Neelab Image

تحریر: مریم شہزاد ، کراچی

اف کتنی خطرناک تصویریں ڈالی ہیں ان لوگوں نے فیس بک پہ، رافع نے جھرجھری لی
“تم دیکھتے کیوں ہو، میں تو جلدی سے آگے بڑھ جاتی ہوں “عارفہ نے کہا
“کتنا آگے بڑھو ہر دوسری پوسٹ ہی شام پر بمباری کی ہے”رافع نے کہا
“ایسا نہ کریں کے دیکھیں تو سہی کہ ہے کیا آخر ان پوسٹ میں “عارفہ نے رائے دی
خیال تو آیا تھا مجھے بھی، چلو کھولتے ہیں ،پڑھیں تو سہی،
دونوں نے اپنے اپنے موبائل فونز پر شام سے متعلق پوسٹ پڑھنی شروع کی
“امپاسبل، کیا پاگل ہیں یہ لوگ اتنی تباہی، اتنی بربادی، ”
پوری نسلوں کو برباد کر رہے ہیں یہ تو،
“درندگی کی بھی حد ہوتی ہے، یہ اقوام متحدہ بھی کچھ نہیں کہتی؟ ”
“اور جو انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیں انکا بھی کہییں کوئی بیان نہیں ”
“واقعی ایک ترکی ہی سب کے ساتھ کھڑا نظر آرہا ہے، اور کسی مسلم ملک کے صدر ،وزیراعظم کا کوئی بیان تک نہیں ،”
“اور دیکھو تو دبءمیں آتش بازی ہورہی ہے سعودی عرب میں فیشن ویک کی تیاری، پاکستان میں تو کسی ایک بچے پر تشدد بھی ہو جائے تو پوری دنیا پاکستان کو دہشت گرد قرار دے دیتی ہے تو جو لوگ ان شامی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں کیا وہ دہشت گرد نہیں ہیں؟ ”
دونوں کے پاس ایسے بےشمار سوال تھے اور وہ حیران اور پریشان تھے کہ ان کو کیا کرنا چاہئے، بہت دیر دونوں بہن بھائی سوچتے رہے آ خر امی ابو کے پاس گئے اور ان سے پوچھا مگر۔۔۔۔
“کیا فضول دل خراب کرنے والی چیزیں دیکھ رہے ہو تم لوگ، انجوائے کرو، یہ عمر تھوڑی ہے تمھاری ان مسائل میں پڑنے کی، جاو 191 میچ دیکھو یا اسٹڈی کرو، ”
پتا نہیں کیا اول فول چیزیں دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں یہ بچے بھی”
امی ابو کے ایسے جواب کی ان دونوں کو امید نہیں تھی
رافع سے رہا نہ گیا وہ بولا “لیکن امی، ابو، یہ وقت ہم پر بھی آگیا تو؟ تو کیا ہمارے لئے بھی کوئی کھڑا نہیں ہو گا؟ ”
امی ابو ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے کیونکہ ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا

حصہ