ہمارے مسائل اور انکا حل…

1635

محمد احمد

کسی بھی معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو ختم کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ اس معاشرے کے مسائل کیا ہیں؟ پھر یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان مسائل کی وجوہات کیا ہیں؟ زیادہ تر یوں ہوتا ہے کہ کچھ بڑے مسائل ہی بے شمار چھوٹی خرابیوں کو جنم دیتے ہیں. اسلیئے ان بڑے مسائل اور انکی وجوہات کا تعین کرنا لازم ہے. جب مسائل کا تعین ہوجائے تو یہ دیکھا جائے گا کہ کیا تاریخ انسانی میں کیا یہ مسائل پہلے جنم لے چکے ہیں؟ اور اگر ہاں تو پھر یہ مطالعہ کرنا بھی لازم ہے کہ ماضی میں انکا حل کیسے نکالا گیا؟ لازم بات ہے کہ ان مسائل کے ایک سے زیادہ متوقع حل موجود رہے ہونگے. پھر ہمیں یہ تجزیہ کرنا ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی ایک بہترین حل کا اپنے حالات کے مطابق نافذ کرنے کا فیصلہ کرنا. اور جب کسی ایک حل پر فیصلہ کر لیا جائے تو اب دیکھا جائے گا کہ تاریخ انسانی میں اسکو نافذ کرنے کے کیا کیا طریقے گزرے ہیں. پھر ان میں سے اپنے حالات کے مطابق بہترین حل کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی.
پہلے اپنے موجودہ مسائل کا تعین کرنے سے پہلے ماضی میں جاتے ہیں کہ ہم تجزیہ کریں اس معاشرے کا، جس میں ہمارے پیارے نبی (ص) نے کام کا آغاز کیا… جب آپ (ص) کو نبوت ملی تو اکثریت شرک میں مبتلا تھی، سود عام تھا، امن کی بجائے خوف تھا، تعلیم کم تھی، قتل کرنا باعثِ فخر تھا، خواتین کو حقوق نہیں ملتے تھے، یتیموں، مسکینوں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا تھا، مسافر ہر وقت دورانِ سفر خوف میں مبتلا رہتے تھے، امیر پہلے سے بھی امیر ہوتے جارہے تھے، غریب انکے غلام تھے، انکے کام کرتے تھے اور اسکے بدلے انہیں روٹی کپڑا ملتا تھا، تمام فیصلے انکے بڑے مشوروں سے دارلندوہ (پارلیمنٹ) میں کرتے تھے. انصاف نام کی چیز نہیں تھی، ناچ گانا عام تھا، شراب، جوا اور ہر قسم کی معاشرتی برائیوں میں معاشرہ گرا ہوا تھا، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے معاشی بدحالی تھی. چوری، ڈاکہ اور زنا بھی عام تھا…
اور آج ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو کیا ہمیں بھی انہیں تمام مسائل کا سامنا نہیں؟ تو مختصر سا جواب یہی ہوگا کہ آج بھی ہمیں انہیں مسائل کا کچھ نئے انداز میں سامنا ہے.پھر یہ غور کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا اللّہ کے رسول (ص) اور اسکے صحابہ کرام (رض) کی جماعت نے ان مسائل کو حل نہیں کیا؟ اور اگر کیا ہے تو کیا ہمارے لیئے بہترین مشعل راہ انکا طریقہ نہیں؟ اور جب اللّہ نے کہا کہ آپ (ص) کی زندگی میں تمہارے لیئے بہترین نمونہ ہے… تو کیا ہم ان مسائل کے حل میں بھی طریقہ کار آپ (ص) کی زندگی سے نہیں لے سکتے؟ کیونکہ آپ (ص) اور صحابہ (رض) نے ایسا نظام دنیا کو دیا کہ یہاں توحید کا بول بالا تھا، امن تھا، معاشرتی برائیاں نہیں تھیں، عدل تھا، انصاف تھا، معاشی مساوات تھیں، الغرض تمام برائیوں کا خاتمہ ہوگیا… تو ہمیں بھی اگر ان مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے تو سیرتِ رسول (ص) سے ہی ملیگا…
نوٹ؛ اس تحریر میں ہمارے مسائل کا حل نہیں بتایا گیا بلکہ ایک نقطہ نظر بدلنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے. کیونکہ ہم اپنے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لیڈروں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیں زیادہ تر یورپ کی مثال دیتے ہیں کہ انہوں نے یہ مسائل یوں حل کیئے اور یہ مسائل اسطرح…؟ اور ہمارے اوپر انہی کے بنائے ہوئے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں. ہاں کبھی کبھی وہ “اسلام کارڈ” کھیلنے کیلیئے خلافت راشدہ کے دور کی مثالیں بھی دیتے ہیں لیکن یہ انکے طریقے پر سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام قائم کرنے کی بات نہیں کرتے. یہ تحریر صرف اسی بات پر غور کرنے کیلیئے ہے کہ ہم تجزیہ کریں سیرت ِ خیرالبشر (ص) کا اور پھر آپ (ص) کے طریقے پر چلتے ہوئے اپنے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں.
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب کو نہ کر…
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی…
(اقبال)

حصہ