عالیہ جمشید خاکوانی
موت سے پہلے کیوں مر جائیں

کسی بھی ملک کو تباہ کرنا ہو تو سب سے پہلے اس میں ناامیدی پھیلائی جاتی ہے اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ ناکام ترین لوگ ہیں دیکھا جائے تو آجکل حکومتی سطع پر اس بات کا خاص خیال رکھا جارہا ہے کہ کس طرح عوام کے حوصلے پست کیے جائیں سوچی سمجھی سازش کے زریعے ہماری ہی صفوں میں موجود میر جعفر اور میر صادق ہمیں اندر ہی اندر کھوکھلا بناتے جا رہے ہیں حملہ بھارت میں ہوتا ہے ایف آئی آر گوجرانوالہ میں کٹتی ہے ۔کرکٹ بورڈ نے ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ میچ نہ صرف ہروانا ہے بلکہ بدترین شکست کو یقینی بنا ناہے۔وزیر داخلہ عوام کو باور کراتے ہیں چونکہ ہمارے پاس تحریری ثبوت نہیں ہیں کہ الطاف حسین را کے ایجنٹ ہیں اس لیے ہم کوئی کاروائی نہیں کر سکتے یعنی یکے بعد دیگرے ایم کیو ایم کے جو اپنے ہی اندر کے لوگ چشم کشا شہادتیں مہیا کر رہے ہیں وہ محض ایک بکواس سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے اس سلسلے میں آڈیو و،ڈیو ثبوتوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں ۔قومی سطع کے جرائم کے ثبوت عدالتوں کو مہیا کرنا حکومت وقت کا کام ہوتا ہے لیکن وہ کیسوں کو لٹکانے اور کمزور کرنے میں لگی ہوئی ہے رینجرز ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں لگی ہے تو عدالتیں ناکافی ثبوتوں کی آڑ لے کر ان ملزموں کو باہر بھگانے میں لگی ہیں ایسے میں ذہن میں سوال اٹھتا ہے ایگزیکٹ اور بول کے خلاف تو صرف بیرون ملک لکھا جانے والا کالم ہی کافی ہو گیا تھا جبکہ یہاں مہینوں کی محنت کے بعد جمع کیے جانے والے ثبوت اور گواہ نظرانداز کر دیے جاتے ہیں
وجاہت علی خان کہتے ہیں ہمیں گمان تھا کم از کم ایک ادارہ تو پاکستان میں ایسا ہے جو پے در پے مارشل لاؤں کے باوجود ملک کی اندرونی و بیرونی سرحدوں کی حفاظت کر سکتا ہے لیکن جب زرداری تڑی لگا کر ملک سے باہر چلے گئے تو یہ تصور کمزور پڑ رہا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری قوم اپنا کیا خود بھگت رہی ہے میڈیا چیخ رہا ہے اخبارات بھرے پڑے ہیں کہ خدا کے لیے فوج کو کمزور مت کرو رینجرز کو فریق بنا کر کس کا بھلا کر رہے ہیں؟ کیا رینجرز کی ایان علی سے دشمنی ہے یا ڈاکٹر عاصم سے؟ آخر مجرموں کو تحفظ کیوں فراہم کیا جا رہا ہے ؟
کیا سیاست ریاست سے زیادہ اہم ہو گئی ہے؟میں ہمیشہ یہی لکھتی رہی کہ اس خونی جمہوریت کا راستہ مارشل لاء روک لیا کرتا تھا جو آج تک ملک بچا رہا مگر اس بار انہوں نے بے نظیر کی قربانی دے کر بہت بڑی بازی کھیلی ایک طرف تو زرداری کی قسمت کھل گئی دوسری طرف نام نہاد جمہوریت پائیدار ہو گئی اس بار جرائم اس لیئے بھی بڑھ گئے اور مجرم توانا ہو گئے کہ انہوں نے سوچ لیا تھا اب فوج جرات نہیں کرے گی نہ ہی مارشل لاء کا ڈنڈا سر پہ آئے گا لہذا کھل کے لُوٹو اور ریاستی ڈھانچے کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لو ،بیوروکریسی کو خرید لو یا خوف میں جکڑ دو، جس پہ الزام لگتا ہے اس کو اس سے بڑا عہدہ مل جاتا ہے جس کی وجہ سے مجرم بے خوف ہو گئے جرم سرحدیں پھلانگ گیا کسی کو ذرہ سا بھی خطرہ محسوس ہوتا وہ دوسرے ملک کی راہ لیتا سیاں بنے کوتوال توڈر کاہے کے مصداق پولیس میں دہشت گرد بھرتی کر دیے گئے جو نہ صرف سسٹم کے لیے خطرہ بن گئے بلکہ اصل پولیس والوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں میرے پاس کئی پولیس والوں کے میسج آتے ہیں جو لکھتے ہیں ہم اب ایک دوسرے کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ہر کوئی بات کرتے ڈرتا ہے کہ نہ جانے اگلا کس کا بندہ ہے پولیس کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتی جب تک اس سے سیاست نہیں نکالی جاتی ۔میرے اس سوال پر کہ آپ لوگ جرائم ختم کرنے کی بجائے اس میں حصہ دار کیوں بن جاتے ہو ؟