حدِ ادب
انوار حسین حقی
منصوریات
_____________
میری دھرتی میانوالی کو جہاں یہ افتخار حاصل ہے کہ مسلمان سندھ اور بلوچستان کی فتح سے بھی پہلے اس علاقے میں پہنچے وہاں ہمارا سر اس حوالے سے بھی فخر سے بلند ہے کہ اس سرزمین کے باکمالوں نے زندگی کے ہر شعبے میں سورج کے رتھ پر سواری کی ہے ۔
ہمارا علمی اور ادبی ورثہ گراں قدر اور انتہائی ضخیم ہے۔اس کے امانتداروں میں ایک نام آج کے صاحبِ شام محمد منصور آفاق کا بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔15220076_1882158198737027_4955487053101570911_nادب میں تلوک چند محروم، ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد، ہرچرن چاولہ اور بے شمار نامور قلمکاروں کی علمی ادبی وراثتوں کا امین اور جانشین محمد منصورآفاق زندگی کو ضمیر کن فکاں سمجھ کر اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لیئے سرگرم ہوا اور آج ایک معروف شاعر ، نامور ادیب، ڈرامہ نگار اور جرات مند کالم نگار کی حیثیت سے ہمہ جہت شخصیت کا مالک بن چُکا ہے ۔15219469_1882114972074683_5751767986723398750_n
ریگ زاروں ، صحراؤں ، کہساروں، عزت مندوں اور حوصلہ مندوں کی اس سرزمین کا یہ لالہٗ صحرائی اپنی ہر غزل، نظم ،شعر ، مصرعے، ڈرامے اور کالم سے پہچانا جاتا ہے ۔
میں محمد منصور آفاق کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب یہ تخلیقی عمل میں پوری طرح گرفتار ہونے کے لئے ’’قلبی وارداتیں ‘‘ کرنے کی بجائے ادبی معرکہ آرائیوں کی سالاری میں مگن پایا جاتا تھا۔
میری اِس سے شناسائی دوچار برس کی بات نہیں بلکہ تین دہائیوں کی کہانی ہے ۔ بہت سی ایسی یادیں ہیں جن کی ہوائیں میری یادداشت کے شہر سے سرسراہٹ کے ساتھ گذرتی ہیں اور ان کی خوشبوؤں کو سرِ عام مہکایا نہیں جا سکتا ۔
اس میں ’’ ہم چُپ ہیں منظور ہے پردہ تیرا ‘‘ والی کوئی بات نہیں ہے ۔ 15271225_1036752706433960_1004578038_o
محمد منصور آفاق کی شخصیت کے کئی رنگ اور رُوپ ہیں ۔یہی رَنگ اور رُوپ اِسے سرُوپ عطاء کرتے ہیں ۔ میری دانست میں ہر شاعر ، ادیب ، کالم نگار اور ڈرامہ نگار منصور آفاق نہیں بن سکتا ۔اسلئے منصور آفاق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میں انصاف سے کام لینے کی ہر ممکن کوشش کروں گا ۔ اور ’’ڈنڈی ‘‘ مارنے کی معمولی سی کاوش اس لئے بھی نہیں کر سکتا کہ میں پہلے ہی کہ چُکا ہوں کہ ’’ ادب سے وابستہ ہر کوئی محمد منصور آفاق نہیں بن سکتا ‘‘ ۔
میری طالب علمی کے دور میں محمد منصور آفاق، جناب شرر صہبائی مرحوم اور سید انجم جعفری مرحوم نے میانوالی کی ادبی دنیا میں ’’ معرکہ حق وباطل‘‘ برپا کیا ہواتھا ۔ اُردو اور سرائیکی کے شعراء کے درمیان گھمسان کے رن کی سی کیفیت تھی ۔ اُس وقت کے تمام متحارب ادبی دھڑوں اور گروپوں میں ’’ اچھے اور بُرے طالبان ‘‘ کی شناخت کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھی ۔
منصور آفاق اردو میں جمال سے مزین اور خیال سے بھرپور شاعری کرنے کے باوجود ’’ نیٹوافواج ‘‘ کی طرح سرائیکی شعراء کی جنگ لڑنے میں مصروف رہتا تھا ۔
