میڈیا کی ماں بہن نہیں ہے کیا؟ ……….. تحریر . ا قدس طلحہ سندھیلا
کل ایک ایف سی اہلکار کی جانب سے ایک رپورٹر پر تشدد کا انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ بلا شبہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے ۔ ویسے سوچنے کی بات ہے کہ کیا ایک رپورٹر کو زیب دیتا ہے کہ ڈیوٹی پر مامور اہل کار سے بدتمیزی کرے اور کار سرکار میں مداخلت کرے۔
ایک رپورٹر کے لیے بہت ضروری ہے کہ رپورٹنگ کرتے وقت اپنے جذبات کو قابو میں رکھے۔ رپورٹر کا کام رپورٹ کرنا ہوتا ہے، سنسنی پھیلانا نہیں۔ اسی طرح خبر پڑھتے وقت بھی اپنے خیالات اور جذبات کو کیمرہ کی آنکھ سے چھپایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ زیادہ تر رپورٹرز کی صحافتی پیمانوں پر تربیت نہیں کی جاتی۔ صحافتی قواعد و اخلاقیات سے نابلد رپورٹرز کے ہاتھ میں جب کیمرہ اور مائک آجاتا ہے تو خود کو خدا سمجھ بیٹھتے ہیں۔ کسی کا کوئی پیارا مر جائے تو کیمرہ اس کی آنکھوں پر فوکس کر کے پوچھتے ہیں کہ کیسا محسوس ہو رہا ہے۔ یا پھرکسی بادشاہ کی طرح اپنی کچہری لگا لیتے ہیں اورعوام کو اپنی رعایا سمجھ کران جرح کرتے ہیں۔ کیمرہ پکڑ کر سمجھتے ہیں کہ کسی کی بھی ذاتی زندگی میں مداخلت کر سکتے ہیں، کسی پر بھی الزامات لگا سکتے ہیں۔
ایسا ہی کچھ کل کراچی میں ایک خاتون رپورٹر نے کیا۔ مائک ہاتھ میں تھا مے ، کیمرہ مین کو ساتھ لیے وہ نادرا آفس کے باہر ایک ڈیوٹی پر موجود ایف سی اہلکار سے بدتمیزی کرتی رہیں۔ محترمہ نے دیکھا کہ ماحول کچھ ریٹنگ والا بن رہا ہے، کوئی اور نہیں تو یہ پولیس والا تو ہاتھ آ ہی گیا ہے تو کیوں نا معاملے کو مزید طول دیا جائے۔ میری بھی چینل میں تھوڑی بلے بلے ہو جائے گی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ محترمہ ایف سی کے اہلکار سے ان لوگوں کے سامنے بدتمیزی کرتی رہیں اور ان کی اتھارٹی کو چیلنج کرتی رہیں، جن کی حفاظت کرنا اور انہیں منظم رکھنا اس اہلکار کا کام تھا۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایف سی کا اہلکار کیمرہ مین کو ہٹانے کی کوشش کر ہا تھا اور ظاہر ہے ایسا کرنے کے آرڈر اس کو نادرا کے عملے کی جانب سے دیے گئے۔ اب اگر وہ ان کے احکامات نا مانتا تو یہ کہا جاتاکہ دیکھیں سیکیورٹی کی یہ صورت حال ہے کہ ہم آسانی سے دفتر میں گھس گئے اور کسی نے روکا تک نہیں۔ اور اگر وہ روک رہا ہے تو اس سے نہ صرف کیمرہ مین بدتمیزی کرتا ہے بلکہ محترمہ بھی کہتی ہیں کہ ”ہاتھ مت لگانا“۔ اس پر ستم یہ کہ ” فوکس کرو اس کا چہرہ“۔ ایسا کرتے ہوئے محترمہ نے لحظہ بھر نہیں سوچا کہ ان کے جانے کے بعد یہی اہلکار جب لوگوں کو لائن توڑنے سے ، بدتمیزی کرنے سے، یا ایک دوسرے سے گھتم گتھا ہونے سے روکے گا تو کون اس کی بات سنے گا۔ لوگ یہی کہیں گے کہ ارے جاؤ بھائی ، تم وہی ہو نا جس کی تازہ تازہ بے عزتی خراب ہوئی ہے۔ میڈیا والوں کو دیکھ کر تم لوگ ڈر جاتے ہو بس عوام پر ہی رعب جھاڑنا آتا ہے۔ اتنی ہمت تھی تو اس کیمرہ مین کو روکتے نا، ہمیں روکنے آ گئے ہو ۔
انہوں نے اگلا قدم یہ اٹھا یا کہ مائک لے کر اس اہلکار کے پاس پھر سے پہنچ گئیں ۔ اورفرمایا
”اوہ تمہیں شرم نہیں آتی،تمہارے گھر میں مائیں بہنیں نہیں ہیں“
ایک تو ہم پاکستانی ماؤں بہنوں کے گرداب سے نکل ہی نہیں پا رہے۔ محترمہ ! اس کی ماں، بہن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مگر نہیں جی، ہم ٹھہرے سچے اور پکے پاکستانی ، ماں،بہن کو بیچ میں لائے بغیر ہماری بات ہی مکمل نہیں ہوتی۔
خیر ، محترمہ کو جب ماں بہن سے متعلق تفشیش سے فرصت ملی تو پھر انہوں نے اہلکار کو پکڑ کر کیمرے کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد جو ہوا وہ صرف اس خاتون کےنہیں،بلکہ، ہمارے معاشرے، ہماری اقدار، میڈیا ، اور سیکیورٹی اداروں کے چہرے پر تھپڑ تھا۔
