

ہوتے ہیں کُچھ لوگ
جو پا لیتے ہیں چاہ کر کُچھ بھی
ہو سب کا نصیب اِک جیسا
یہ ضروری تو نہیں

صورت مل جاتی ہے اکثر
دوسروں سے تیری
سیرت بھی ہو تُجھ جیسی
یہ ضروری تو نہیں

شاکرہ مت رکھ حسرت
کسی پر مر کر جینے کی
سب کا نصیب ہو آسان موت
یہ ضروری تو نہیں

حصہ