حقیقت سے پردہ اٹھ گیا،کینسر بیماری نہیں بلکہ ایک کاروبارہے
(مترجم:آصف اللہ خان)
شاید یہ سن کر آپ کو یقین نہ آئے کہ لفظ کینسر ایک جھوٹ ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک کاروبار ہے۔ کینسر صرف وٹامن بی 17 کی کمی کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔کینسر دنیا بھرمیں پھیلا ہوا ایک موذی مرض ہے اور اس میں بوڑھے،جوان،بچے حتی کہ ہر عمر اور طبقہ کے لوگ متاثر ہیں۔اس حیران کن حقیقت کو شائع کرنے سے دنیا بھر کے دھوکے بازوں کے چہروں سے نقاب اتر جائیں گے اور وہ دنیا کے سامنے ظاہر ہوجائیں گے۔کیا آپ کو پتہ ہے کہ ایک کتاب جس کا نام’’کینسر کے بغیر دنیا‘‘ کو اب تک بہت سی زبانوں میں ترجمہ کرنے سے روک دیاگیا ہے۔
یہ جانیے کہ دنیا میں کینسر نامی کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ صرف وٹامن بی 17 کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
کیمیو تھراپی،سرجری اور شدید منفی اثرات رکھنے والے دوائیوں سے بچئے۔
آپ کو یاد پرے گا کہ ماضی میں انسانوں خاص کر ملاحوں کی ایک بڑی تعداد کو ایک مشہور بیماری سکروی کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اور کافی لوگوں نے اس سے ڈھیر سارا پیسہ کمایا۔آخر میں یہ دریافت ہوا کہ سکروی صرف وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔
کینسر بھی بالکل اسی طرح ہے۔نوآبادیاتی دنیا اور انسانیت کے دشمنوں نے کینسر پیدا کیا ہے اور اس کو ایک کاروبار بنایاجس سے وہ اربوں روپے کماتے ہیں۔
کینسر کی انڈسٹری نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی کی کینسر کا مقابلہ کرنے کیلئے اتنی تاخیر،تفصیلات اور خرچوں کی ضرورت نہیں۔یہ صرف نوآباد کاروں کی جیبیں بھرنے کیلئے ہورہا ہے حالانکہ اس کا علاج بہت پہلے دریافت ہوچکا ہے۔
مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کرکے کینسر سے بچاؤ اور اس کا علاج کیا جاسکتا ہے۔
وہ افراد جن کو کینسر لاحق ہے کو گھبرائے بغیریہ جاننا چاہئے کہ دراصل کینسر ہے کیا اور پھر اس کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی چاہیے۔
کیا آج کل کوئی بھی سکروی کی بیماری سے ہلاک ہوتا ہے؟ نہیں! کیونکہ اس کا علاج ہوجاتا ہے۔
چونکہ کینسر وٹامن بی 17 کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے لہذا روزانہ پندرہ سے بیس ٹکڑے خوبانی کے بیج کھانا اس مسئلے کے حل کیلئے کافی ہے۔
گندم کی کلی کھائیے کیونکہ یہ کینسر کے خلاف ایک معجزاتی دوا ہے۔ یہ مادہ آکسیجن اور کینسر کے خلاف سب سے طاقتور مادہ Iaetrile کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ یہ سیب کے بیج میں بھی پایا جاتا ہے اور وٹامن بی 17کی Extracted حالت ہے۔