کہا جاتا ہے کہ جج اپنے فیصلوں اور قلمکار اپنی تحریر میں بولتا ہے ۔ لیکن اُس دور میں منصور آفاق اپنی تخلیقی سر گرمیوں کی بجائے ادب کا ’’مُلا راکٹی ‘‘ سمجھا جاتا تھا ۔ گیان کی دولت سے مالامال ہونے کے باوجود یہ صرف اپنے قریبی دوستوں اور ساتھیوں کو ’’اچھا طالبان ‘‘ معاف کیجیئے گا اچھا شاعر سمجھتا اور تسلیم کرتا تھا۔
پنجابی ، پوٹھوہاری ، ہندکواور سرائیکی زبان کے خوبصورت مرکب ’’ میانوالی کی مقامی زبان ‘‘ کو سرائیکی قرار دینے کا فیصلہ اِس نے پہلے صادر کیا اور اُس کے خلاف دلائل بعد میں سُنے ۔یہ میانوالی میں جتنا عرصہ رہا ’’ فنون ‘‘ تک کامل دسترس رکھنے کے باوجود ’’اوراق ‘‘ بن کر’’ انور سدیدوں‘‘ میں گھرا رہا ۔
میانوالی سے ہجرت نے محمد منصور آفاق کو ایک نیا جنم دیا ۔ ڈرامہ نگاری میں اس نے اپنی پہچان مستحکم کی ۔نمک سار ، زمین ، پانی پر بنیاد ، پتھر ،سویا ہوا شہر ، دنیا ، دھن کوٹ جیسی معروف ڈرامہ سیریلز اور بہت سے Plays اس کے کریڈٹ پر ہیں ۔
شاعری میںیہ معصوم آواز کبھی نہیں رہا۔ لیکن بڑی معصومیت کے ساتھ سادگی میں پُرکاری کا فن دکھانے کا ماہر ہے۔ ارود ادب اور شاعری کی دنیا میں اُس نے اپنا مقام بہت جلد منوا کر خو د کو میانوالی کا ’’ فخر اور ادب کا شولڈر کراؤن ‘‘ بنا لیا ہے ۔
منصور آفاق ایسا شاعر ہے جو تحریکوں اور ادبی لابیوں سے وابستہ ہونے کے باوجود شعر کہنے کے لئے شعر کہتا ہے ۔اور خوب کہتا ہے ۔ اس کی شاعری میں سب سے اہم چیز موضوعات کی رنگا رنگی ہے۔
یہاں آپ کو والدین کی یادیں ، میانوالی کی باتیں اور سوغاتیں ، محبوب کے ہجر و وصال کے لمحات کے ساتھ ساتھ قوی احساسات و خیالات بھی جھلکتے اور چھلکتے نظر آتے ہیں ۔ اس کی شاعری میں کہیں نغمگی ہے تو کہیں فلسفہ کی آمیزش ۔۔۔۔ اور کہیں کہیں خوشگوار سے بوجھل پن کا ادراک بھی ملتا ہے۔ منصور آفاق نے شاعری میں الفاظ اور خیالات کو کمال خوبصورتی سے برتا ہے ۔
میں نے پہلے پہل اس کے نعتیہ اشعار سُنے تھے ۔اس کی نعت کسی بھی طور پر رسمی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ باہر سے منصور آفاق جیسا بھی نظر آتا ہو۔ لیکن اس کی نعت ہمیشہ اپنی خلوتوں میں شہ دو سریٰ سے عقیدت و وارفتگی کو اپنے باطن کی گہرائی میں محسوس کرتی نظر آتی ہے ۔
نثر اور شاعری میں منظر عام پر آنے والی اس کی کتابوں میں چہرہ نما، آفاق نما، سرائیکی گرامر، سرائیکی ڈرامے،میں اور عطاء الحق قاسمی ، گل پاشی ، نیند کی نوٹ بک ، عار ف نامہ ، میں عشق ہوں ، عہد نامہ ، دیوانِ منصور ، تکون کی مجلس اور الہاماتِ باہو نمایاں ہیں ۔
’’ دیوانِ منصور‘‘ جس کی تقریب رونمائی میں آج ہم موجود ہیں ۔ اس کی جلد میں بندھے کاغذوں کی تہوں میں گوندھے ہوئے لفظوں کے معتبر ہونے کی سب سے بڑی گواہی یہ ہے کہ آج اس تقریب میں ممتاز صاحبانِِ دانش و بینش اور اربابِ سُخن موجود ہیں ۔
