سو سال پہلے علامہ اقبال نے اپنے لیکچر Reconstruction Religoin Theory Of Islam میں کہا تھا کہ ” مسلمانوں نے پانچ سو سال سے سوچنا بند کردیا ہے ۔ ”
اور اب جو سوچتا ہے فتوؤں کی زد میں آجاتا ۔ دراصل ہم لکیر کے فقیر بن چکے ہیں اگر ایک صاحب علم نے دین کی کوئی اصطلاح بیان کی ہے تو کیا ہم نے اپنے طور پر اس پر غورو فکر کیا؟ آیا ان کی بیان کردہ اصطلاح درست بھی ہے یا نہیں اسکی تحقیق بھی کی کیا۔۔۔ !!!

مالکِ کائنات نے نوعِ انسانی کو ایک عظیم شرف بخشا اسے خلافت عرضی عطا کر کے ۔ حضرت آدم جو مسجود ملائکہ ٹھہرے تو کیا فرق تھا جس بنا پر فرشتوں کی جبیںِ نیاز ایک بشر کے آگے جھکا دی گئیں۔۔۔ !
بلا شبہ وہ فرق صاحب عقل و شعور ہونا ہی تھا جس بنا پر حضرت انسان کو الله رب العزت نے اپنا قرب عطا کیا اسے اس قابل سمجھا کے اسے اس زمیں پر اپنا نائب چنا جائے جس پر ملائکہ نے یہ اعتراض اٹھایا جسے قرآن عظیم الشان میں یوں بیان کیا گیا
’’ پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ‘‘۔ انہوں نے عرض کیا: ’’کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا؟ آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں ‘‘۔ فرمایا: ’’میں جانتا ہوں ، جو کچھ تم نہیں جانتے‘‘۔ (البقرۃ۔۔۔ ۳۴)
الله کا یہ فرمانا بیشک حکمت ہی کے تحت تھا اور الله کی نگاہ غیب حضرت انسان کے اس زمین پر رہتے ہوئے قرب کی وہ منزلیں طے کرتا دیکھ رہی تھیں جن کا ملائک تصور بھی نا کر سکے ۔
یونہی تو نہی فرمایا علامہ اقبال نے
“سبق ملا معراج مصطفی سے یہ
عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں”
باری تعالیٰ نے انسان کو ذہنی غلامی سے نجات دیتے ہوئے دعوت فکر دی ہے فرمایا
’’اور اسی نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے، اور زمین میں ہر ایک پھل دو قسم کا بنایا، دن کو رات سے چھپا دیتا ہے، بے شک اس میں سوچنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔’’ (الرد۔۔۔ ٣)
’’اس طرح ہم نشانیوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے سامنے جو غور کرتے ہیں۔ ’’(یونس ٢٤)
کیا ہی لطیف اور پیارے انداز میں الله نے انسان کو غور فکر کرنے کی دعوت دی ہے ۔ الله رب العزت بحیثیت خالق کائنات کوئی بھی حکم صادر کردے اسے پوچھ کون سکتا ہے لیکن اپنے احکام کو مسلط کرنے کے بجائے اپنی شان رحمت کے سبب انسان کو خود ہی سوچنے کی تحریک دی کہیں ’’افلا تتفکرون ’’ کی ندا بلند کی تو کہیں ’’افلا یتدبرون القرآن’’ کی تو کہیں فرمایا افلا تعقلون ۔ ۔ !
اسی مناسبت سے کیا خوب ارشاد فرمایا زیب النسا مرحومہ نے
‘در سخن مخفی چو بوئے گل برگ گل ‘
‘ہر کے دیدن میل دار دور سخن بیند مرا’
(میں اپنے کلام میں اس طرح چھپی ھوئی ہوں جسے پھول کی خوشبو اسکی پتی میں جو بھی مجھے دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے مجھے مرے کلام میں دیکھ لے)
خیر یہ تو ایک الگ بات تھی اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مدعا یہ تھا ہم نے کیا تفکر کیا اپنے دین میں احکامات میں مسائل میں سب سے بڑھ کر اس قرآن میں جو بار بار پکارتا رہا مجھ میں فکر کرو غور کرو ۔
اپنے دین اپنے عقائد اپنے خیالات کی بنیاد ہم نے دوسروں کی تحقیق کو رکھا چاہے وہ کوئی بھی ہو اور جو یہ جسارت کرے غور فکر کے میدان میں کسی سے اختلاف کرنے کی اسے ہی سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
ہماری بدنصیبی یہ ہے گھر کا فرنیچر خریدتے وقت تو ہزار طرح کا بھاؤ تول کرتے ہیں لیکن اپنے افکار اور نظریات کی بنیاد دوسروں کی تحقیق کی بنا پر رکھتے ہیں ۔
ایسا کیوں ہے کیا ہم اپنے نظریات اور اپنے ایمان کو اتنا سستا سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔؟
شاید یہی وجہ ہے معاشرہ میں عدم توازن کی ہمارے اور ہمارے اور دین میں دوری کی وجہ عبادات کا نا ہونا نہی بلکہ معرفت اور غورو فکر کا نا ہونا ہے ۔
آج نماز تو ہے لیکن حیا نہیں روزہ تو ہے لیکن احساس نہیں دعائیں تو ہیں لیکن مانگنے کا سلیقہ نہیں ۔
یہاں پر بات سمیٹوں گا کے ہم میں سے اکثریت By birth Muslim ہے جس دن ہم By choice Muslim بن جائیں گے یا کم ازکم بننے کی کوشش شروع کر دیں اسی دن ہمارے اور ہمارے خدا کے درمیان حائل پردے ہٹتے چلے جائیں گے جو کے قرآن عظیم الشان اور حدیث مبارکہ میں غور و فکر سے ہی ہونا ممکن ہے ۔

از قلم: محمد غفران حسین

حصہ