طرز حکمرانی و زندگی بدلنے کی ضرورت. ( سہیل احمد اعظمی )
ایک رات سلطان محمور غزنوی کو جب کافی کوشش کے بعد نیند نہ آئی تو اپنے غلاموں سے کہنے لگا کہ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ کسی مظلوم پر آج ظلم ہوا ہے۔ تم لوگ گلیوں میں جا کر پھیل جاؤاگر کوئی فریادی نظر آئے تو میرے پاس لے آؤ تھوڑی دیر بعد وہ سب آ کر کہنے لگے کہ ہمیں کوئی فریادی نظر نہیں آیا آپ آرام سے سو جائیں ، سلطان کو جب پھر بھی نیند نہ آئی تو وہ بھیس بدل کر خود محل سے باہر نکلا ، محل کے پچھواڑے میں حرم سرا کے قریب اسے کسی کی فریاد سنائی دی۔ اے اللہ سلطان محمود محل میں اپنے مصاحبوں کے ساتھ عیش و عشرت میں مصروف ہے اور محل کے عقب میں مجھ پر ظلم ہو رہا ہے۔ سلطان نے کہا یہ کیا بات کر رہے ہومیں سلطان ہوں اور تمہاری فریاد سننے آیا ہوں بتاؤ کیا ظلم ہو رہا ہے۔ فریادی نے کہا کہ آپ کے خواص میں سے ایک شخص جسکا نام میں نہیں جانتا ہر روز میرے گھر آ کر میری بیوی پر ظلم و تشدد کرتا ہے ۔ سلطان نے کہا کہ وہ دوبارہ آئے تو مجھے خبر کرنا پھر سلطان نے محل کے دربان کووہ فریادی دکھایا اور کہا کہ یہ جب بھی آئے فوراً میرے پاس لے آنا اگر میں نماز کی حالت میں بھی ہوں تو پرواہ نہ کرنا۔ اگلی را ت وہ شخص سلطان کے دربار میں آیا اور اطلاع دی کہ وہ شخص میرے گھر میں ہے ۔ سلطان اسی وقت تلوار لے کر اسکے گھر پہنچا اور کہا کہ گھر کے سارے چراغ بجھا دو اور پھر سلطان نے اس ظالم کا سر قلم کر دیا پھر سلطان نے اسکا چہرہ دیکھا اور سجدے میں گر گیا ۔ اس کے بعد سلطان نے فریادی سے کہا کہ مجھے سخت بھوک لگی ہے اگر کچھ کھانے کو ہے تو لے آؤ اسنے کہا کہ جناب میرے پاس تو صرف ایک سوکھی روٹی ہے سلطان نے کہا کہ لے آؤ اور پھر بڑی رغبت سے اس سوکھی روٹی کو کھایا ۔ فریادی نے سلطان سے عرض کی کہ جناب چراغ کا بجھانا ، سجدے میں گرنا اور روٹی طلب کرنا سمجھ میں نہیں آیا۔سلطان نے فرمایا کہ جب میں نے تمہاری داستان سنی تو سوچا کہ میری سلطنت میں ایسا ظلم کرنے کی ہمت کس کی ہو سکتی ہے۔؟ یہ ہمت میرا کوئی بیٹا ہی کر سکتا ہے ۔ اندھیرا کرنے کو اس لئے کہا کہ میری شفقت پدرانہ انصاف کے درمیان حائل نہ ہو جائے ، روٹی اس لئے طلب کی تھی کہ میں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک ظالم کو ٹھکانے نہ لگا لوں گا روٹی نہ کھاؤں گا۔ خدا ہمیں بھی ایسا ہی جری ، ایماندار ، انصاف پسند نڈر ، رحمدل حکمران عطا کرے، مذکورہ واقعہ ہمارے آجکل کے حکمرانوں کیلئے ایک سبق ہے جن کے دور میں انصاف ، رحمدلی، جرأت بہادری ، میرٹ نام کی کوئی صفت ناپید ہے۔ آج اس ملک میں آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ عدالتوں میں انصاف کے حصول کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اغیار جب چاہتے ہیں ہمارے ملک پہ چڑھ دوڑنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں ڈرون حملے ایران، بھارت، افغانستان، کی ہماری سرحدوں کے اندر گھس کر دراندازی اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ رحم نام کی کوئی شے ہماری طرز حکمرانی میں ناپید ہے ۔ آئے دن پولیس ، محکمہ جات کے کرپٹ افسران و عملہ کی بھینٹ لوگ چڑھتے رہتے ہیں تنگ آمد بجنگ آمد لوگ خودکشیوں ، خود سوزیوں جیسی مکروہ حرکت کرنے سے باز نہیں آتے۔ لیکن فریادی کی فریاد سننے اور اسکی داد رسی کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے والدین غربت اور بیروزگاری سے تنگ آکر اپنے بچے فروخت کرنے پہ مجبور ہیں لیکن حکمرانوں کو غیر ملکی دوروں ، بھاری پروٹوکول، افتتاحی جعلی تختیوں کے لگانے سے ہی فر صت نہیں ہے۔