دہشت گردی کیخلاف جنگ کی آڑ میں مسلمانوں کا قتل عام تحریر: سہیل احمد اعظمی
مسلمانوں کے خلاف یہود و نصاری کے گٹھ جوڑ اور ہمارے حکمرانوں کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں کے باعث دنیا بھر میں 15سالوں میں 40لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا لیکن اسکے باوجود اسلام دشمن اقوام کے دل میں ٹھنڈ نہیں پڑی۔ وہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کی آڑ میں اپنی اسلام اور مسلمانوں مکاؤ پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں ایک طرف نسل پرستی کا زہر پھیلایا جارہاہے وہاں دوسری جانب اس سے زیادہ خطرناک مذہبی امتیاز کے باعث بے قصور مسلمانوں کا خون بہایا جارہاہے۔ میانمار، فلسطین، بھارت، عراق، افغانستان، کشمیر، شام، لیبیا، ہندوستان و دیگر ممالک میں گذشتہ 15سالوں میں بین الاقوامی مداخلت سے تھونپی جانے والی جنگوں کے باعث ابتک 40لاکھ مسلمانوں لقمہ اجل ہوچکے ہیں۔ گلوبل وارآن ٹیررزم سے ہونے والی یہ ہلاکتیں صرف مسلمانوں کی ہیں اس سلسلے میں عراق، افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام ہجرت کے بعد ہندوستان میں بسنے والے 30کروڑ سے زائد مسلمانوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے ہندوستان کی سرزمین ان کیلئے تنگ کردی گئی ہے۔ دنیا بھر میں نسل سے شروع ہونے والا یہ امتیاز اب مذہبی منافرت میں بدلتا جارہاہے جو گلوبل Peaceکیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ یورپ اور ہندوستان میں ہونے والے کسی بھی ایک دہشت گردی کے واقعہ کے ردعمل میں جواز بناکر دنیا میں بسنے والے مسلمانوں ، ان کی مذہب عبادت گاہوں، کاروباری مراکزو املاک کو نقصان پہنچایاجاتا ہے لیکن اسے کوئی دہشت گردی کا نام نہیں دیتا۔ 11ستمبر کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ایسے امتیازی اقدامات جنگ کے باعث کیا آج دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہے یا غیر محفوظ؟ خود پاکستان جو اس جنگ میں مرکزی کردار کا حامل ملک ہے ۔ اپنے 60ہزار لوگوں کی قربانی دے چکاہے لیکن کیا کوئی ہماری کارکردگی، قربانیوں سے مطمئن ہے؟ ہرگز نہیں اور نہ ہی ہوگا۔ خود مسلمانوں کو متحد ہوکر اس کے بارے میں سوچنا ہوگا کہ آخر کسطرح مذہبی منافرت، نسل پرستی اور یہود و نصاری کی تھونپی گئی جنگوں سے نجات حاصل کی جائے۔ کیوں کہ اگر ہم نے جلد جان نہ چھڑائی تو مسلمان ممالک مزید زبوں حالی اور ابتری کا شکا ہوتے چلے جائیں گے اور ہم سے Do More کا مطالبہ بھی کیاجاتا رہیگا۔ مسلمانوں کی جتنی بھی تنظیمیں جن میں OIC، عرب لیگ و دیگر شامل ہیں ، کو متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام دشمن قوتوں کا اقتصادی و معاشی بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ ان تنظیموں کے بڑوں کو دنیا میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف مشترکہ آواز کے علاوہ مشترکہ طورپر پالیسیاں بنانی چاہئیں۔ حال ہی میں عرب لیگ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر ہونے والے ظم و ستم ، قتل عام کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چلائے۔ اچھی بات ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوگا اگر وہ کشمیر، میانمار، افغانستان، عراق کے مسلمانوں کا بھی ذکر کردیتے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کرنے سے ہونے والا تو کچھ ہے نہیں لیکن کوشش شہیدوں میں نام لکھوانے والی ہے۔ امت مسلمہ جن کے 55کے قریب ممالک ہیں ، 2ارب کے قریب آبادی ہے ، دنیا کے 10بڑے طاقتورملکوں میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب شامل ہیں لیکن ہماری آواز میں کوئی طاقت ہے اور نہ ہی ہمارے عمل میں ہم صرف مگرمچھ کی طرح آنسو بہانا جانتے ہیں۔ لیکن عملی اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں۔ اسلام اور اتباع سنت سے دور ہونے کے بعد ہم اللہ تعالی کی مدد ونصرت سے تو محروم ہیں ہی لیکن دنیاوی تقاضوں کو بھی ہم پور اکرنے سے قاصر ہیں۔ ہمارا کھربوں روپوں کا سرمایہ اسلام دشمن بینکوں کے پاس پڑا ہے جسے وہ ہمارے ہی خلاف استعمال کرتے ہیں۔ تیل اور افرادی قوت اللہ نے ہمیں عطا کی ہے لیکن ہم کسی بھی ہتھیار کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ اسلحہ ہمارے اکثر ممالک انکااستعمال کرتے ہیں۔ اپنے ملکوں میں انہیں دفاعی اڈے فراہم کرکے اپنی جڑوں کو کمزور کرنے کے علاوہ مالی طورپر بھی کمزور کرتے ہیں لیکن خود ہمارے حکمران عیاشیوں اور غیر ممالک میں اپنے سرمائے کو منتقل کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ خدا کیلئے ہمیں Be Muslim, By Muslim, Product and Produce Muslim Products والی پالیسی اپنا ناہوگی۔ تب ہی ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔ جب ہم معاشی، مالی، اقتصادی اور مذہبی طورپر محفوظ ہوں گے تو مخالفین کا مقابلہ کرسکیں گے۔ جو ممالک مسلمانوں کے مالی طورپر مستحکم ہیں وہ عیاشیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ جو کمزور ہیں وہ یہود و نصاری کے مالیاتی اداروں سے قرض پہ قرض لیکر ان کی پالیسیوں کو قبول کرکے غلامی کی زنجیروں میں جکڑتے جارہے ہیں۔ ہم اگر کبوتر کی طرح آنکھ بند کرکے یہ سمجھتے رہے کہ ہم محفوظ ہوگئے ہیں ایسا ہرگز نہیں ہوگا ، ہمیں کشمیر، افغانستان کے مسلمانوں سے سبق اور غیرت حاصل کرناہوگی۔ افغانستان میں 28ملکوں کی فوج کے ہوتے ہوئے نہتے مسلمان مجاہدین نے پہلے روس اور اب سپر پاور امریکہ اور اسکے حواری ملکوں کا جو حال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اب امریکہ افغانستان سے راہ فرار حاصل کرنے کیلئے مجاہدین سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہاہے، اسطرح کشمیر میں 7لاکھ بھارتی فوج کے ہوتے ہوئے نہتے کشمیریوں نے 2لاکھ مسلمانوں کی شہادت کے باجود بھارت کو ناکوں چنے چبوائے ہوئے ہیں۔ ہر آنے والا دن کشمیریوں اور فلسطینیوں کی لازوال قربانیوں کی نئی داستان رقم کررہاہے۔ بھارتی ظلم کی جتنی زیادتی ہورہی ہے اتنی ہی کشمیریوں کے جذبہ جہاد اور قربانیوں میں اضافہ ہورہاہے۔ بی بی سی نے اپنے گشتہ ہفتے کی کشمیر کے متعلق رپورٹ میں ایک شہید مجاہد کی والدہ کے انٹرویوکے بعد لکھا کہ شہید بیٹے کا خون خود صاف کیا ۔ میں دوسرے کو بھی جہا دمیں جانے سے نہیں روکوں گی۔ میرے بیٹے کو سینے میں گولی لگی تھی۔ اسطرح بی بی سی نے ہی ایک دوسری رپورٹ میں کہاہے کہ کشمیر میں زیادہ تر لوگ پاکستان کی حمایت کرتے ہیں۔ وہاں پر بھارت مخالف جذبات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ ہر طرف کشمیری پاکستانی پرچم لہرارہے ہیں جس کے باعث جھڑپیں ہورہی ہیں۔ لیکن جذبہ آزادی میں کمی کی بجائے اضافہ ہورہاہے۔ ایسے حالات میں جب مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی عالمی سازشیں عروج پر ہیں امت مسلمہ کو اپنی حکمرانی ، حوس وزر اقتدار کو چھوڑ کر دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے متحدہونا ہوگا۔ بصورت دیگر وہ دن دور نہیں جب افغانستان ،عراق، شام، لیبیا، مصر، یمن، فلطسین اور سوڈان کے بعد کسی اور مسلم ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا نمبر آجائے۔

حصہ