حدِ ادب
انوار حسین حقی
دیس بدر شہزادی آدم خوروں میں تُو آئی کیوں؟
_________________________________
قیامِ پاکستان کے بعد کم و بیش ساڑھے پانچ عشروں تک روشن دماغوں کے تخیل کی دودھیا لہریں صرف سولہ اکتوبر کو ہی راولپنڈی کے لیاقت باغ میں داخل ہوا کرتی تھیں لیکن 2007 ء کے دسمبر کی ستائیسویں شام کے ایک دلدوز خونی واقعہ نے اس دن کو بھی تاریخ کا ورثہ قرار دے دیا ۔ شہیدِ ملت لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کی شہادت گاہ کا درجہ اس تاریخی لیاقت باغ کو حاصل ہوا۔ اور اب ہمیشہ کے لیئے اس کے سبز مخملی فرش پر پڑنے والی روشنی کی کرنیں دونوں شہیدوں کی خوشبو کو مہکاتی رہیں گی ۔ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان بابائے قوم حضرت قائد اعظم ؒ کے اُس ہراول دستے کا نکھار تھے جن کی وراثت صداقت ، دیانت اور امانت ٹھہری ۔۔۔ جبکہ بے نظیر بھٹو شہید ہماری سیاسی تاریخ میں جمہوری رویوں کے تسلسل کا استعارہ ہیں ۔۔۔۔۔
راولپنڈی کے لیاقت باغ میں بے رحم قاتلوں کا نشانہ بننے والی بے نظیر بھٹو پاکستان میں جمہوری جدو جہد اور اسٹبلشمنٹ کے شکنجے سے آزاد سیاست کی علمبردار تھیں ۔ پیپلز پارٹی میں ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اسٹبلشمنٹ کا مقابلہ بے نظیر بھٹو کے علاوہ کسی نے نہیں کیا اور نہ ہی یہ ان کے علاوہ اُن کی پارٹی میں کسی دوسرے کے بس کی بات تھی ۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ سیاست نے تو یہ سب کچھ عملی طور پر ثابت بھی کردیا ہے ۔ پیپلز پارٹٰی میں اب بے نظیر کا قد ہے اور نہ ان جیسا کوئی سراپا جرات اور سوچ تو بہت دور کی بات ہے ۔
جیالوں اور عوام نے بے نظیر کو دو مرتبہ اپنی محبتوں کے ساتھ رُخصت کیا ۔ پہلی مرتبہ 21 دسمبر1987 ء کو انہیں ان کے آبائی گھر 70 کلفٹن سے 225 ای آئی لائنز کراچی کی جانب رُخصت کیا گیا تھا ۔ اُس روز بھٹو خاندان کے آبائی نکاح خواں محمد احمد بھٹو نے انہیں شریعتِ محمدی کے مطابق آصف علی زرداری کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک کیا ۔گرین لہنگے اور پنک ڈوپٹے میں ملبوس بے نظیر بھٹو جب بوسکی شلوار قمیص اور بوسکی پٹکے میں ملبوس آصف علی زرداری کے ساتھ رخصت ہو رہی تھیں تو ان کا سر اپنے شفیق باپ کے ہاتھوں کے لمس سے محروم تھا ۔ چھوٹا بھائی گوگل ( شاہنواز بھٹو) شدت کے ساتھ انہیں یاد آرہا تھا اس جواں سال کی یاد انہیں بہت رُلا رہی تھی ۔ شاہنواز بھٹو کی میت کو دو سال پہلے ہی دیارِ غیر سے لا کر انہوں نے اپنی سرزمین کی مٹی کے سپرد کیا تھا ۔ دوسرا بھائی مرتضیٰ بھٹو شام کے دارالحکومت دمشق میں بے بسی کا مجسمہ بنا بیٹھا تھا ۔ سنگین نوعیت کے بہت سے مقدمات اور جنرل ضیاء الحق مرحوم کا اقتداراس کی وطن آمد کی راہ میں حائل تھے ۔ بیگم نصرت بھٹو ۔ذولفقار علی بھٹو مرحوم کی بڑی بیوہ شیریں امیر بیگم بہن صنم بھٹو ، خالائیں بہجت ہریری ، صفیہ صابونچی ، خالا زاد بہنیں ، بھٹو مرحوم کی بہنیں اور ان کی اولادیں ، بے نظیر بھٹو کی سہیلیاں بھٹو مرحوم کے ذاتی دوست ڈاکٹر ظفر خان نیاز ی ان کی بیٹی یاسمین نیازی اور خاندان کی چند خواتین انہیں رُخصت کر رہی تھیں ۔ انتہائی سادگی کے ساتھ شادی کی تمام رسومات اور مراحل طے ہوئے ۔۔ کارکن اور جیالے دخترِِ مشرق اور اپنی بہن کو رُخصت کرنے کے لئے کلفٹن پل سے70 کلفٹن سے 225 ای آئی لائنز کراچی کے تک کے راستوں پر جمع تھے ۔ بھٹو خاندان کی طرف سے شادی کا اصل استقبالیہ ککری گراؤنڈ میں دیا گیا تھا ۔ جہاں ہزاروں کارکن موجود تھے اس موقع پر جذبات سے مغلوب ہو کر بے نظیر بھٹو نے دلہنوں کی روایات توڑتے ہوئے کارکنوں سے باقاعدہ خطاب کیا ۔ وہ انتہائی جذباتی انداز میں کہتی سنائی دیں کہ ’’ یہ نہ سمجھنا کہ بے نظیر شادی کے بعد آپ سے الگ ہو جائے گی آپ کی بہن آپ کے درمیان رہے گی ۔ اس خوشی کے موقع پر ہر بیٹی کو اپنا باپ یاد آتا ہے ۔ میرے بھائی بھی اس موقع پر ساتھ نہیں ہیں ۔لیکن مجھے یہ کمی آپ لوگوں کی محبت کے باعث محسوس نہیں ہو رہی ہے ۔ میں آپ کا کن الفاظ میں شکریہ ادا کروں ۔ آپ نے مجھے کتنی محبت دی ہے میں اس کا قرض ادا نہیں کر سکتی میں اپنا مشن جاری رکھوں گی ‘‘۔۔۔
