حدِ ادب
انوار حسین حقی
’’رضیہ غُنڈوں میں پھنس گئی ‘‘
____________
حالات کے تیور بتارہے ہیں کہ ’’کپتان ‘‘ کے خلاف عالمی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔وزیر اعظم بن کر ڈرون گرانے کا حکم دینے کا عندیہ دینے والے عمران خان کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے بہت کچھ کیا گیا۔ 2013 ء کے چُناؤ میں ملبہ ’’ مقناطیسی روشناہی ‘‘ پر ڈال کر اُسے ’’ سیاہی ‘‘ کا نام دے دیا گیاتھا۔اب خلیج کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھنے کی ان کی کوششوں نے ان کے لئے مسائل بڑھائے ہیں ۔
کئی سال پہلے جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ایک سفر کے دوران مجھے کپتان سے یہ سوال کرنے کا موقع ملا تھا کہ ’’آپ نے ساری عمر گیندیں پھینکیں ہیں۔وکٹیں اُڑائیں ہیں۔ قومی ہیرو ہیں۔اب آپ سیاست میں آگئے ہیں اقتدار کی منڈیر پر بیٹھ جاتے تو اچھا ہوتا ۔اپوزیشن میں رہ کرآپ نے کیا حاصل کیا ہے۔‘‘ عمران خان نے بغیر کسی وقفے کے جواب دیا۔اقتدار سب سے بڑا دشمن ہے ۔ اگر میں اپنے ضمیر کو نیلام کرکے خود کو اقتدار کی غلام گردشوں میں گم کردوں تو میرا انجام بھی دوسرے مفاد پرستوں کی طرح ’’ تاریخ کا کوڑے دان ‘‘ ہوگا۔20 سالوں کے دوران عمران خان نے اپنے عمل سے وہ کچھ ثابت کیا ہے جو ہمارے بڑے بڑے سیاستدان اور بڑی بڑی جماعتیں کئی عشروں کے بعد بھی نہیں کر سکیں۔ ایم کیو ایم کی لسانی فسطایت کے خلاف جسطرح عمران خان سینہ سپر ہوا ہے۔ اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ عمران خان کی استقامت نے کرکٹ کے ہیرو کو ’’ قومی ہیرو ‘‘بنا دیا ہے۔ لنڈی کوتل سے گوادر اور تربت تک اور سندھ سے ہند تک اس نے اپنی ایک نئی شناخت پائی ہے۔لوگ اس کی باتیں دلچسپی سے سنتے اور دل و دماغ پر نقش کر لیتے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت ’’ کپتان ‘‘ کے لئے ایک آزمائش سے کم نہیں ہے۔تحریک انصاف کی حکومت نے ’’ خطہ غیرت اور قریہ حیرت‘‘ خیبر پختونخواہ میں سُرخ پوشوں کے نظریے کی امین اے این پی اور مولانا حُسین احمد مدنی مرحوم کے فلسفہ قومیت کی وارث جمیعت العلمائے اسلام کے بتانِ وہم و گُماں کا طلسم توڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔ صوبہ سرحد میں تبدیلی واضح طور پر محسوس ہو رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن ناموافق طبیعت کا شکار ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری سے علیحدگی کی ’’عدت ‘‘ پوری ہوتے ہی مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت میں اپنے بااعتماد ساتھیوں کو ’’ بھرتی ‘‘ کروانے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہر ہ نہیں کیا تھا۔
سازشوں کے اس دور میں بھی ’’کپتان ‘‘ کے ساتھ اُس کے بے ریا ورکرز اور پرانے ساتھی ہیں جو کل بھی اُس کا مان تھے اور آج بھی اُس کا اعتبار ہیں۔لیکن خیبر پختونخواہ کی حکومت کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی خبروں سے عمران خان کے چاہنے والے تشویش کا شکار ہوجاتے ہیں۔پارٹی کے بنیادی اور پرانے ورکر ان دنوں خاصے پریشان ہیں ۔ بہت سے وزراء اور خود وزیر اعلیٰ سرحد کے بعض اقدامات تحفظات کے حصار میں نظر آتے ہیں ۔ انٹرا پارٹی الیکشن کا اعلان ہوتے ہی مختلف گروپوں کی جانب سے پارٹی پر قبضے کی تیاریاں شروع ہو چُکی ہیں ۔ خیبر پختونخواہ کا خواتین ونگ خصوصی طور پر نشانہ بنا ہوا ہے ۔ مورثی سیاست کے خلاف عمران خان کے فلسفے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ سمیت وزراء اپنے اپنے رشتہ داروں کو پارٹی عہدوں پر تعینات کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ خواتین ونگ کی سیاست کے تانے بانے آزاد کشمیر کی بیوروکریسی سے بھی جا ملے ہیں ایک خاتون کے لیئے تو ’’ کے پی کے کی فریال تالپور ‘‘ کی اصطلاح بھی عام ہونے لگی ہے ۔ ایک وزیر اپنے اقدامات کی وجہ سے اب نا فرمان کہلانے لگے ہیں ۔ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصرکے دورہ باچا خان یونیورسٹی کے حوالے سے انتہائی مایوس کن خبر سامنے آئی تھی اگرچہ اسپیکر کی جانب سے اس کی باضابطہ تردید جاری ہو گئی تاہم ایسے معاملات میں احتیاط کی خاصی ضرورت ہے ۔۔
وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے ایک قریبی وزیر پشاور کے پوش علاقے ’’ حیات آباد ‘‘ کے ہوکر رہ گئے ہیں اپنے حلقے سے رُوٹھے رُوٹھے سے لگتے ہیں۔ اُن کے بھائی ( ایڈیشنل سیکرٹری فنانس ڈیپارٹمنٹ )کی ترقی اور ڈی ایم جی گروپ میں تبدیلی کو اُن کے حلقے کے لئے واحد کام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔بہت سے معاملات ایسے ہیں جن کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکن پریشانی اور مایوسی کا شکار ہیں۔کے پی کے میں پرانے ورکروں اور لیڈروں سے ملیں تو وہاں کی پی ٹی آئی کے حوالے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’’ رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہے ‘‘۔
بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم پر جس قسم کی اقربا پروری دیکھنے کو ملی اُس نے کپتان کو بہت پریشان کیا اور انہیں اس پر معافی بھی مانگنی پڑی ۔ اب انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے بلدیاتی انتخابات والی اقربا پروری دوہرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کارکنوں کے سینے وزیر اعلیٰ اور ان کے ساتھیوں کے کارناموں کے دفینے بن رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسفند یار ولی خان کی اے این پی اور مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی اپنی خواہشات کی حسرتوں میں تبدیلی پر بہت پریشان ہے۔ یہ پریشانی ابھی مزید بڑھے گی کیونکہ کپتان کو جاننے والوں کو یقین ہے کہ وہ میرٹ کی خلاف ورزی اور بے ایمانی کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتا ۔ ان کے کزن ماجد خان ان کو کرکٹ میں لانے کا ذریعہ بنے تھے ۔لیکن جب بطور کپتان قومی کرکٹ ٹیم عمران خان نے محسوس کیا کہ ماجد خان کی کارکردگی بہتر نہیں رہی تو انہوں نے انہیں ٹیم سے باہر کر دیا ۔۔ عمران خان خود بتاتے ہیں اس وجہ سے ماجد خان نے ان سے چودہ سال تک بات نہیں کی ۔پی ٹی آئی کو انہوں نے کبھی اپنے رشتہ داروں اور خاندان والوں کی جماعت نہیں بننے دیا ۔ میانوالی میں اپنے چچا زاد بھائیوں سے بھی میرٹ کے معاملے پر ان کا اختلاف پیدا ہوا۔ جس کی وجہ سے ان کے اور ان کے چچا زاد بھائیوں کے درمیان سنجیدہ نوعیت کے خاندانی تنازعے پیدا ہوئے۔ عمران خان کی ذاتی زندگی پر نظر دوڑائیں، عمران خان کی شادی کے بعد ان کی بیوی جمائما خان کا ہمیشہ یہ اصرار رہا ہے کہ ان کے بچے انگلستان میں پڑھیں گے اور عمران خان بھی ان کے ساتھ برطانیہ میں ہی رہیں گے۔جمائما خان عمران خان کو لندن سے بار بار پیغام بھیجتی تھیں کہ ’’پاکستان چھوڑکر یہاں چلے آؤ‘‘۔ مجھے رکھو یا پاکستان کو ،کسی ایک کا انتخاب کر لو ‘‘۔عمران خان نے اپناگھر بسانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن پاکستان چھوڑنے کے مطالبے پر ہر بار ان کا ایک ہی جواب ہوتا تھاکہ ’’ میں پاکستان نہیں چھوڑ سکتا ‘‘۔۔
عمران خان شروع ہی سے خود سر تھے لیکن علامہ اقبالؒ کو پڑھنے کے بعد انہوں نے اپنی خود سری کو خوداری کے خوبصورت پیکر میں بدل لیا ہے۔ ان کی باتوں میں ’’ اقبالیات ‘‘ کا رنگ نمایاں ہونے لگا ہے۔ وہ کہتا ہے ’’جو شخص کلمہ طیبہ کی روح اور فلسفے کو سمجھ لیتا ہے۔ وہ جھوٹے خداؤں کی دہلیز پر نہیں جھکتا۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزراء اور پارٹی کے ذمہ داران کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ کپتان کے نوٹس میں جب بھی کوئی مصدقہ حقائق أئے تووہ ایکشن لینے میں تاخیر نہیں کریگا۔ خیبر پختونخواہ کے تین وزیروں کا حال سب کے سامنے ہے۔لہذا ہماری خواہش ہے جو ملنگ کہلاتے ہیں وہ ملنگ ہی کہلائیں اور کوئی’’نا فرمان ‘‘ بھی نہ بنے ۔
آنے والے دن ہماری قومی زندگی کے اذیت ناک لمحے ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں قوم کی رہمنائی کرنے والے ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے ہیں۔سیاسی جماعتوں باالخصوص مذہبی سیاسی جماعتوں کی بے بصر اور بے ثمر قیادت کو دیکھ کر دل ڈرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں قوم کربناک او ر دردناک منظر کا نقش بنتی جارہی ہے۔ یہ حالات دونوں بڑی جماعتوں کے لئے سیاسی نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ ۔ قوم ملک کے مستقبل سے مایوس نہیں کہ مایوسی گناہ ہے۔ ہاں البتہ وقت کا ’’ صوفی ‘‘ حالات کے دھارے کو دیکھتے ہوئے اب یہ کہنے لگا ہے کہ ’’ دونوں بڑی جماعتوں کی حامی قوتیں تحریک انصاف اور اس کے سربراہ کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بننے کا عمل تیز کر دیں گی ۔ اور ابھی سے محسوس ہونے لگا ہے کہ ’’ کپتان ‘‘ کو اپنوں اور غیروں کی سازشیں گھیرے میں لینے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

حصہ