اس معاملے کے بعد سب سے زیادہ شور اسی بات پر مچے گا کہ ایک مرد نے خاتون پر ہاتھ اٹھایا، حقوق نسواں کی بات کی جائے گی، ایسے اقدامات کے خلاف سخت ایکشن لینے کو کہا جائے گا وغیرہ ۔ مگر میں اس واقعے کو حقوق نسواں کی پامالی سے زیادہ انسانی حقوق اور صحافتی اقدار کی پامالی سمجھتی ہوں۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ ان خاتون کی جگہ اگر کوئی مرد بھی ایسی حرکت کرتا تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا۔ لہذا اس واقع کے تناظر میں بحث یہ نہیں ہونی چاہیے کہ ایک خاتون پر تشدد کرنا چاہیے تھا یا نہیں، بحث یہ ہونی چاہیے کہ ریاست کے دو ستون، میڈیا اور سیکیورٹی ادارے اپنی اپنی پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دینے میں ناکام رہے ہیں۔
جب رپورٹر کے پاس کیمرہ اور مائک ہو تو اسے یہ حق نہیں کہ کسی کی عزت پامال کرے۔ محترمہ نے جو انداز اختیار کیا وہ اس ایف سی اہلکار کے بنیادی حق کی پامالی تھی ۔ ایک معمولی اہلکار ہونے کایہ مطلب ہر گز نہیں کہ کوئی بھی کیمرہ پکڑ کر آپ کی تضحیک کرے ، یا آپ کوآپ کے فرض کی انجام دہی سے روکے۔
اسی طرح اگر آپ ایک پولیس اہلکار ہیں، یا کسی بھی قسم کا اختیار رکھتے ہیں تو آپ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ آپ بے جا کسی پر حملہ کریں۔ ریاست کا کام جان ، مال اور عزت کا تحفظ دینا ہوتا ہے، نا کہ کسی شہری کو طاقت کے استعمال سے ڈرانا۔ جس طرح ایف سی اہلکار نے تشدد کیا او ر فائرنگ کی ، اس نے انہوں نے اس خاتون رپورٹر کی حق تلفی کی ۔ اس معاملے میں دونوں نے اپنے ہتھیارکا غلط استعمال کیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایسا غیر ذمہ دارانہ رویہ ان کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ کیا عوام کا پیسہ ان کی ٹریننگ پر اس لیے خرچ کیا جاتا ہے کہ یہ عوام پر ہی ٹوٹ پڑیں؟ جو معاملہ طاقت استعمال کیے بغیر حل ہو سکتا تھا، اس میں طاقت کا بے جا استعمال کیوں کیا گیا؟ اور یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ کچھ دن پہلے ایک نوجوان کو پولیس نےگولی مار کر ہلاک کردیا۔ قصور صرف اتنا تھا کہ اشارے پر رکا نہیں۔ ہر دوسرے دن جعلی پولیس مقابلوں میں لوگوں کو موت بھینٹ اتارا جاتا ہے۔ ماڈل ٹاؤن ایک کلنک کی طرح آج بھی پنجاب پولیس کے ماتھے پر چسپاں ہے۔ نابینا افراد پر لاٹھی چارج بھی یہ قوم بھولی نہیں۔ کب وہ وقت آئے گا جب قانون نافذ کرنے والے ادارے انسانی جان اور عزت کی قدر کرنا سیکھیں گے؟ کیا ان کی ٹریننگ میں یہ شامل نہیں ہونا چاہیے کہ ڈیوٹی دیتے ہوئے اگر حالات کشیدہ ہو جائیں تو کیسے صورتحال کو کنٹرول کرنا ہے؟ ایسا تو نہیں ہونا چاہیے کہ اِدھر صاحب بہادر کو غصہ آیا،ادھر جڑ دیا تھپڑ، یا چلا دی گولی۔
اسی طرح میڈیا مالکان کو بھی چاہیے کہ تھوڑا پیسہ ان رپورٹرز کی ٹریننگ پر بھی خرچ کر لیں۔ انہیں صحافتی قواعد و ضوابط سکھائیں۔ انہیں یہ بتائیں کہ میڈیا بلاشبہ ایک طاقت ہے، مگر یہ طاقت معاشرے کو توڑنے کے نہیں، بلکہ، معاشرے کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔ آپ کے ہاتھ میں جو طاقت ہے اسے لوگوں کی زندگی تباہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی سنوارنے کے لیے استعمال کریں۔
ہمارے میڈیا کا المیہ یہ ہے ۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ کیمرہ ، مائک، اور قلم اگر ہمیں ہمت اور طاقت دیتا ہے تو وہیں ہم سے یہ تقاضا بھی بھی کرتا ہے کہ ہم اس کے تقدس کو پامال نہ ہونے دیں۔ اگر آپ کے ہاتھ میں کیمرہ ہے تو آپ کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ آپ لوگوں کی عزت سے کھیلنے لگیں۔
کیمرہ اور مائک ہاتھ میں پکڑ کر جب آپ کسی سے بدتمیزی کر رہے ہوتے ہیں، کسی پر بلا تحقیق الزامات لگا رہے ہوتے ہیں، تو یہ مت بھولا کریں کہ ایک صحافی ہونے کی حیثیت سے آپ پر کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ شتر بے مہار کی طرح جیسے چاہیں چلتے جائیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہو۔

حصہ