بے نظیر نے اپنا عہد آخری دم تک نبھایا ۔ بھٹو خاندان اور جمہوریت کے خلاف پھنکارتی سازشوں میں وہ ایک چٹان کی طرح ڈتی رہیں ۔ وہ ایک بڑے زمیندار ، متمول گھرانے کی بیٹی ہونے کے باوجود بے کس و بے بس تھی لیکن پھانسی گھاٹ پر جھول کر ابد کا جام پینے والے بھٹو کا ورثہ اُس کے پاس تھا ۔ جس کے سہارے وہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہیں ۔ اُس کی یہ جدوجہد وفاق کی مضبوطی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی ۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں وطن واپس آئیں تو سانحہ کارساز میں شہید ہونے والے اپنے کارکنوں کے تابوتوں کو کندھا دیتے اور ان کے وارثوں کو گلے لگالگا کر نڈھال ہو رہی تھیں کہ لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک سانحہ کے دوران خالقِ حقیقی سے جا ملیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس مرتبہ کی ان کی رخصتی کا مرحلہ انتہائی دلدوز تھا ۔ ان کی والدہ نصرف بھٹو بیمار تھیں۔ باپ بھائیوں کا خلا تو پہلے ہی تھا ۔ البتہ بلاول بھٹو ، بختاور اور آصفہ بھٹو کے ناتواں کاندھے اپنی شہید ماں کے تابوت کو سنھبالے ہوئے تھے ۔ ان تینوں کی شریانوں میں بھٹوز کی شہادت کے ورثے کی سُرخی داخل ہو چُکی تھی ۔ آصف علی زرداری نظیر بھٹو کے وارثوں کے سر پرست قرار پائے ۔۔۔۔۔۔ اس المناک سانحہ کے بعد انتخابات ہوئے عوام نے پاکستان پییپلز پارٹی کو اکثریت دلا کر شہید سے سے اپنے عہد کا ایفا ء کیا ۔بے نظیر بھٹو کے بعد کی اس پیپلز پارٹی نے پانچ سال اقتدار میں گذار دیے۔ آصف علی زرداری نے مفاہمت کے نام پر بھٹوز کی سیاست سے کمٹمنٹ اور قربانیوں کی پیوستگی کو معدوم کر دیا ۔پنجاب کے وہ چوہدری برادران جن کے کبھی بھی بھٹوز یا پیپلز پارٹی سے تعلقات مناسب نہ رہے وہ اور پیپپلز پارٹی کی قیادت ایک دوسرے سے سانسیں مانگ کر جیتے نظر آئے ۔ پیپلز پارٹی کے اس دور میں بھٹوز کے نظریے سے دست برادری کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ چوہدری پرویز الہی نائب وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے ۔ آصف علی زرداری پانچ سال تک ملک کے صدر اور پیپلز پارٹی حکمران رہپی لیکن بے نظٰیر کے قاتلوں کو سزا نہ مل سکی ۔۔۔۔۔۔۔ پارٹی پر مضبوط گرفت رکھنے والے آصف علی زرداری کے اندازِ سیاست نے بھٹوز کے طرزِ سیاست کو مفاہمت کی اوڑھنی اوڑا دی ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ سندھ اور پنجاب کی پارٹی قیادت کے درمیان بھی خلا پیداہو چُکا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری گلا پھاڑھنے کے باوجود پارٹی کی سانسیں بحال کرنے میں کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔ ایسے میں بے نظیر بھٹو کے یومِ شہادت پر سید نصیر شاہ مرحوم کے اشعار زیست کے لمحوں کی بے قراری میں مزید اضافہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ
دیس بدر شہزادی آدم خوروں میں تُو آئی کیوں؟
بول کہ وحشی صحرا میں پیغامِ بہاراں لائی کیوں؟
چلنے لگا ہے تیرا قبیلہ کیوں شبیر کی راہوں پر
درسِِِ خودی مظلوم کو دینا طنز ہے عالی جاہوں پر
یاد نہیں وہ جبر کہ جب اک منصف کے لب ہلتے تھے
تب بچے تیری اُنگلی تھامے قیدی باپ سے ملتے تھے
امن کا پرچم لے کے دیوی تُو کیا کرنے آئی تھی ؟
درندوں کی اِس بستی میں کیوں تُو مرنے آئی تھی ؟
دیوی تُونے اپنے خوں سے روشن پھول بکھیرے کیوں؟
راتوں کے تاریک نگر میں آئیں سانجھ سویرے کیوں؟
اندھوں کے اندھیر نگر میں سورج لے کے آئی کیوں؟
اتنی راہ گُم کردہ ہوئی تھی تیری وہ دانائی کیوں؟
آج بھی ہیں پامال جیالے کل بھی تھے پامال وہی
سادہ دل سے صید وہی اور صیادوں کے جال وہی

حصہ