منصور کا یہ شعری اظہاریہ جذبوں اور احساسات کی جو پرتیں روشن کرتا ہے اُس پر یقناً ہمارے آج کے مقالہ نگار ’’ اپنی ماہرانہ رائے سے نوازیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے ’’ منصوریات ‘‘ کی ابتداء کے عینی شاہد کی حیثیت سے کچھ معروضات بیان کی ہیں ۔۔۔میں اپنے موضوع سے یہاں پر انصاف نہیں کر پاؤں گا اگر میں کالم نگاری کے شعبے میں میانوالی کے اس فرزند کے کمالات کا اعتراف نہ کروں ۔۔
پاکستانی ادب کے بحیرہ قاسمیہ کا جزیرہ ہونے کے باوجود منصور کے ارمغان کی کھیتی خشک اور جرات کی زمین کبھی بنجر نہیں ہوئی۔ پاکستان کے قومی ادبی اداروں اور عہدوں پر اپنے گروپ کے غاصبانہ اور غیر منصفانہ قبضوں کی رعونت سے بے نیاز ہو کریہ حزبِ اعتدال کی ترجمانی کا فریضہ انتہائی جرات اور استقامت سے ادا کر رہا ہے ۔ یہ اپنے کالموں میں حزبِ اقتدار وا ختیار کی کاسہ لیسی اور حزبِِ اختلاف کی مرثیہ خوانی کی بجائے نئے عقبی دیاروں کے منظر ناموں کی دریافت کی بشارت دیتا نظر آتا ہے ۔ اکادمی ادبیات کی جانب سے سالانہ ادبی ایوارڈوں کی تقیسم میں ہیرا پھیری بھی اس کے اس خیال کو متزلزل نہیں کر سکی ۔ کہ ’’اہل قلم کسی ٹھیٹھر کے ادا کار نہیں ہوتے انہیں جو کردار بھی تفویض کیا جائے وہ اسے ادا کرنے لگیں ۔‘‘ ایک ایسے وقت میں جب قلم کی آبرو کو زر اور عہدوں کی دیمک چاٹنے لگی ہے اور سربلند قلم ، سر قلم ہو گئے ہیں۔
اس کی ذات کا صدق اور فہم کا عرفان سلامت ہے ۔ اس کے ابصار بھی سیاہ و سفید موتیئے سے محفوظ ہیں ۔اور یہ خیالات کو صالح رکھتے ہوئے حکایاتِ خونچکاں لکھنے والے بچے کچھے اہل قلم کا حصہ ہے ۔منصور دیوار کے روزن سے جھانکنے کا عادی نہیں ہے پورے خلوص کے ساتھ دل کی دیوار پر دستک دیتا ہے اور پھر براہ راست دل میں اُتر جاتا ہے ۔
قاسمی برادری کا سرخیل ہو نے کے باوجود اس کی جانب سے میانوالی میں اپنے ہمسائے عمران خان کے موقف کی کالمانہ تائید کو ’’ کھلا تضاد ‘‘ نہ سمجھا جائے بلکہ الہاماتِ باہو کے اس مصنف نے یہ صالح سبق اپنے برادر بزرگ اقبالیات کے خلیفہ اور مجاہدِ ملت مولانا عبد الستار خان نیازی کے عزیز ساتھی محمد اشفاق چغتائی مرحوم کی فکر سے حاصل کیا ہے ۔
ہمیں فخر ہے کہ قریہ حیرت اور خطہ غیرت میانوالی کا یہ فرزند آج کی میڈیا انڈسٹری میں برِ صغیر کی اُس صحافت کا علم بلند کیئے ہوئے ہے ’’جو اندھیرے میں سورج کی کرنیں پھینکتی تھی ۔ شبِ تاریک میں سحر بوتی تھی۔ اور جس سے قومی اور ملی مفادات کے پہرے دار تیار ہوتے تھے‘‘ ۔
آج کل محمد منصور آفاق کا پڑاؤ برطانیہ میں ہے ۔ لیکن پاکستان اور میانوالی سے محبت اِس کے دل و دماغ کا اظہاریہ ہے ۔ اپنی تمام تر ’’ حشر سامانیوں ‘‘ کے باوجود ایک ضخیم شخصیت کا مالک اور ادب کا قیمتی اثاثہ ہے ۔
دعا ہے کہ اِس کی کامرانیوں کا سفر جاری و ساری رہے ۔ اور منصور اپنے قاری کو خوشبوؤں کے تازہ مشامِ جاں منظروں میں لے جاتا رہے ۔ اس کی تخلیقات رنگ و نور و نکہت کے جلوۂ جاوداں کی امین بنی رہیں۔ ( قلم کینوس اور ورقرطاس کے زیر اہتمام ’’دیوانِ منصور‘‘ کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا )

حصہ