مجھے گیم لینی ہے
تحریر: حافظ عمر زبیر
دنیا میں بنی نوع انسان نے جتنی بھی ترقی کی ہے۔ تعلیم کی وجہ سے کی ہے اور اسی وجہ سے آجکل ہرشخص تعلیم کی اہمیت و افادیت سے واقف ہی نہیں بلکہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم فرض عین سمجھتا ہے اور اس کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ ہماری دکان سٹوڈنٹس کارنر رجسٹر ،کاپیو ں اور سٹیشنری پر مشتمل نزد انڈر پاس بلوخیل روڈ میانوالی پر واقع ہے اور یہاں طالب علم ہی نہیں آتے ۔بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلقہ لوگ تشر یف لاتے ہیں۔
کل ایک صاحب اپنے بچوں کے ہمراہ ہماری دکان پر آئے اور مختلف قسم کی سٹیشنری کی خریداری کی۔اسی دوران ان صاحب کے ساتھ جو بچہ تھا۔ اسکی نظر ایک مربع شکل گیم پر پڑی تو بچے نے دیکھتے ہی ضد شروع کر دی کہ بابا مجھے یہ گیم لینی ہے تو صاحب بولے۔۔۔۔ بیٹا! یہ دن آپ کے کھیلنے کے نہیں پڑھنے کے ہیں۔ آپ کو پتا بھی ہے کہ آپ کے بورڈ کے امتحان نزدیک ہیں بیٹا جب امتحان ختم ہو جائیں گے۔اس کے بعد جو جی چاہے گیم خریدنا اور جی بھر کر کھیلنا۔
ان صاحب کی بات سنتے ہی میر ی طبیعت بے چین ہو گئی اور دل بارباریہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ خدایا ان بچوں کا کیا ہو گا۔ جو بچپن میں پڑھنا بھی چاہتے ہیں اور کھیلناکو دنا بھی اور دل میں بڑے بڑے خواب بھی سموئے رکھتے ہیں کہ بڑے ہو کر ڈاکٹر،انجینئر،پروفیسر،وکیل ،جج اور آرمی آفیسربنناچاہتے ہیں۔لیکن آج غربت ،بے روزگاری اور بے بسی کی وجہ سے سکولوں کالجوں میں جانے کے بجائے ہوٹلوں،ٹائرورکشاپوں ،فیکٹریوں ،بھٹیوں اور فٹ پاتھ پر آلو پیاز کی ریڑھی لگا کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
وہ بچے میلے کچیلے اور گندے کپڑے پہن کر ہر روز صبح جب کام کو جارہے ہوتے ہیں تو راستے میں صاف ستھری یونیفارم اور ٹائی کو ٹ پہنے بچوں کو دیکھ کردل ہی دل میں سوچتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی والدین انہی بچوں کی طرح اچھی یونیفارم پہنا کر سکول بھیجتے۔ لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ ان کے گھر کے مالی حالات بہت ابتر ہیں اور یہ بچے جہاں کام کرتے ہیں اکثر ان کو وہاں کے مالکان بُرے بُرے القاب سے مخاطب کرتے ہیں جیسے کالو،چھوٹو، موٹی ناک والے، ٹیڈی، الوکے بچے، موٹو وغیرہ اور تھوڑی سی غلطی یا کوتاہی پر ان پھولو ں کو منہ پر تھپڑ مارنا اور گالی دینا معمولی بات سمجھتے ہیں۔ خدا جانے اور کیا کیا ان پر ظلم کے پہاڑ گرائے جاتے ہیں۔
مجھے پچھلے ماہ اماں کے ساتھ CMHراولپنڈی جانے کا موقع ملا اور راولپنڈی پشاور روڈ پر واقع کائنات ٹریولز کے نزدیک ہوٹل میں ہم چائے پینے کے لیے رکے تو ہمارا استقبال ایک چھوٹے سے بچے نے کیا جس کی عمر دس بارہ سال سے زیادہ نہ تھی میں نے اس بچے سے پوچھا کہ تم پڑھتے نہیں ہو آپ کی عمر کے بچے تو سکول جاتے ہیں میرا یہ سوال کرناتھا کہ اس بچے کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ میں نے کہا کیا ہوا تو اس نے روتے ہوئے بتایا کہ میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھااور ایک بڑا افسر بننا چاہتا تھا لیکن بدقسمتی سے دو سال قبل میرے والد فوت ہو گئے اور ہم تین بہن بھائی یتیم رہ گئے اور کوئی کمانے والا نہ تھا۔امی بھی دل کی مریضہ ہے۔ گھر میں بڑا میں تھا اور مجھے مجبورًا سکول کی پڑھائی کو ترک کرنا پڑا اور یہ کام کر رہا ہوں۔
پیارے دوستو! یہ ان ہزاروں بلکہ لاکھوں بچوں میں سے ایک بچے کا واقعہ ہے جو اپنا اور اپنے گھروالوں کا پیٹ بھرنے کے لیے اپنے خوابوں کو بھلا کر سارا دن ہو ٹل پر محنت مزدوری کرتا ہے۔
خاص طور پر میری ان بچوں سے ہمدردانہ اپیل ہے کہ آپ سکول جاتے ہیں تو اس کو اللہ پاک کی طرف سے خصوصی کرم نوازی سمجھیں اور موقع غنیمت جان کر پوری دلچسپی اور لگن سے کام کریں کیونکہ آپ کے والدین آپ کو پڑھانے کے لیے خود محنت کرتے ہیں اور سستے اور پھٹے پرانے کپڑے پہن کر آپ کے لیے اچھے کپڑوں ،کتابوں اور اشیائے خوردونوش کا انتظام کرتے ہیں۔ گرمی سردی سے بچاتے ہیں۔
آپ کو چاہیے کہ ہوٹلو ں، دکانوں، ٹائر ورکشاپوں میں کام کرنے والے بچوں کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھیں ان کو بُرا بھلا نہ کہیں اورہو سکے تو مستقبل میں ایسے بچوں کا سہارا بننے کی کوشش کریں تاکہ اس دھرتی میں تعلیم جیسا بنیادی حق ہر بچے کو ملے اور وہ ایک اچھا انسان بن کر زندگی بسر کریں۔

حصہ