حدِ ادب
انوار حسین حقی
شیر کا شکاری اور رائے ونڈمارچ
_______________
میں جب بھی یہ نعرہ سنتا ہوں ”دیکھو دیکھو کون آیا ۔ شیر کا شکاری آیا“ تو مجھے قیامِ پاکستان سے پہلے ”کپتان“ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کی ایک خونخوار شیر سے ”ہاتھا پائی“ کا واقعہ یاد آ جاتا ہے۔
تاریخی حوالوں کے مطابق پاکستان بننے سے پہلے ضلع میانوالی اور خوشاب کے سنگھم پر واقع سالٹ رینج کے بلند ترین پہاڑ کے دامن میں ایک خونخوار شیر کی وجہ سے دہشت پہلی ہوئی تھی۔ آئے روز شیر کی وجہ سے علاقہ کے مکینوں کو جانی و مالی نقصان سے دو چار ہونا پڑ رہا تھا۔
خونی شیر کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر علاقہ میں تعینات پولیس انسپکٹر خان بیگ خان اپنے محافظ کے ہمراہ علاقے میں پہنچا تو شیر نے ان پر حملہ کر دیا۔ انسپکٹر خان بیگ خان کے خود کو سنبھالتے سنبھالتے شیر اُن کے بہت قریب پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے اپنا ایک بازو شیر کے منہ میں دے دیا دوسرے ہاتھ میں پکڑی ہوئی سنگین سے شیر کا پیٹ پھاڑ دیا۔ اس معرکہ میں پولیس انسپکٹر خان بیگ خان شدید زخمی ہوئے ان کا بازو شیر نے بُری طرح چبا دیا اور سر میں بھی گہرے زخم آئے۔۔
انگریز سرکار نے جہاں پولیس انسپکٹر خان بیگ خان کو انعام سے نوازا وہاں انگریزحکومت کے ایک پولیس آفیسر کی جان خطرے میں ڈالنے
کے جرم کی پاداش میں ان کی سر زنش بھی کی گئی۔۔
یہی خان بیگ خان نیازی شیرمانخیل عمران خان کی دادی شکراں خاتون کے سگے بھائی تھے۔ اسی وجہ سے عمران خان کے قبیلے کو میانوالی کے علاقے میں ”شیر مان خیل“ کی شناخت حاصل ہوئی۔ عمران خان اس قبیلے کی ذیلی شاخ ”علی شیر خان خیل“ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کئی سال پہلے خان بیگ خان کی وفات سے قبل میں نے ایک ملاقات کے دور ان اُن کے سر پر اُن زخموں کے نشان خوددیکھے تھے جو شیر سے لڑائی کے دوران ان کے سر پر آئے تھے۔ عمران خان کے خاندانی ذرائع بتاتے ہیں عمران خان جب بچپن اور جوانی میں جب کبھی میانوالی آتے تو وہ خان بیگ خان سے ضرور ملا کرتے تھے اور ان کی شیر سے لڑائی کا واقعہ ہر مرتبہ بڑی دلچسپی سے سُنا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔
سیاسی میدان میں عمران خان باالکل اُسی طرح ”جان مار نے“ میں لگے ہوئے ہیں جس طرح وہ کرکٹ کے میدان میں اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرنے لیئے جد و جہد کیا کرتے تھے۔ آج عمران خان پانامہ لیکس کے حوالے سے جاری اپنے احتجاج کے اہم ترین مرحلے میں رائے ونڈ پہنچ رہے ہیں۔ان کے ساتھ شیخ رشید کے علاوہ کوئی دوسری سیاسی جماعت نہیں ہے۔ اپوزیشن اور حکومت عمران خان کی اس سولوفلائٹ کو ان کی ضد قرار دے رہے ہیں جبکہ کپتان اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ لوک گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کہتے ہیں کہ ”ہمارا خان سو لو فلائٹ میں ہی خوبصورت لگتا ہے“۔ تحریک انصاف رائے ونڈ مارچ کے مقاصد حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو تی ہے یہ جلد سامنے آجائے گا۔
