سماجیات

رامش فاطمہ کی خوبصورت اور عمدہ تحریر "لنڈے کے لبرل مردہ باد "

لنڈے کے لبرل مردہ باد!
الٹراساؤنڈ کرنے لگی ہو؟ بتاو نا لڑکی ہے یا لڑکا؟ مریض کے ساتھ بیٹھی خاتون نے یہ سوال کیئے تو ہمیں یاد آیا لوگ کہتے ہیں ڈاکٹر بےحس ہوتے ہیں ورنہ اس ڈاکٹر کی سب حسیات جاگ اٹھیں تھیں کہ ایک جواب دینا بنتا ہے۔ میں نے اپنے تمام تر غصے پہ قابو پایا اور انہیں جواب دیا کہ معذرت ہم ایسے سوالوں کے جواب نہیں دیتے۔
حالانکہ میرا جی چاہا تھا ان سے پوچھ لوں پہلے بچے کی باری ہی کیا ضرورت پیش آ گئی؟ یا پھر یہ جو سامنے کھڑی ہے اس میں ایسی کون سی کمی ہے جو آپ کو ایسا سوال پوچھنا ہے۔ یہاں عام طور پہ لوگ الٹراساؤنڈ کرانے آئیں تو ان کے لیئے یہ اہم نہیں ہوتا کہ بچہ صحت مند ہے یا نہیں، اہم یہ ہوتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی؟ لڑکی کا سن کر کیا تاثرات ہوتے ہیں؟ چلیں سن لیجیئے۔ چلو جو اللہ دی مرضی، کوئی نہیں اگلی بار سہی، اور کچھ تو ان سب سے آگے بڑھ کر اس جان کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس سے جینے کا حق چھین لیتے ہیں۔ تو ایسی بکواس کی وجہ سے بہت سی ڈاکٹرز نہیں بتاتی کہ لڑکا ہے یا لڑکی۔۔
اس تمہید کا مقصد کیا تھا؟ کیا ہو سکتا ہے؟ کبھی غیرت کے نام پہ قتل ہو رہے ہیں، کبھی ونی، کبھی کاری، کبھی جرگے کے فیصلے پہ کسی کو جلا دینا یا کسی کے ساتھ زیادتی فرمانا۔ ان کار پہ تیزاب پھینک دینا، ظلم کرنا، مار پیٹ کرنا، روایات کے نام پہ جینے کا حق چھین لینا، جی بالکل ان سب واقعات سے ملک بدنام نہیں ہوتا۔ ملک بدنام ہوتا ہے جب ان واقعات پہ کوئی ڈاکیومینٹری بنائی جائے، جب ان کے خلاف آواز اٹھائی جائے ، بےوقوفوں کی طرح چوک پہ کھڑے ہو کے چار موم بتیاں جلا کر احتجاج ریکارڈ کرایا جائے اور موم بتی مافیا کا خطاب حاصل کیا جائے۔ مساوات اور انصاف کا نعرہ لگا کر لنڈے کے لبرل بن جائیں، شخصی آزادی کا پرچار کریں اور مغرب کے آلہ کار بن جائیں، فرد کی آزادی کو تسلیم کرنے کی بات کریں تاکہ آپ دیسی لبرل کہلائے جائیں ۔
تحفظِ حقوقِ نسواں بل کو خاندانی نظام کے خلاف سازش قرار دیا گیا، مذہبی جماعتوں نے پرزور مخالفت کی۔ ایسے ایسے دانشورانہ نکتے پیش کیئے گئے کہ دانش بھی سر پکڑے ایک طرف حیران بیٹھی رہی کہ آخر ایسی باتیں یہ لوگ سوچ کیسے لیتے ہیں۔ غیرت کے نام پہ قتل کی مذمت نہیں ہوتی ایسے لوگوں سے مگر حقوق نسواں بل کی مخالفت یہ بڑے آرام سے کر لیتے ہیں۔ کہیں مذہب کہیں روایات اور کہیں ان دونوں کے اشتراک سے یہ لوگ کوئی نہ کوئی بات نکالتے ہیں تاکہ اپنی اجارہ داری قائم رکھ سکیں لیکن جھوٹے منہ دو بول مذمت کے نہیں نکلتے ان کے منہ سے۔
جلا رہے ہیں، تیزاب پھینک رہے ہیں ، قتل کر رہے ہیں، جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں، ونی، کاری یعنی جو آپ کے جی میں آئے آپ کرتے رہیں ۔ یہاں کوئی آپ کو روکنے والا ہے؟ کوئی پوچھنے والا ہے؟ قانون ہے اور ایسے الجھاؤ ہیں کہ ملزم بچ نکلے مگر سزا نہ ہونے پائے، ویسے یہ بھی دور کی بات ہے کہ بچ نکلے۔اول تو ظلم کا شکار خواتین کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے خاندان کی طرف سے دباؤ کا شکار ہوتی ہیں اور خاندان پہ ہر جگہ بااثر افراد کا دباو ہوتا ہے پھر بھی اگر کوئی سماج سے ٹکر لینے کا فیصلہ کرے تو انصاف کے حصول کی خاطر در در بھٹکتا رہے۔
لیکن یہ آپ کے پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔ آپ فکر مت کریں کہ ہم مر گئے ہیں کیا؟ یہ جس لڑکی نے رشتے سے انکار کیا ہے اس پہ تیزاب پھینک دیں ، جس کو دیکھ کر آپ کی ہوس قابو میں نہ رہے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالیں، اگر آپ بھائی ہیں تو بےفکر ہو جائیں اور اپنی بہن کو غیرت کے نام پہ قتل کر دیں کہ کل کو والدین بیٹے کو معاف ہی کرتے ہیں، اگر آپ شوہر ہیں تو چلیں شاباش اٹھیں اور دو جھانپڑ رسید کریں اس عورت کو جسے دنیا آپ کی بیوی کہتی ہے ۔ باہر سڑک پہ راہ چلتی لڑکیوں کے دوپٹے کھینچیں، کندھے ٹکرائیں اور ہمیں شانہ بشانہ کا یہ گھٹیا مطلب سمجھائیں، کسی رشتے کی حرمت کا خیال کئے بغیر اپنے سسرال میں موجود خواتین کو اپنے حرم کا حصہ سمجھیں، جہاں کہیں عورت آپ کی ملازم ہو ذومعنی جملوں سے اسے ذہنی اذیت میں مبتلا رکھیں، اپنی بیٹی کو بتائیں کہ ساری دنیا کی عزت اور غیرت کا بوجھ اس کے کندھوں پہ ہے، اور جب آپ یہ سب کر لیں تو تشریف لائیں اور سوشل میڈیا پہ مذہبی روایات اور معاشرتی اقدار کے حق میں نعرے بلند کریں، ارے ہاں یہ لکھنا مت بھولیئے گا لنڈے کے لبرل مردہ باد!
اور اگر آپ کا تعلق ان لوگوں میں سے نہیں تو بخدا نایاب نہ بھی ہوں، آپ کمیاب ہیں۔

Back to top button