Neelab Writer

ایک جاسوس کی موت …………….. تحریر . عالیہ جمشید خاکوانی

سلطان صلاح الدین ایوبی نے فرمایا تھا اگر آپ دشمن کا ایک جاسوس پکڑ کے مار دو تو سمجھو آپ نے دشمن کے ایک ہزار جنگجو مار دیے اتنی بری شکست ہوتی ہے یہ دشمن کے لیے، یہ انہوں نے صلیبی جنگوں کے درمیان فرمایا تھا سلطان کا سب سے مضبوط بازو بھی جاسوسی کا نظام تھا جس میں اس نے لاکھوں صلیبی فوجیوں کو شکست دی یہ نظام علی بن سفیان چلاتا تھا ،صلیبی جنگوں میں یہودی اور صلیبی جاسوس لڑکیوں کا استعمال بھی کرتے تھے جن میں سے کئی پکڑی گئی تھیں ،ہم نے جو باندر پکڑا ہے جس کا نام کلبھوشن یا دیو ہے یہ ایک نہایت خطرناک جاسوس ہے سب سے بڑی بات یہ بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے جس نے 2022 2023 ریٹائر ہونا تھا بھارت نے اسے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں تعینات کر رکھا تھا یہ پاکستان کی بندرگاہ گوادر کو سبوتاژ کرنے کے مشن پر تھا اس کے حوالے کئی خطرناک مشن کیے گئے تھے یہ 2001سے پاکستان کے خلاف کام کر رہا تھا ابھی کچھ دن پہلے بھارتی ٹی وی پر ایک مذاکرہ دکھایا گیا جس میں لال قلعہ کے سائے میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں ایک بھارتی لڑکی نے سوال کیا ہم اپنے بہادر سورماؤں کی موجودگی کے باوجود پاکستانی سینا کو شکست کیوں نہیں دے سکتے ؟اس سوال کا جواب ایک بھارتی فوجی افسر نے دیا کہ پاکستانی سینا کو شکست صرف اس کے اپنے الوگوں کے زریعے دی جا سکتی ہے اور یہ ناممکن نہیں ہے پاکستان میں ایسے بہت لوگ مل جاتے ہیں جو پیسے لے کر یہ کام کر دیتے ہیں اس جواب میں جہاں پاک فوج کی شجاعت کا اعتراف تھا وہاں یہ بات بھی کھل کر سامنے آ گئی کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنی سٹریجٹی تبدیل کر چکا ہے یہ تصدیق کچھ عرصہ پہلے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دودل بھی کر چکے ہیں اتنے واضح منصوبوں کے باوجود بھارتی جاسوسوں کو چھوڑنا یا ان کے معاملے میں نرمی اختیار کرنا پاکستان دشمنی ہے یا اس کو کیا نام دیا جائے عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہے یہاں ہم انڈین جاسوسوں کے حوالے سے گذرے واقعات کا ذکر کرتے ہیں کشمیر سنگھ 1973میں گرفتار ہوا اور اسی سال پاک فوج نے اسے سزائے موت سنائی جس کے خلاف پیپلز پارٹی نے سول عدالتوں میں سٹے لے لیا اور بالا خر پیپلز پارٹی کے ہی انصار برنی کی کوششوں سے رہا ہو کر واپس انڈیا گیا سربجیت سنگھ کو 1991میں آرمی عدالتوں نے سزائے موت سنائی جس کو منتخب جمہوری حکومتوں نے سول عدالتوں کے ذریعے معطل کرا دیا حتی کہ پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری نے 2012 میں اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے کلبھوشن یادیو 2016میں گرفتار ہواجس کو 2017میں آرمی عدالتوں کی طرف موت کی سزا سنائی گئی ہے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس کی توثیق کر چکے ہیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فوری طور پر اس سزا کی مذمت کر دی ہے اور اسے