وہ کہتے ہیں ہم بھی انسان ہیں انسانیت ہمارے اندر بھی ہے لیکن جب تک پولیس کو غیر سیاسی نہیں کیا جاتا یہ لعنت ختم نہیں ہو سکتی ہم خاموش رہنے پر مجبور ہیں اپنی روزی پر لات تو نہیں مار سکتے میں نے کہا ایسی روزی کس کام کی جو جہنم واجب کردے لیکن اس کرپٹ سسٹم میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی مایوسی دلوں میں گھر کرتی جا رہی ہے قوم کا مورال ڈاؤن ہو رہا ہے لیکن حکمرانوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا انہیں وہ قوم چاہیے جسے وہ ایک تھپڑ ماریں تو وہ دوسرا گال بھی پیش کر دے بلکہ جوتے کھانے کے لیے جوتے مارنے والے بڑھانے پر اصرار کرے اس کی بد ترین مثال ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ہیں جو حقیقت میں اپنے کارکنوں کو جوتوں سے پٹواتے او ر ان سے جھاڑو دلوایا کرتے تھے آخر الطاف حسین کا انجام بھی قریب آپہنچا ہے ایم کیو ایم کے اندر کے لوگ بھی خوف کی فضا سے آزاد ہو کر سچ بولنے پر اتر آئے ہیں کس کس جرم کی پوتھیاں نہیں کھل رہیں پہلے کراچی کی ہر سڑک پر بوری بند لاشیں ملا کرتی تھیں اب جرائم کی گٹھڑیاں کھل رہی ہیں ایم کیو ایم کے سابق وزیر ڈاکٹر صغیر احمد نے کہا کہ اگست میں صبح سویرے کراچی کی سڑکوں پر تیس سے پینتیس لاشیں ملتی رہیں شناختی کارڈ دیکھ دیکھ کر نوجوانوں سے زیادتیاں کی جاتیں (کیا یہ الطاف کی پاکستان سے دشمنی کی انتہا کا ثبوت نہیں کہ اگست میں ہی پاکستان بنا تھا ) ڈاکٹر صغیر احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الطاف حسین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کو وہ افراد چاہیں جن کے چہروں سے لوگوں کو وحشت ہو اوپر سے کوئی آ جائے تو آپ اس کے پیر دھو دھو کر پیتے ہیں آپ بھول گئے کہ قوم کو آپ نے کہاں پہنچا دیا ہے ؟ڈاکٹر صغیر احمد پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہو گئے اسی طرح رینجرز کی کاروائی کے دوران کراچی سے گرفتار ہونے والے دہشت گرد فیصل عرف ماما نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ دسمبر 2009میں کراچی میں عاشورہ کے مرکزی جلوس میں دھماکے بھی ایم کیو ایم نے کرائے تھے واضح رہے کہ فیصل عرف ماما ایم کیو ایم کا مبینہ ٹارگٹ کلر اور کراچی کے علاقے رنچھوڑ لائن سیکٹر کا ممبر ہے ملزم کو گذشتہ برس اکتوبر میں رینجرز نے گرفتار کیا تھا ملزم نے دوران تفتیش جے آئی ٹی کو اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ ماتمی جلوس کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر کی گئی اس وقت کراچی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی بھی موجود تھے دھماکے کے بعد جلاؤ گھیراؤ بھی منصوبے کا حصہ تھا فیصل ماما نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ دس منٹ پہلے کارکنوں نے بم نصب کیے اور پھر کیمپ چھوڑ دیا تھا واضح رہے کہ کراچی میں اٹھائیس دسمبر 2009کو ایم اے جناح روڈ پر عاشورہ کے جلوس میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہوئے تھے دھماکے کے بعد تخریب کاروں نے آتش گیر مادے کی مدد سے بولٹن مارکیٹ کی چار ہزار دکانوں کو آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں اربوں روپے کی اشیا جل کر خاکستر ہو گئیں یقناً یہ بھی ایک ڈیل ہی ہو گی مارکیٹ والوں نے بھتہ نہیں دیا ہوگا یا پھر مارکیٹ والی جگہ خالی کرانی ہوگی جس طرح کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں ہوا
متحدہ کے قائد الطاف حسین کے بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے علاوہ بی جی پی سرکار سے بھی قریبی رابطوں کے شواہد مل گئے ہیں انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے برطانیہ کے دورے کے دوران الطاف حسین کو سکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے منی لانڈرنگ اور عمران فاروق قتل کیس میں گرفتاری سے بچانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا تھا متحدہ جو بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنڈے کے مطابق کام کر رہی ہے برطانوی ایجنسیوں اور بالخصوص سکاٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے تفتیش کا عمل مکمل کر کے گرفتاریوں کا عمل شروع ہونے والا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے برطانوی حکام سے ملاقات میں واضح کر دیا وہ برطانیہ اور بھارت کے تعلقات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے الطاف حسین کے خلاف کاروائی کے عمل کو سست کر دیں جس کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ کو حکومتی شخصیات کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا کرنا
پڑااس لیے الطاف حسین اب تک گرفتاری سے بچے ہوئے ہیں ۔۔۔جبکہ پاکستان میں ہر بات کا ذمہ دار آرمی کو ٹھیرایا جاتا ہے کوئی گرفتار نہیں ہو رہا تو سوال ہو گا فوج کیا کر رہی ہے؟ کوئی بچ کے نکل گیا تو ایجنسیاں کس مرض کی دوا ہیں کسی کو سزا نہیں ہوئی تو آرمی نے ڈیل کر لی ہو گی اس سے یہ ہو رہا ہے کہ اس واحد ادارے کا مورال بھی گرنے لگتا ہے قوم مایوس ہونا شروع ہو جاتی ہے اور یہی اس قوم کی سب سے بڑی بد بختی ہے! مسزجمشیدخاکوانی

حصہ