حقوق نسواں کا واویلا اور حقیقت !

تحر یر: مقدس ناز(واہ کینٹ)

جب سے لوگوں میں خواتین کے حقوق کی آگہی پیدا ہوئی تب سے لوگوں نے لڑکیوں کو بھی وہی حقوق دینا شروع کر دیئے جو اس سے پہلے صرف لڑکوں کو دیئے جاتے تھے۔اور اس کوشش کے نتیجے میں ایک عورت معاشرتی بھاگ دوڑ اسی طرح سے سنبھال رہی ہے جیسے مرد معاشرتی فرائض انجام دیتا ہے۔بہت سے گھرانے ایسے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں عورت کی تعلیم حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، آج وہی لوگ عورت کی” آزاد ی رائے” کے حق میں بات کرتے نظر آتے ہیں ۔اسی آزاد ی رائے” کی بدولت آج حوا کی بیٹی مردوں کے شانہ بشانہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی ذمے داریوں کو با اسلوبی انجام دے رہی ہیں۔تنظیموں اور بہت سے اداروں کی کوششوں سے ہمیں بہت سی ایسی مثامیں نظر آتی ہیں جو ملک و قوم کے لیے فخر کا باعث بنی ہیں ۔
“بے نظیر بھٹو”کو پہلی پاکستان کی پہلی “خاتون وزیر اعظم”کا اعزاز حاصل ہے۔ “فاطمہ جناح” نے قدم قدم پر قائد اعظم کا ساتھ دے کر بہن
ہونے کا ثبوت دیا۔آسمان کی بلندیوں کو چھوتی”عائشہ فاروق” کی پروازیں اس بات کی دلیل ہیں کہ عورت کمزور نہیں ہے وہ مشکلات اور
خطروں سے گبھرانے والی نہیں ہے ۔ایسی بہت سی خواتین کہیں ماں تو کہیں بہن تو کہیں بیوی کے روپ میں اپنے فرائض انجام دے رہی
ہیں۔بہت سی خواتین اپنے ہنر کے ذریعے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہی ہیں
شیخ سعدی اپنے قول میں فرماتے ہیں کہ!
“اچھی عادت کی مالک نیک اور پارسا عورت کسی فقیر کے گھر میں بھی ہو تو اسے بھی بادشاہ بنا دیتی ہے”۔
خواتین ہمارے ملک کا تقریبا نصف ہیں اسکے باوجود بھی اپنے حقوق سے دور ہیں ۔آج کے ترقی یافتہ دور میں بے شک بہت سی تنظیمیں اور
ادارے عورت کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔حکومتی سطح پر بھی بہت سے احکامات بھی دیئے گئے مگر بد قسمتی سے وہیں پر ہمارے کچھ مذہب
کے پیرو کار ان کے خلاف ہیں ۔ان کے مطابق عورتوں کے ہاتھوں سے چوڑیاں مردوں کو پہنائی جا رہی ہیں ۔دنیا ٹیکنالوجی کے دور میں آگے
نکلنے کے باوجود بھی جہالت کو نہیں مٹا سکی ۔جہاں رسومات کے نام پر عورت کو قربان کر دیا جاتا ہے ۔کہیں جہیز دینے کی فکر میں زندہ درگور کیا جارہا

ہے تو کہیں کم جہیز لانے پر جسمانی اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔کہیں شک کی بنا پر”کاروکاری یا ونی” چڑھا دیا جاتا ہے تو کہیں تیزاب پھینک کر پھول چہروں کی خوبصورت زندگی کو بے رونق بنا دیا جاتا جاتا ہے۔
میں بھی مظلومی نسواں سے ہوں غم ناک بہت
نہیں ممکن مگر اس عقدہ مشکل کی کشود!