ملک میں احتساب اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے مفلوج اور ناکارہ ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کی بہتری کیلئے کوئی مخلصانہ کوشش تک نہیں کی جا رہی ہے ہمارے اسلاف سب سے پہلے اپنے احتساب اور محاسبہ کرتے تھے ، راتوں کو بھیس بدل کر لوگوں کی فریاد سنتے تھے ان کی داد رسی تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے لیکن ہم صرف اہپنے مخالفین کا احتساب کرتے ہیں اپنا محاسبہ اور مواخذہ کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے ہمارے حکمرانوں کی غلط اور اپنے اقتدار کو طول دینے کی پالیسیوں نے ملک کو دہشت گردی کے گہرے کنویں میں ایسا دھکیلا ہے کہ نہ تو ہم اس میں سے نکل پا رہے ہیں الٹا ہمیں دنیا میں کہیں بھی ہونے والی دہشتگردی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے یہ نتیجہ ہے ڈکٹیٹر جنرل مشرف کی پالیسی کا جس میں اس سنے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار صرف ایک فون کال پہ قبول کرلیا تھا لیکن آج ہم اور اقوام عالم 11 ستمبر کے واقعہ کے بعد سے زیادہ غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔ آج ہمارے قونصل خانے ، دفاتر پہ بیرون ملک حملے کروائے جاتے ہیں اور دہشتگردی کے ٹوپی ڈرامہ حملوں کا ذمہ دار ہمیں گردانا جاتا ہے لیکن کشمیر، بھارت، فلسطین، شام، عراق، ایران، سوڈان، لیبیا، مصر ، برما وغیرہ میں لاکھوں مسلمان کے قتل عام کے خلاف کوئی عالمی طاقت تنظیم آواز بلند نہیں کرتی جب ہمارے اپنے 55 کے قریب اسلامی ممالک اور ان کی تنظیم او آئی سی کلمہ حق بلند نہیں کرتی تو دوسرا کیوں کرے۔ ہمارے اخبارات، الیکٹرانک میڈیا آئے دن ظلم و ستم زیادتیوں کی خبروں سے بھرے رہتے ہیں لیکن کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی ایسے حالات میں زلزلے نہیں آئیں گے تو اور کیا ہوگا حکمرانوں ، عوام دونوں کے لئے اللہ کی طرف سے الٹی میٹم ہے کہ دونوں اپنی طرز زندگی کو بدلیں بصورت دیگر کسی بڑی تباہی کیلئے تیار رہیں۔
حکمرانوں نے یہود و نصاریٰ کو اپنا ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنا لیا حالانکہ میرے اللہ نے کہا ہے کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست کبھی نہیں ہو سکتے ہیں ۔ آج ان کی پالیسیوں اور چند ٹکوں کے باعث ہم اپنا اسلامی تشخص کھو بیٹھے ہیں ، ان کی تھونپی ہوئی جنگ کے باعث ہمارے کالجز، یونیورسٹیاں، بازار ، مساجد ،مدارس، مراکز، ایوان، حکمران و عوام سب غیر محفوظ ہیں۔ دنیا کو محفوظ کرنے کے چکر میں یہود و نصاریٰ نے ایسی جنگ دنیا پر تھونپی ہے جس کی وجہ سے سب غیر محفوظ ہو گئے ہیں ۔ دہشتگردوں کے خاتمے کی جو جنگ افغانستان، عراق میں شروع کی گئی تھی وہ اب کئی ملکوں میں پھیل گئی ہے اس سے خلاصی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ ہمارے حکمرانوں سے اپنے ملک سے دہشتگری اور انڈیا افغانستان سے تنازعات ختم ہوتے نہیں چلے ہیں ایران سعودی عرب کشیدگی کو ختم کرنے خدا نے زکوٰۃ کا حکم بھی پہلے اپنے گھر والوں کو دینے کا کہا ہے۔ حکمرانوں کو حضرت عمرفاروقؓ کا قیامت تک رہنے والا قوم یاد رکھنا چاہئے کہ ’’اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک و پیاس سے مر گیا تو اس کا بھی حساب دینا ہوگا۔‘‘

حصہ