حدِ ادب
انوار حسین حقی
ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے
_____________
دو ہفتے قبل کامرس کالج کے اکرا م الحق شاہ اس دنیا فانی سے رُخصت ہو گئے ۔ انا للہ ونا الیہ راجعون ۔کہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔ موت ایک حقیقت ہے اِس سے مفر ممکن نہیں لیکن بعض موتیں ایسی ہوتی ہیں جو ذہنوں پر ایسا نقش چھوڑ جاتی ہیں کہ مٹتا ہی نہیں ۔۔ اور زخم ایسا کہ مندمل ہونے کا نام ہی نہ لے اور چوٹ ایسی کہ نشان باقی رہے۔۔۔ میانوالی شہر کے محلہ ’’ گلی بنک ‘‘ کے مکیں گذشتہ گیارہ ماہ سے ایسی ہی اموات کے صدمات سہتے چلے آ رہے ہیں ۔
زمیں لوگوں سے خالی ہو رہی ہے .
یہ رنگِ آسماں نہ دیکھا جائے
اکرام الحق شاہ میرا ہم عمر اور ہم جماعت تھا ایک گلی ، ایک محلہ ، ایک سکول ، ایک کالج اور پھر ایک ہی شہر سمیت اُس کے ساتھ بہت رشتے تھے سب سے بڑھ کر یہ ہمارا بچپن ایک ساتھ گذرا ۔ میانوالی شہر کے محلہ گلی بنک اور اس سے متصل مہاجرین سٹریٹ ، سٹی سٹریٹ اورجنوبی جانب مین بازار سے متصل محلہ گؤ شالہ کے درمیان قربت کی جڑیں بہت گہری ہیں ۔ گذشتہ عید الفطر کے دوسرے روز سے لے کر اس سال شب، برآت سے ایک روز پہلے تک محلہ گلی بنک میں موت کا راگ کئی بار سُنائی دیا ۔ ہر مرتبہ موت کے ہاتھوں وہ دولت لُٹی کہ سب کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ۔ اہل محلہ اپنے کڑیل جوانوں کے لاشوں اور تابوتوں کو کندھا دے دے کر نڈھال ہو تے رہے ۔
فیصل اعوان کی المناک موت کا دکھ باقی تھا کہ تلہ گنگ روڈ پر ایک المناک حادثے میں رانا وسیم اکرم ،شیخ مظہر عرف بابو اور عطاء الرحمن شاہ اپنے خالقِ حقیقی کو جا ملے ، جبکہ وقار چوہدری، حذیفہ شاہ اور چوہدری مصطفی زخمی ہوئے ۔ اس حادثے نے پورے میانوالی کو سوگوار کر دیا۔ ۔پھر کچھ عرصہ بعد اسی حادثے میں شدید زخمی ہونے والے وقار چوہدری بھی اپنے مالکِ حقیقی اور اپنے تینوں مرحوم دوستوں سے جا ملے ۔ وقار کی موت نے سب کا غم زندہ کر دیا ۔ ایک مرتبہ پھر آہ و بکا نے صبر کے پیمانے لبریز کر دیئے ۔محلہ گؤ شالہ میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی ۔ ایک جم غفیر وقارچوہدری کو رُخصت کرنے کے لیئے اُمڈ آیا تھا ۔ رانا وسیم اکرم ، مظہر شہخ اور وقار چوہدری کی جانب سے ہمیشہ مجھے پیار اور احترام ملا ۔تینوں محبت کرنے والے خوبصورت اور قابل رشک کردار کے مالک نوجوان تھے ۔ ان تینوں اور عطاء الرحمن پر پہلے پیار آتا تھا اب ان کے ذکر پر آنسو اآمڈ آتے ہیں ۔اس سانحے پر مجھے سید نصیر شاہ کے لکھے ہوئے وہ اشعار یاد آئے جو انہوں نے پروفیسر سرور نیازی کے بیٹے سجاد سرور نیازی کی موت پر کہے تھے کہ
تُجھ سے نقاشِ ازل کس طرح پوچھا جائے
کیا ضروری ہے کہ ہر نقش مٹایا جائے
خود تخلیق کیا ہو جو مثالی شاہکار
اپنے ہاتھوں سے اُسے پھاڑ کے پھینکا جائے
کچھ ہی دن بعد سانحہ تلہ گنگ سے نڈھال اہل محلہ محمد اسلم خان شہباز ایڈوکیٹ کا غم بانٹتے پائے گئے ۔ شریف النفس اور محبت کے پیکر اسلم خان شہباز کا جواں سال بیٹا ڈاکٹر شعیب اسلم خان راہِ عدم کو سُدھا ر گیا ۔ اس نوجوان کی المناک موت نے سب کو دُکھی کر دیا ۔ شعیب اسلم کی وفات کے بعد اُس کے جسدِ خاکی کو سعودی عرب سے میانوالی لانے میں ایک ہفتہ لگ گیا تھا ۔ یہ وقت شعیب کے والد ، والدہ ، بھائی اور اہلیہ کے لیئے کس قدر اذیت ناک تھا اُس کا اندازہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا ۔ شعیب اسلم عمر میں بہت چھوٹا تھا اُس کا بچپن تعلیم و تربییت سب سامنے کی بات ہے ۔ یہ دکھ بھی کبھی نہیں بھُلایا جا سکے گا ۔
مسجد بلال سٹریٹ کے رہائشی ریاض شاہد بھی شیر شاہ سوری روڈ پر ٹریفک کے حادثے میں ہم سب سے جدا ہوئے ۔ چھوٹے اور معصوم بچے تنہا رہے گئے ۔ ایک پر خلوص نوجوان کے طور پر اہلِ محلہ کو اُس کی یاد بھی ہمیشہ تڑپاتی رہے گی ۔
ان سانحوں کے متائژین صرف مرحومین کے ورثاء نہیں بلکہ سوگواروں کا ایک ہجوم ہے عمگساروں کی ایک بڑی تعداد ہے جن کی آس کی فروزاں شمعیں بُجھ چُکی ہیں ۔ جن کے خواب اُجڑ چُکے ہیں ۔ اور جن کی زبان پر اسلم کولسری کے وہ اشعار ہیں جو انہوں نے اپنے جواں سال بیٹے کی وفات پر کہے تھے ۔
سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے
ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے
جو جانبِ صحرائے عدم چل دیا تنہا
بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے
جو پھول سجانا تھے مجھے تیری جبیں پر
بھیگی ہوئی مٹی پہ بکھیرے نہیں جاتے
سید اکرام الحق شاہ ، عطاء الرحمن شاہ ، رانا وسیم اکرم ، شیخ مظہر عرف بابو، وقار چوہدری ، ڈاکٹر شعیب اسلم ، ریاض شاہد اور فیصل اعوان اپنے والدین ، بہن بھائیوں ، عزیز و اقرباء کے محبوب تھے اور رہیں گے ۔ہم سب ٹھنڈی سانسوں کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ ان مرحومین نے ہم سے دامن چھڑا کر مٹی کو جو گھروندے آباد کیئے ہیں ۔ خداوندِ کریم انہیں مٹی کے ان گھروندوں میں سُکھی اور پرامن رکھے۔ ان کی مرقدیں پرنور ہوں اور ان کے درجات بلند ہوں۔۔۔۔۔۔ان کے پسماندگان کو اللہ پاک صبرِ جمیل عطاء فرمائے

حصہ