غیر قانونی قرار دے دیا ویسے پیپلز پارٹی کی انڈین جاسوسوں سے ہمدردی کی تاریخ اس سے بھی پرانی ہے سنا ہے اگر تلہ سازش کیس میں جب مجیب الرحمن پاکستان کے خلاف سازش کرتا پکڑا گیا تھا تو پیپلز پارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو کی ہی کوششوں سے رہا ہوا تھا جس کے بعد وہ پاکستان توڑنے کا سبب بنا ،جب کلبھوشن کو بلوچستان میں ایرانی سرحد کے قریب گرفتار کیا گیا تھا تو کلبھوشن ایران کے اندر رہ کر ایک مغربی ملک کے لیے بھی جاسوسی کر رہا تھا ایک سینئر صحافی کے مطابق کچھ دن پہلے یہ خبر ایرانی سفارتکاروں نے ایک ملاقات میں بتائی انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان سے بھی یہ بات شیئر کر چکے ہیں کلبھوشن ایک بہت خطرناک جاسوس ہے اس کو کئی خطرناک مشن سونپے گئے تھے جس میں بلوچ علیحدگی پسندوں کو اور بھڑکانا ،مالی مدد دینا،ہتھیار فراہم کرنا ،دھشت گردی کے حملے کروانا ،خودکش دھماکے کروانا ،شعیہ سنی فساد کروانا ،کراچی میں بد امنی پھیلانا، غداروں کو پیسے دے کر ملک میں خانہ جنگی کروانا ،ٹی ٹی پی کو مضبوط کرنا یہ ایسے کام ہیں جو کوئی ملک اپنے ملک میں برداشت نہیں کر سکتا آپ نے سنا ہو گا 1965میں شام میں ایک اسرائیلی جاسوس پکڑا گیا Eli Cohen اس کا نام تھا وہ 1961میں شام میں داخل ہوا تھا پھر 1965میں پکڑا گیا شام نے اس کو سر عام پھانسی دی تھی اس نے شام میں جو چار سال گذارے تھے اس نے شام کی تمام سیکرٹ معلومات اسرائیل کو دے دی تھیں جب 1067میں چھ دن کی شام اسرائیل جنگ ہوئی جس میں شام کو شکست ہو گئی جس کے نتیجے میں اسرائیل نے شام سے Golan Heights چھین لی تھیں اور اردن سے ایاٹ جیورشلم اور ویسٹ بینک چھین لیے تھے اس سے اندازہ لگائیے جاسوس کتنے خطرناک ہوتے ہیں کسی بھی ملک کے لیے ،یہ پاک آرمی اور آئی ایس آئی کا بہت بڑا کارنامہ ہے جنھوں نے کلبھوشن کو گرفتار کیا اس گرفتاری کو برقرار رکھنا اس سے بھی بڑا کارنامہ گو کلبھوشن اپنے عزائم اور جرائم کا اعتراف ایک مجسٹریٹ روبرو کر چکا ہے بلکہ یہ سب اعترافات ساری دنیا میڈیا پر بھی سن چکی ہے لیکن ابھی تک ہمارے جمہوری حکمرانوں کی زبان سے اس کے خلاف ایک لفظ ادا نہیں ہوا آپ نے اس جاسوس کی شکل تو دیکھی ہے یہ بہت خطرناک جاسوس ہے کیونکہ یہ شکل بدلنے میں کمال رکھتا ہے اس کی ساخت ایسی ہے کہ یہ نوعمر لڑکے سے لے کر ستر سال کا بوڑھا بن سکتا ہے ،ایک بڑھیا سے نوخیز دوشیزہ میں ڈھل سکتا ہے اس کا پکڑا جانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جاسوسی کی دنیا میں ایسے لوگوں کی بہت مانگ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ شروع میں کلبھوشن یادیو سے لاتعلقی اختیار کرنے والا انڈیا کل اس کو سزائے موت ملتے ہی دھمکیوں پر اتر آیا ہے پورے بھارت میں کہرام برپا ہے ہر طرف میڈیا پہ شور مچ گیا ہے اور پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جمہوری حکومت اس کا کیا ایکشن لیتی ہے یہ تو نہیں معلوم لیکن پاکستانی عوام مطمعن ہے اور اس سزا کو بھارت کے لیے ایک سٹرونگ میسج کی صورت میں دیکھنا چاہتی ہے

حصہ