”لُوٹنا “بھی ثواب ہے لیکن……………………………………… ڈاکٹر اسد مصطفیٰ
ٓ لوٹنا بھی ثواب کا کام ہے اگر لوگوں کے دل لوٹے جائیں تو مگر معاشرے میں الٹا چلن ہے کہ دل نہیں لوٹے جاتے توڑے جاتے ہیں۔شاید اسی لیے میرتقی میر نے بہت پہلے کہا تھاکہ
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
اور ایک شاعر نے رشتوں کے تقدس کو کچھ یوں بیان کیا ہے کہ
سانس لینے سے ٹوٹ جاتے ہیں
دل کے رشتے عجیب ہوتے ہیں
کبھی رواج تھا کہ لوگ دل لوٹا کرتے تھے اورہر آدمی دل دینے اور دل لٹانے کے لیے تیار ہوتا تھا۔ بقول شاعر
لوٹنا بھی ثواب ہے لیکن
گر محبت میں لوٹا جائے تو
لوٹنا،لٹیرا ہونا، وغیرہ بہت عام سے الفاظ ہیں اور ان کا اطلاق معاشرے کے بہت سے طبقات پر ہوتا ہے ۔آجکل لٹیروں میں ایک طبقہ صاحبان اقتدار کا بھی پایا جاتا ہے ۔ایسا طبقہ عوام میں بہت مقبول ہوتا ہے اور عوام لٹ کر بھی انہیں لٹیرا نہیں بلکہ اپنا مسیحا اور راہنما سمجھتے ہیں۔ایسے ہی طبقے کے لیے حفیظ جالندھری نے کیا خوب کہا تھا کہ
رہزنوں سے تو بھاگ نکلا تھا
اب مجھے رہبروں نے گھیرا ہے
قافلہ کس کی پیروی میں چلے
کون سب سے بڑا لٹیرا ہے
سر پہ راہی کے سربراہی نے
کیا صفائی کا ہاتھ پھیرا ہے
لوٹنا بڑا ہی منافع بخش مشغلہ کاروبار ہے۔چاہیے ملک لوٹا جائے چاہیے لوگوں کو ۔بس ہفتے میں ایک دو بار نقلی پستول ہی سہی لے کر سرِ شام ہی کسی گلی کے کونے میں کھڑے ہوجائیے آپ کے مہینے بھر کا خرچ چند منٹوں میں نکل آئے گا ۔یا پھر کسی امیر کبیر کے گھر میں داخل ہو جائیے،سال بھر کا خرچ نکل آئے گا۔صبح کے اخبار اٹھا کر دیکھیے یا چینلز لگا کر دیکھئے دکانوں،بنکوں اور گھروں پر ڈاکے ڈالنے ،راہ گیروں کو لوٹنے اورپانامہ لیکس کی گرما گرم ”وارداتوں“ کے شور سے کچھ سنائی نہیں دیتا ۔کل ہی دریاخان سے ایم پی اے انعام اللہ نیازی کو لاہور میں لوٹ لیا گیا ہے اور ان سے دو موبائل فون اور پندرہ ہزار روپے چھین لیے گئے ہیں۔ہمیں ان سے ہمدردی ہے کیونکہ لاہوریوں کے ہاتھوں لٹنے کا مجھے خود بھی تجربہ ہے اور ہمارے اور بھی کئی عزیز وہاں سے لٹ چکے ہیں۔ ایک دور تھا جب یہ ڈاکو،لٹیرے ویرانوں اور دورافتادہ علاقو ں میں لوٹا کرتے تھے ۔ مگر اب تو صبح و مسا بڑے بڑے شہروں کی گلیوں ، بازاروںاور سڑکوں میں دندناتے پھرتے ہیں اوربغیر کسی خوف کے لوگوں کو اپنے مال و متاع سے محروم کر تے رہتے ہیں ۔ ایک وقت تھا جب چوری بھی ایک ” باعزت “ پیشہ تھا۔ چور گھروں میں اس وقت داخل ہوتے جب سب لوگ سو رہے ہوتے اور مالک مکان کے کھنکارنے کی آوازپر بھی بھاگ کھڑے ہوتے تھے مگر اب نہ تو وہ پہلی قسم کے چورباقی رہے ہیںاور نہ ہی اس پیشہ کے ادب آداب ۔ اب تو چور ڈاکو ہیں اورڈاکو چور۔ اورلٹیروں کے قبیلے میں عام آدمی سے خاص آدمی تک سبھی شامل ہو چکے ہیں جبکہ لوٹنے کا فعل لٹیروںکے لیے خوشی وشادمانی کے ساتھ ساتھ باعثِ دولت وحشمت بھی ہوتاہے۔ دریا دل لٹیروں کی سخاوت کا ایک واقعہ کچھ عرصہ قبل راولپنڈی میں میرے ایک عزیز کے ساتھ پیش آیا جواپنی سائیکل پر رات کو گھر واپس جا رہا تھا ۔ سی ایم ایچ کے معروف علاقے کی ایک سڑک پر دو نوجوانوں نے اسے روکا اور اپنے ہاتھ میں موجود پستول کے زور پر موبائل فون دینے کو کہا! اس بے چارے نے اپنے جیب سے دوسو روپے نکال کر ان کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا کہ میرے پاس تو بس یہی کچھ ہے اور اگر سائیکل لینا ہے تو یہ بھی حاضر ہے ۔دونوں نوجوانوں نے اس کی مکمل جامہ تلاشی کے بعد بڑی دریا دلی سے اسے چھوڑ دیا اور اس کے دو سو روپے بھی واپس کر دیے جیسے اس پر احسان کر رہے ہوں، لیکن ان کے ہاتھ میں موجود شاپر میں آٹھ دس موبائل فون موجود تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اس سے پہلے بھی آٹھ دس لوگوں کو لوٹ چکے تھے ۔ میں نے صرف دو واقعات لکھے ہیں جن کا میرے ساتھ تھوڑا بہت تعلق ہے لیکن آج کل جس طرح شہروں کے بھرے پرے بازاروں اور گلیوں میں لٹیرے بڑی آسانی سے اپنی دیہاڑی لگا رہے ہیں ۔ انہیں بہت اچھا روز گار میسر آگیا ہے میں حیران ہوں کہ اتنی کثرت سے پڑنے والے ڈاکوں کے بعد لا اینڈ آرڈر کس مقام پر کھڑا ہے اور ہمارا معاشرہ اخلاقی زوال کے کس مقام پر۔ جب یہ سننے میںآتا ہے کہ فلاں جگہ ڈاکہ پڑا ہے یا کوئی قتل ہوا ہے توپولیس کی طرف سے تحقیق و تفتیش کے بجائے سارا زور اس بات پہ لگادیا جاتا ہے کہ اس کیس کو کسی دوسرے تھانے کا ثابت کر کے جان چھڑائی جائے یا پھر لوٹنے والا بھی کوئی پولیس کا اپنا نکلتا ہے ۔یعنی بقول شاعر
تھاارادہ تری فریاد کریں حاکم سے
وہ بھی کم بخت تراچاہنے والا نکلا
میری رائے میں اگرعوام کی حفاظت کی ذمہ داری بھی پولیس کے بجائے انہی لٹیروں کے سپرد کر دی جائے تو لوگ کم از کم وہ رشوت دینے سے تو بچ جائیں گے جو وہ تھانے کچہریوں میں اپنے گھر پڑنے والے ڈاکے کی ایف آئی آر درج کراتے ہوئے دیتے ہیں۔آخر ڈاکو، پولیس کی طرح بے عمل تو نہیں بلکہ پوری طرح ” باعمل“ لوگ ہیں ۔

حصہ