Neelab Writer

تحریر : عابد ایوب اعوان

لیاری گینگ وار کے کنگ عزیر بلوچ کو ضمانت پر رہا ہونے کے بعد دوبارہ تحویل میں لینے اور فوجی عدالت میں مقدمہ چلنے پر کئی بااثر شخصیات کے گرد گھیرا تنگ ہونے جا رہا ہے۔ عزیر بلوچ کے سنسنی خیز انکشافات کے بعد اب اگلے کچھ دن نہایت اہم ہیں جن میں ذرائع کیمطابق مزید کچھ گرفتاریاں متوقع ہوسکتی ہیں۔ عزیر بلوچ کے ان انکشافات سے ملکی سیاست میں ایک بھونچال برپا ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سیاست پر کئی سوالیہ نشانات اٹھ گئے ہیں جس سے آگے جا کر نہ صرف پیپلز پارٹی کی سیاسی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے بلکہ آئندہ ہونے والے انتخابات میں اسکی کارکردگی پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ انکشافات میں بھٹو کے داماد زرداری، فریال تالپور ، قادر پٹیل ذوالفقار مرزا جیسی شخصیات کے نام سامنے آچکے ہیں۔ قادر پٹیل کے کہنے پر بہت سے قتل اور زمینوں پر قبضے جیسے معاملات کا اعتراف ہوا ہے۔ بلاول ہاوس کیلیئے 15 سے 20 لڑکے بھیجے۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے بات مذید گرفتاریوں تک جائے گی تو دیکھیئے کیا کچھ ہوتا ہے۔ بھٹو کے داماد زرداری کے قریبی ساتھی بھی کسی کی تحویل میں ہیں جن کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا اور ان کے انکشافات بھی سامنے آئیں گے تو لگ پتہ جانا ہے۔ ان قریبی ساتھیوں میں ایک شخصیت غلام مری ہیں جو زرداری کے زمینوں کے سارے معاملات دیکھتے ہیں۔ یہ صاحب ٹنڈو اللہ یار سے تعلق رکھتے ہیں اور انکے ذمہ بھٹو کی نواسی آصفہ بھٹو زرداری کیلیئے آئندہ انتخابات میں ٹنڈو اللہ یار کے حلقے سے تمام تیاریاں کرنا تھیں۔ اسی لیئے آصفہ بھٹو ذرداری کا ووٹ بھی اسی حلقے میں رجسٹر کروایا جا چکا ہے۔ کہاں ذرداری صاحب پنجاب میں جا کر ڈیرے لگانے اور آئندہ انتخابات میں پنجاب میں فتح کے جھنڈے گاڑنے کی بڑھیں مار رہے تھے ، اب اپنی بچی کھچی سیاست کے لالے پڑنے والے ہیں۔ عزیر بلوچ نے بدنام زمانہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کیلیئے پاکستان میں تخریبی کاروائیاں کرنے، را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو سے تعلقات اور ملاقاتوں جیسے سنگین اعترافات بھی کیئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عزیر بلوچ کے را کے ساتھ تعلقات کب استوار ہوئے۔ آیا عزیر بلوچ کے ملک سے باہر جانے اور پیپلز پارٹی چھوڑنے سے پہلے یا بعد میں۔ عزیر بلوچ نے میانوالی کے علاقے کلری سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ایک متحرک رہنما ملک محمد خان سابقہ ناظم لیاری کو امین بلیدی سے قتل کروانے کا اعتراف بھی کیا ہے ۔ ملک محمد خان کو محترمہ بینظیر بھٹو لیاری میں نہایت اہمیت دیتی تھی اور جب بھی لیاری تشریف لاتی تھیں تو ملک محمد خان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے سابقہ ذرداری دور حکومت میں عزیر بلوچ لیاری کے ساتھ ہی ملحقہ ماڑیپور کے علاقے میں گڈز اینڈ ٹرانسپورٹ کے اڈوں سے کھلے عام روزانہ کی بنیاد پر اسلحے کی نمائش پر باقاعدہ بھتے وصول کرتا رہا ہے۔ لیاری میں خوف کا عالم ہوا کرتا تھا جب دن دہیاڑے عزیر بلوچ کے بندے اسلحے سے لیس گشت کیا کرتے تھے۔ کراچی کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو 80 کی دہائی تک کراچی روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا اور کراچی کے اس امن کو سبوتاژ کرنے میں سب سے پہلی اینٹ ضیاءالحق نے مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھ کر رکھی تھی جس کے بعد اس پہلی اینٹ سے کھڑی ہونے والی دہشتگردی بدامنی اور خوف و بربریت کی عمارت پرویز مشرف نے تعمیر کی۔ ان دو آمروں کے درمیاں والے دور میں کراچی کے حالات دوبارہ سے بہتر یو گئے تھے جب نواز شریف حکومت میں جنرل نصیر الدین بابر نے آپریشن کیا اور الطاف حسین کو جن پر بے شمار قتل کے مقدمات بنے ملک سے فرار ہو کر لندن کو اپنا مسکن بنانا پڑا۔ پھر مشرف دور میں دوبارہ مہاجر قومی موومنٹ نے متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوکر کراچی میں دہشت و بربریت کی ایک داستان رقم کی جس میں کتنی معصوم جانوں کے خون کی ہولی کھیل کر خوف کی اس عمارت نے مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑھے۔ لندن میں بیٹھے الطاف حسین کے ایک اشارے پر پورا کراچی بند ہو جاتا تھا۔ پھر 12 مئی جیسے واقعات ہوئے جس میں قتل ہونے والے معصوم لوگوں کا خون اس خوف کی عمارت کو مظبوط بنانے میں شامل ہوا اور تب اسلام آباد میں حکمرانی کے نشے میں مشرف نے اپنا مکا ہوا میں لہراتے ہوئے اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا کہ دیکھ لو کراچی میں میری طاقت۔ مشرف کے دور کے خاتمے کے بعد ذرداری کے دور حکومت میں عزیر بلوچ کے ذریعے کراچی میں خوف کی بنیاد پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا۔ ذرداری کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہی نواز دور حکومت کے شروع ہوتے ہی پاک فوج کے اس وقت کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف جسکا تعلق شہیدوں کے خاندان سے تھا نے کراچی میں دوبارہ امن قائم کر کے کراچی کی روشنیاں واپس لوٹانے کا عہد کرتے ہوے کراچی میں رینجرز آپریشن کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں کراچی پھر سے امن کا گہوارہ بنا اور اب لیاری گینگ کے بے تاج بادشاہ عزیر بلوچ کی گرفتاری کے بعد فوجی عدالت میں مقدمہ چلنے سے کراچی میں لیاری گینگ کے مرکزی کردار کے انکشافات کے بعد صورت حال واضح ہونا شروع یو گئی یے جس کے نتیجے میں بااثر شخصیات سامنے آگئی ہیں۔ آگے ہوسکتا ہے مزید انکشافات ہوں اور کون کس کے گرد گھیرا تنگ کرتا ہے اور اس صورتحال کا کس کو فائدہ یا نقصان ہوتا ہے یہ تو رب ہی بہتر جانتا ہے لیکن ملکی سیاست کا اونٹ ہر لمحہ اپنی کروٹ بدل رہا ہے اور ہم ہمیشہ کی طرح آج بھی ایک اچھی امید باندھنے پر مجبور ہیں.اور سچ کو سامنے لانے کے لیئے اپنی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں.کیونکہ
فتنہ خیز دنیا میں ظلم کا اندھیرا ہے
جان دینی پڑتی ہے اک دیا جلانے میں

اور آخر میں جیت حق اور سچائ کی ہی ہوتی ہے۔
پورے شہر میں کاغذی چہرے بسا لیئے
شطرنج کی بساط پر نئے مہرے سجا لیئے
ظالم نے لکھی پھر سے نئی داستان ظلم
لب وا کیئے تو لفظوں پہ پہرے بٹھا لیئے

حصہ