اپوزشن جماعتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف میں بھی بہت سی قوتیں ایسی ہیں جو عمران خان کی جارحانہ اپوزیشن سے خائف ہیں اور عمران خان کی جانب سے وقتاً فوقتاً اُٹھائے جانے والے سخت اور انتہائی اقدامات سے پریشان نظر آتے ہیں۔ 2014 ء کے دھرنے کے دوران جب عمران خان نے اپنے ارکانِ قومی اسمبلی کو مستعفیٰ ہونے کی ہدایات جاری کیں تو ان کے بہت سے ارکانِ اسمبلی کو بخار ہو گیا تھا۔”رائے ونڈ مارچ“ کا فیصلہ بھی عمران خان کا ذاتی فیصلہ ہے جسے صر ف ان کے کارکنوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ پارٹی لیڈر اور ان کے ارکان پارلمنٹ کی بڑی تعداد ڈری اور سہمی ہوئی نظر آتی ہے۔ کسی دوسری جانب جانے کی ضرورت نہیں خیبر پختونخواہ کے معاملات ہی کو دیکھتے ہیں تو اپنے مقاصد کی جدو جہد میں عمران خان اور ان کے کارکن(جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں) اکیلے نظر آتے ہیں جبکہ ان کی پارٹی کی ”اشرافیہ“ کے مقاصد کچھ اور ہی نظر آتے ہیں۔
2013 ء کے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخواہ کو عمران خان کی سیاسی اننگز میں ”ہوم گراؤنڈ“ اور ”ہوم کراؤڈ“ کی حیثیت حاصل ہو ئی تھی ہے۔ بلند و بالا کہساروں کے دامن میں آباد غیور پٹھانوں سے انہیں محبت بھی بہت ملی ہے۔ کے پی کے جنوبی اضلاع جو ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف مولانا فضل الرحمن کی ”قلمرو“ سمجھے جاتے تھے وہاں کا اقتدار بھی ان کی پارٹی کے ہاتھ آگیا۔ لیکن پرویز خٹک جنہیں کچھ دن پہلے تک عمران خان ”ملنگ“ کہا کرتے تھے ”سیاسی گُرو“ ثابت ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پرویز خٹک پارٹی کی بجائے اپنا گروپ مضبوط کرنے کے چکروں میں ہیں جس کی وجہ سے کارکنوں میں بد دلی پھیلی ہوئی ہے اس صوبے سے عمران خان کے لیئے سب سے پریشان کن خبر یہ تھی ان کی پارٹی کی جانب سے مخصوص نشستوں پر ممبر صوبائی اسمبلی بنائی جانے والی آٹھ ایم پی ایز اور ایک مرد ایم پی اے ایک برطانوی ادارے کی دعوت پر عین اُس وقت لندن چلے گئے جب عمران خان کی ہدایت پر چلائی جانے والی رائے ونڈ مارچ کی مہم زوروں پر تھی۔
عمران خان اپنی قبائلی سرشت کی وجہ سے ضد کے پکے ہیں وہ جو درست سمجھتے ہیں پھر اُس کے لیئے ڈٹ جاتے ہیں۔ ان کی یہی استقامت سیاست میں ان کی خامی قرار دی جاتی ہے۔ ”رائے ونڈ مارچ“ ان کی سیاست پر دور رس اثرات مر تب کر سکتا ہے۔ ہمارے ہیں بہت سے سیاستدان اور تجزیہ نگار اس مارچ کو اخلاقیات کے تناظر میں درست قرار نہیں دے رہے۔ جبکہ بہت سو ں کے نزدیک یہ مکافاتِ عمل کا نتیجہ ہے۔ مسلم لیگ ن نے سابق صدر فاروق لغاری مرحوم کے گھر ”چوٹی زیریں“ کی جانب مارچ کیا تھا بہت دور کی بات نہیں چند ماہ پہلے لیگی ورکر لندن میں کپتان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے گھر کے باہر احتجاج کرتے نظر آئے تھے۔
اہم ایشوز پر احتجاج سیاست کا حصہ ہوتا ہے۔ اپوزیشن ہر ملک میں حکومت کے مقابلے پر ہوتی ہے پاکستان میں اپوزیشن اور حکومت کی اندرونِ خانہ ہمیشہ ایڈجسٹمنٹ رہی ہے۔ یہاں باریاں لینے کا رواج ہے اسی لیئے عمران خان کا طرزِ سیاست ہمارے ہاں عجیب محسوس ہوتا ہے۔ رائے ونڈ مارچ ہماری سیاست کا کیا رُخ متعین کرتا ہے اس حوالے سے کچھ کہنا ابھی مناسب نہیں ہے البتہ قوم پر حقیقی اور جعلی حزبِ اختلاف کا فرق واضح ہو جائے گا۔۔۔۔

حصہ