احمد فراز (عروہ نیا زی)
روشنی میری بہت دور تک جا ئے گی
شرط یہ ہے کہ سلیقہ سے جلا ئو مجھ کو
آج اردو ادب کے مشہور شا عر احمد فراز کی چھٹی برسی ہے۔
آپ کا پو را نام سید احمد شاہ تھا۔آپ 1931 کو سیالکوٹ میں پیدا ہو ئے۔آپ نے اردو شاعری کے زریعے نام کما یا۔اردو ادب میں آپ کی شاعری کا اپنا مقام ہے۔آپ کے کلام کو بہت سے گلو کا روں نے گا یا جن میں ملکہ ترنم نور جہاں اور بادشا ہ غزل مہدی حسن شاہ بھی شا مل ہیں۔جنہوں نے کہا تھا کہ بعض شعراءہما رے پاس چل کر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہما را کلام گائیں۔لیکن فراز اتنے میٹھے شا عر ہیں کہ ان کی شاعری خود ہمیں ان کے پاس کھینچ کے لے جاتی ہے۔آپ کے کا م کا اندازہ آپ کو ملنے والے ایواڈز سے بھی لگا یا جا سکتا ہے ۔آپ کو قومی سطح پر
آدم جی ایوارڈ 1966
ابسین ایوارڈ 1970
دھنک ایوارڈ 1971
ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ 1991
نقوش ادب ایوارڈ 93 ـ 1992
پا کستان اکیڈمی آف لیکچر ایوارڈ 2000
حلال امتیاز 2004
ستارہ امتیاز 1993
سے نوازا گیا۔
اس کے علا وہ آپبین الیقوامی سطح پر بھی پیچھے نہیں رہے ۔بین الاقوامی سطح پر ملنے والے ایوارڈز میں
فراق انٹرنیشنل ایوارڈ 1982
اکیڈمی آف اردو لیٹریچر ایوارڈ(کینیڈا)1991
جے این ٹاٹا ایوارڈ ( انڈیا)1992
میلینم میڈل آپ اونرز (یوـایس ـ اے) 2000 1999
فسٹ کا فی اعظمی ایوارڈ (یو اے ای)2002
ای ٹی وی کمال فن ایوارڈ(انڈیا)2004
شا مل ہیں۔
آپ کی شاعری پڑھ کہ یوں لگتا ہت جیسے ہر ہر لفظ کو بہت چن چن کہ اس کی جگہ پہ رکھا گیا ہے۔آپ اردو ادب کا ایک بہت بڑا سرما یہ ہیں۔
آپ کی مشہور کتا بوں میں
پس انداز ،موسم شب خون،
بے آواز گلی کُوچوں میں ،نایافت
نا بینا شہر میں آئینہ ،جاناں جاناں
شامل ہیں۔ان کے علا وہ بھی آپ کئی کتا بوں کے مصنف ہیں۔
آپ کی ایک مشہور غزل کا پہلا مصرع قابل تعریف ہے
اب کے ہم بچھڑے تو شائد کتا بوں میں ملیں
جیسے سوکھے ہو ئے پھول کتا بوں میں ملیں۔
آپ کو بھی اپنے زمانے کے لوگوں سے شکائت رہتی تھی۔اس لئے لکھتے ہیں۔
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فراز
کیا کریں جب لوگ خدا ہو جائیں
ایک اور معر ملاحظہ ہو
میں شب کا بی مجرم ہوں سحر کا بھی ہوں مجرم
یا رو مجھے اس شہر کے آداب سکھا دو۔
آپ گردوں کے عارضہ میں مبتلا ہو ئے اور اپنے ہزاروں چاہنے والوں کو 2چھوڑ کر 2008 میں خالق حقیقی سے جا ملے ۔آپ کی زندگی کی آخری غزل میں اس دنیا سے جانے کا ذکر مو جود ہے
غم حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کو ئی
چلے آئو کہ دنیا سے جا رہا ہے کو ئی
ازل سے کہ دو کہ رک جائے دو گھڑی کے لئے
سنا ہے آنے کا وعدہ نبھا رہا ہے کو ئی
وہ اس ناز سے بیٹھے ہیں لاش کے پاس
جیسے رو ٹھے ہو ئے کو منا رہا ہے کو ئی
پلٹ کر نہ آجا ئے سانس نبضوں میں
اتنے حسین ہاتھوں سے میت سجا رہا ہے کو ئی
اے خدا دو پل کی مہلت اور دے دے
میری قبر سے ما یوس جا رہا ہے کو ئی۔

حصہ