یہ رہا دوپٹہ، کھینچ لیجیے……………………… رامش فاطمہ
وہ ہسپتال میں بطور نرس کام کرتی ہے، مسیحی برادری سے تعلق ہے، ہسپتال سے گھر جاتے وہ پردہ کرتی ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ بات نکالی کہ وہ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہے اس لیے ایسا کرتی ہے۔ جستجو نے تنگ کیا تو میں نے ڈرتے ڈرتے یہ ذاتی سا سوال کیا کہ اگر مناسب سمجھیں تو وجہ بتا دیں۔ پھر جو انہوں نے کہا وہ میری تسلی کیلیے کافی تھا۔ اسکی وجہ کوئی تعلیمات نہیں تھی لیکن وہ بد اعتمادی تھی جو اس معاشرے کی عطا کردہ تھی۔ لوگ پہچانتے ہیں تو تنگ کرتے ہیں باہر۔ سسٹر سسٹر اور اس قسم کی آوازیں لگاتے ہیں، نہیں برداشت ہوتا۔ ہسپتال تو چلیں کمانا ہے آپ کو بھی پتہ ہے ہم کتنا کچھ برداشت کرتے ہیں لیکن مجھ میں باہر لوگوں کو بھگتنے کی ہمت ختم ہو جاتی ہے۔ ہماری کمیونٹی والے تو پھر لحاظ کرتے ہیں کہ سب جانتے ہیں ایک دوسرے کو لیکن آپکے لوگ تو ہر جگہ تنگ کرتے ہیں۔ یہ آخری لیکن زوردار تمانچہ تھا جس نے مجھے خاموش ہونے پہ مجبور کر دیا کہ ہائے تعلیمات پہ خوش ہونے والوں تک یہ گفتگو پہنچائی جائے تو کیا ان کا بھی جی چاہے گا میری طرح کہ بس یہ زمین پھٹے اور اس میں سما جائیں۔
اس خاموشی میں ایک اور آواز گونجی، میڈم لوگ پہچان لیں تو تنگ کرتے ہیں باتیں بناتے ہیں، علاقے والے بھی اور یہ سڑکوں کے لوفر لوگ بھی۔ مجھے پڑھنے کا شوق ہے، مجبوراً مجھے چہرہ چھپانا پڑتا ہے۔ کبھی یہ دوپٹے کا رنگ بدلتی ہوں کبھی عبایا۔ کیا کریں گھر سے ہی اتنی باتیں سن کر نکلتے ہیں ہمت ختم ہو جاتی ہے باہر والی باتوں کی۔ بچنے کا یہی طریقہ ہے نہ کوئی پہچانے نہ بات ہو لیکن پھر بھی بچت کہاں ہوتی ہے بھلا۔ اس نے بس ایک سرد آہ بھری اور خاموش ہو گئی۔
لوگ باتیں کرتے ہیں، باتیں بناتے ہیں، پہچان لیں تو پریشان کرتے ہیں، آوازیں کستے ہیں، جملہ بازی معمول ہے۔ اپنے شعور، عقیدے اور ذوق کے مطابق مناسب لباس کی آزادی ہر فرد کا حق ہے لیکن معاشرے کے لوگ بہرحال یہ حق دینے پہ تیار نہیں ہیں۔
کسی نے کمانا ہے، کسی نے تعلیم حاصل کرنی ہے، سب اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہیں اور کسی نہ کسی طور اسکی گنجائش پیدا کر رہی ہیں۔ ایسے میں اکثر لوگ ’مادر پدر آزاد‘ معاشرہ بننے سے روکنے کی کوشش میں دن رات مگن ہیں۔ کبھی عورت کو سیپی میں بند موتی سے تشبیہہ دیتے ہیں تو کبھی کاغذ میں لپٹی ٹافی سے وہ اصل میں کتنے افسردہ ہوں جب انہیں یہ احساس ہو کہ بہت سی خواتین یہ اس لیے کر رہی ہیں کہ انہیں کسی الوہی روایت نے نہیں بلکہ معاشرے پہ ان کی بداعتمادی نے مجبور کر رکھا ہے۔ یہ ایک عورت کا کھلم کھلا اظہار ہے کہ لوگ پہچانتے ہیں تو تنگ کرتے ہیں اس لیے میں اپنی مرضی کے برخلاف ایسا کرتی ہوں تاکہ ان سے بچی رہوں۔ اور کیا بچت ہو جاتی ہے؟ اب میں اس کا جواب نہیں دے رہی اتنی تو ہر ذی شعور شخص کی عقل بھی کام کرتی ہو گی۔
ارے نہیں صاحب! یہ کہانی میری نہیں ہے، یہ ان کی ہے جو آپکے خیال میں آپ کی روایات کی پاسداری کر رہی ہیں۔ ناگوار ہی گزرے گی بات لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ روایات کے نام پہ جبر کرتے ہیں۔ حضرت اوریا نے تازہ پروگرام میں خواتین کو جلسے میں جانے سے روکنے کی حمایت کی کہ عورت کا کام گھر سنبھالنا ہے بچے کو دودھ پلانا ہے، مخلوط اجتماع کی اجازت نہیں اور پھر اویس صاحب کے سوال پہ برہم بھی ہو گئے۔ جناب نعیم الحق اور عزت مآب رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ یہ لباس کا انتخاب ہے جو فروغ دیتا ہے بد نظری و بد عملی کو۔ بھلا ایسا لباس بھی کوئی پہنتا ہے۔ میں کچھ نہیں کہتی بس اتنا پوچھتی ہوں یہ آئے روز جو پانچ چھ سالہ، دس سالہ بچیوں سے زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں تو آخر ایک کم سن کا لباس بھی ایسا کیا نامناسب ہو گا جو دعوتِ گناہ دے رہا ہے؟ اگر برا منائے بغیر وضاحت کر دیں اور لباس بتا دیں تو آسانی ہو جائے گی کہ پھر ہم خود کو محفوظ رکھ پائیں گے۔ اوریا صاحب سے ظاہر ہے ہم سوال نہیں کرتے کہ انہوں نے تو صاف کہہ دیا جس کی شادی نہیں ہوئی وہ شادی کی تیاری کرے اور جو شادی شدہ ہیں وہ بچے سنبھالیں کہ آخر سیاست مرد کا کام ہے۔ افسوس کہ فاطمہ جناح، رعنا لیاقت اور بیگم شاہنواز حیات نہیں ورنہ اوریا صاحب پہ کیا گزرتی، نعیم الحق اور رانا ثناء اللہ انکے لباس کے انتخاب پہ شکوہ کناں رہتے، اور جلسے جلوس میں ان کی شرکت پہ پابندی لگ جاتی۔
تحریکِ انصاف کے سات مئی ۲۰۱۳ کے جلسے میں کچھ لوگ ہمیں دیکھ کر بھی بےقابو ہوگئے کہ شاید انہیں زندگی میں پہلی بار عورت نامی جانور دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس سے پہلے کہ ہمارا ہاتھ اٹھتا کچھ رضاکار آ کے بیچ میں کھڑے ہو گئے اور آخر تک وہاں موجود رہے کہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔ لیکن کیا ایسا صرف تحریکِ انصاف کے جلسوں میں ہوتا ہے؟ رکیے رکیے یہ جو اوپر کچھ خواتین کے اور ہمارے ذاتی تجربات ہیں ان کی روشنی میں تو ہمیں یہی دکھائی دیا کہ ایسا تو ہر گلی کوچے میں ہوتا ہے۔ کوئی دوپٹہ کھینچے، کوئی کندھے ٹکرائے، کوئی جملے کسے، یہ تو صاحب اس معاشرے میں گھر سے باہر آنے کی قیمت ہے جو ہر عورت کو ادا پڑتی ہے۔ عورتیں ہیں کہ پھر بھی باز نہیں آتی۔ نہ تعلیم حاصل کرنے سے رکتی ہیں، نہ جلسے جلوس میں جانے سے، نہ بازار جانے سے۔
ایسے میں آپ کا کام کیا ہے؟ اگر تو آپ ایک وحشی درندے ہیں جو عورت دیکھتے ہی بے قابو ہو جائیں تو پھر یہ ہم نہیں بلکہ آپ ہیں جسے قید کرنا چاہیے اور آپکے دماغ کے فتور کو درست کرنے کی ترکیب درکار ہے۔ لیکن اگر آپ انسان ہیں تو صاحب آپ سے گزارش ہے اس دنیا پہ ہمارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا آپ کا ہے، عورت کو لباس سے لے کر طرزِ زندگی تک آپ کی رائے درکار نہیں ہے، اسے خود فیصلہ کرنے دیں اس نے گھر میں رہنا ہے یا باہر نکلنا ہے۔ سیاست ہو یا معاشرت عورت کے بغیر سب نامکمل ہے۔ آپ آخر ہوتے کون ہیں کسی کے لباس، اسکے انتخاب، اسکے طرزِ زندگی پہ فیصلہ سنانے والے؟
آپ انسان بن کے رہیں اور اپنے جذبات کو لگام دیں ورنہ ہماری جیسی بے لگام زبانیں یونہی بولتی رہیں گی کہ صاحب جو گھر سے باہر آئے، دفتر جائے یا جلسے میں، اسکول کالج جائے یا بازار اسے دیکھ کر اپنے اوپر قابو رکھیں اور یہ ذرا اپنے ساتھ بیٹھے صاحب سے کہیں کہ بس اب نظرِ کرم بہت ہوئی کسی اور طرف بھی نگاہ کر لیں۔ کیا ساری اخلاقیات خواتین کو سکھائی جائیں گی ؟ کچھ آپ بھی سیکھ لیں۔
آپ اس بات کو آج تسلیم کر لیں تو اچھا ہے کہ فرد کی آزادی ایک حقیقت ہے، فیصلہ اسی عورت کو کرنے دیں کہ وہ کیسے جینا چاہتی ہے، کیا اوڑھنا پہننا چاہتی ہے،ویسے اگر نہ بھی کریں تو ہم کونسا اختلاف پہ گولی مار دیں گے۔
آپ عمران خان ہیں، خواتین آپکے جلسے میں آتی ہیں، آپکو ووٹ دینے والوں میں ہم بھی شامل ہیں، تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ چلیں کم از کم یہاں تو کچھ نامناسب نہ ہو، اگر ہو رہا ہے تو اس کا حل بہتر انتظامات میں ہے خواتین کو روکنے میں نہیں۔
آپ عمران شاہ ہیں، آپکے دفتر میں چار خواتین کام کرتی ہیں، انکے
لیے مناسب ماحول کی فراہمی آپ کی ذمہ داری ہے۔
آپ عمران قریشی ہیں، آپ کے تعلیمی ادارے میں کسی لڑکی کے ساتھ بد تہذیبی ہو تو اس کی فریاد سننا اور مجرم کو سزا دینا آپ کی ذمہ داری ہے کہ آئندہ ایسے کام نہ ہوں۔
لیکن اگر آپ عمران لوفر ہیں تو چلیں یہ رہا دوپٹہ۔ ۔ ۔ ۔ کھینچ لیجیے۔

حصہ