دوسرے قوانین کی طرح اس سال بھی”تیزاب سے جلانے والے مجرم” کے لیے قانون پاس کرایا گیا ، لیکن عمل درآمد نہیں ہو سکا۔یہاں پر اگر
یہ بات کہی جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ”پاکستان میں قانون صرف بنانے کے لیے ہوتے ہیں عمل کرونے کے لیے نہیں بنائے جاتے ۔
اللہ نے عورت کو صفت نازک پیدا کیا ہے اور” مرد” کو طاقت دے کر اس کی رکھوالی کے لیے پیدا کیا ۔ مگر مرد اپنی طاقت کا غلط استعمال کر کے
ہرسال سینکڑوں خواتین کو بلی چڑھا دیتا ہے، تو کہیں گول روٹی نہ بننے پر بیٹی سے جینے کا حق چھین لیتا ہے۔”پاکستان” ایک اسلامی ملک ہے
جہاں ایک ہی خدا کو ماننے والے رہتے ہیں وہیں پر مرد اپنی طاقت کے زور پر ہر چار گھنٹے میں ایک عورت کی عصمت درازی کرتا ہے اورہر چار
دن میں ایک عورت اجتماعی زیادتی کا شکار ہوتی ہے۔
“جو ہر مرد عیاں ہوتا ہے بے منت غیر
غیر کے ہاتھ میں ہے جو ہر عورت کی نمود!
دین اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے خواتین کے لیے” مہر” مقرر کیا، انہیں جائیداد میں حق دا ر ٹھہرایا ۔ مرد اور عورت کی تعلیم کو لازمی قرار
دیا اور ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی اس کے با وجود اسلام پر الزام ہے کہ یہ عورت کی آزادی ر کے خلاف ہے۔ غلطی مذہب کی نہیں بلکہ
اسکے پیروکاروں کی ہے جو اپنی مرضی کی بات میں تو دین لے آتے ہیں مگر جب بات عورت کے حقوق کی ہو تو مذہبی احکامات کہی دور رہ جاتے
ہیں۔ مرد کو اپنی چار شادیاں تو یاد رہتی ہیں مگر جہاں عورت کی پسنذ نا پسند کی بات آجا ئے تو دین بھول جاتا ہے کہ اس کی اجازت اسلام نے دی
ہے۔ جبکہ اسلام میں بیٹی کی اہمیت پر کھلے الفاظ میں کہ دیا ہے کہ۔۔۔!
” بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو ، کیونکہ وہ پیار کرنے والیا ں اور قیمتی چیز ہیں”
ایک اور مقام پر حضورﷺ نے بیٹیوں کی اہمیت پر زور دیا ہے کہ ۔۔۔۔۔!
“جس شخص کی بیٹیاں ہوں اسکو برا مت سمجھو اسلئے کہ میں بھی بیٹی کا باپ ہوں”
جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ فرماتے ہیں۔۔۔!

” اے لڑکی ! تو زمین پر اتر میں تیرے باپ کی مدد کروں گا”
جب ہمارا دین اس چیز کی اجازت دیتا ہے تو ہم کون ہیں اس سے انکار کرنے والے۔ قانون بنانے والے ادارے اس وقت خاموش کیوں نظر
آتے ہیں ؟ جب عورت کے حقوق کو روندا جا رہا ہوتا ہے۔ کیا کھوکھلے قانون بنا دینے سے عورت کو “آزادی رائے” کا حق مل جاتا ہے؟ کیا
خواتین کے لیئے ایک دن سیلیبریٹ کر کے ان کو ان کی مرضی کے مطابق جینے کا حق دیا جا سکتا ہے؟ تنظیمیں اور ادارے قائم کرنے سے عورتوں
سے زیادتی اور تیزاب پھیکنے جیسے واقعات پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکا؟ کیا آج بھی عورت عزت کے نام پر قربان نہیں ہو رہی؟
تو پھر ہم سب صرف 8 مارچ کا دن عورت کے نام کر کے خاموش کیوں ہو گئے۔ بجائے اس کے کہ ہم اس دن کے لئے سیمینار منعقد کروائے
بلکہ ان علاقوں میں جا کر عورت کی افادیت پر پروگرام کریں جہاں پر عورت جانور سے بد تر اپنی زندگی گزار رہی ہے، وہاں پر جا کر عورتوں میں
حالات سے مقابلہ کرنے کی تربیت دیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ” جرگہ سسٹم” کو ختم کر ے اور عورتوں کے لئے کئے جا نے والے فیصلے جو جرگہ سسٹم میں دیے جاتے ہیں ان کے خلاف
سخت قدم اٹھائے، تا کہ عورتوں کی قرآن سے شادیاں کر دینے جیسے واقعات نہ دہر ائے جائیں۔ عورت کے ساتھ نا انصافی کی دوسری وجہ اسلام
سے دوری بھی ہے اگر ملک میں مغربی قوانین کی بجائے اسلامی قوانین پر عمل پیرا ہواجائے تو اس فعل سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر جلد کسی عمل پر ٹھوس
اقدام نہ اٹھایا گیا تو عورت آج سے بھی زیادہ پست زندگی کی طرف چلی جائے گی۔

حصہ