امریکی دوا ساز کمپنیوں نے ایک قانون نافذ کرنا شروع کیا ہے جس میں Iaetrile کی پیداوار پر پابندی ہے۔یہ دوائی میکسیکو میں تیار ہوتی ہے اور امریکہ میں سمگل ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ہیرالڈ ڈبل یومینرنے اپنی کتاب’’کینسر کی موت‘‘ میں کہا ہے کہ Laetrile سے کینسر کے علاج کے امکانات نوے فیصدسے بھی زیادہ ہے۔
وٹامن بی 17 کے حصول کے ذرائع
وہ غذائیں جن میں وٹامن بی 17 پایا جاتا ہے مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ گٹھلی دار پھل یا میوہ جات کے بیج۔ان میں وٹامن بی 17 سب سے زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سیب۔خوبانی۔ناشپاتی اور آلوبخارا کے گٹھلی دار پھل شامل ہیں۔
2۔عام پھلیاں،مکئی(اناج) جن میں لوبیا ، دال بڈ،لیماں کی پھلیاں(لوبیا کی ایک قسم) اور مٹر شامل ہیں۔
3۔اناج کے دانے جن میں کڑوا بادام اورہندوستانی بادام شامل ہیں۔
4۔شہتوت،تقریباً تمام شہتوت جن میں کالاشہتوت،نیلاشہتوت،رس بھری اور اسٹرابری شامل ہیں۔
5۔بیج یا تخم ،تل کے بیج اور السی کے بیج۔
6۔جئی۔جو۔باسمتی چاول کاگچ۔بلاک گندم۔السی۔جوار اور رائی کا گچ
7۔خوبانی کے بیج۔کشیدہ کیے گئے خمیر۔کھیتوں سے لیا گیا چاول اور میٹھا گوشت کدو۔
کینسر کے خلاف مؤثر غذاؤں کی فہرست
* خوبانی(بیج)* دوسرے پھلوں کے بیج جیسا کہ سیب،ناشپاتی،آلوبخارا،چیری اور آڑو۔* لیما کی پھلیاں* فیوا کی پھلیاں* گندم کی فصل
* بادام* رس بھری* ایلڈر بیری* بلو بیری* جامن* اناج* سرغو* جو* باجرہ* کاجو* میکیڈیمیا
(آسٹریلیاکا ایک میوہ)* پھلیاں
یہ سب وافر مقدار میں جسم میں ہونے والی وٹامن بی17 کے ذرائع ہیں۔
برتن دھونے اور ہاتھ دھونے والے مائع کا جسم کے اندر داخل ہونا کینسر کی ایک اہم وجہ ہے لہذا اس کو جسم کے اندر لے جانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ آپ یقینی طور پر اب یہ کہیں گے کہ ہم ان مادوں کو جسم کے اندر نہیں داخل ہونے دیتے۔لیکن جب آپ ان مادوں سے ہاتھ دھوتے ہیں یا برتن دھوتے ہیں تو ان کا کچھ حصہ ہاتھوں یا برتن میں جذب ہوجاتا ہے۔اور پھر جب آپ برتن میں گرم کھانا ڈالتے ہیں تو یہ کھانے میں جذب ہوکر آپ کے جسم میں داخل ہوجاتی ہے۔اگر آپ برتن کو سو مرتبہ بھی دھوکر صاف کریں پھر بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
لیکن اس کا بہت آسان حل ہے اور وہ یہ ہے کہ ہاتھ یا برتن دھوتے وقت آدھا ہاتھ دھونے والا اور برتن دھونے والا مادہ ڈال کر اس کے اوپر سرکہ چھڑکیں۔اس طرح آپ کینسر کا باعث بننے والے زہریلے مواد کھانے سے بچ جائیں گے۔اور اسی طرح سبزیوں اور میوہ جات کو برتن دھونے والے مادوں سے ہر گز نہ دھوئیں کیونکہ یہ فوراً ان کے اندر تک چلے جاتے ہیں اور پھر کسی بھی طریقے سے باہر نہیں نکلتے۔اس کا آسان حل یہ ہے کہ سبزیوں اور پھلوں کو نمک سے گیلا کرکے پانی سے صاف کریں اور پھر تازہ رکھنے کیلئے اوپر سرکہ چھڑکیں۔
آپ کی ایک چھوٹی سے کاوش یقیناًکئی زندگیوں کو کینسر کے موذی مرض سے بچا سکتی ہے۔ لہذا اِس کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تاکہ اور لوگوں کا بھی بھلا ہوجائے۔

حصہ