یہ 80 کے عشرےکی بات کہ کرکٹ کے افق پر اپنی پوری آب و تاب سے ایک ستارہ جگمگا رہا تھا ۔
برصغیر پاک و ہند میں مقبول ترین ہیرو
(پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی تنازعات کے باوجود وہ دونوں ممالک میں یکساں مقبولیت رکھتا تھا )
جب وہ کرکٹ کے میدان میں اپنی نپی تلی گیند بازی کرنےکے لئے لمبے لمبے ڈک بھرتا ہوا دوڑتا تو اسکے ماتھے پر لہراتے بال ٹیلی ویژن اور میدان میں بیٹھی کئی حسیناوں کے دلوں پر تیروں کے مافق وار کرتے ۔
میدان کرکٹ میں اسکے بلند و بالا چھکے ہزاروں دلوں کو گرماتے ۔
اس دور میں جب جزائر غرب الہند (ویسٹ انڈیز ) کرکٹ کے میدانوں کے بے تاج بادشاہ تھے اس وقت انکے مقابلے میں جا کر کھیلنا ہی بہادری سمجھا جاتا تھا
لیکن وہ کپتان اس دور میں بھی وہاں جا کر کھیلا اور اپنی ٹیم کو کھلایا اور ایسا کھلایا کہ عبرت ناک شکست کھانے کے بجائے باعزت طور پر سیریز برابر کرکے ناقدین کے منہ بند کر دیئے ۔
برطانیہ اور ہندوستان جو اپنے میدانوں پر حریفوں کو شرمناک شکست دینے میں یدطولی رکھتے تھے اس مرد میدان نے ان دونوں ممالک کی ٹیموں کو انہی کے میدانوں میں سیریز کی شکست دے کر اپنا لوہا منوایا ۔
کرکٹ کا میدان ہو یا فلمی دنیا کی گہما گہمی
یہ ستارہ ہر جگہ اپنے چاہنے والوں کو اپنی کرشماتی شخصیت کے سحر میں گرفتار کئے رکھتا تھا ۔
اپنے دور کی خوبصورت ترین بھارتی اداکارائیں اسکے لئے اپنا دل ہتھیلی پر لیئے رکھتی تھیں ۔
لاکھوں دلوں کی دھڑکن ریکھا ہو یا ساحرانہ ادائیں رکھنے والی زینت امان
یا برطانیہ کی حسین و جمیل اور امیر ترین گوریاں
سبھی حسینائیں اس کے ایک اشارہ ابرو کی غلام تھیں ۔
جہاں بھی جاتا لوگ دیدہ دل فرش راہ اسکا استقبال کرتے پائے جاتے ۔
جو یہ ایک بار پہنتا وہی وقت کا فیشن بنتا ۔
اسکے بالوں کا سٹائل نوجوانوں میں مقبول عام ہوتا ۔
اسکے بیٹھنے اٹھنے کا انداز حتکہ اسکے جوتے کو بھی نقل کیا جاتا ۔
جہاں بھی جاتا عالی شان پنج ستارہ ہوٹلوں میں اسکو وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ۔
اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ سبھی کا غیر متنازعہ ہیرو بہت سوں کی آنکھوں کو چبھنے لگا
کئی اسکی جان کے درپے ہو گئے
کئی اسکو ماں بہن کی گالیاں دینے پر اتر آئے
کئی اسکی کردار کشی پر اتر آئے
اور اسکی زاتیات کو تختہ مشق بنایا گیا ۔
اس پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ۔
یہ شخص جو مخمل کے بستر پر سوتا تھا اور اسکے گرد خادموں کی فوج ہوا کرتی تھی آج یہ پاکستان کے چپے چپے کے دورے کر رہا ہے
گرمیوں کی تپتی ہوئی تیز دھوپ اور اس پر پسینے میں نہایا ہوا یہ شخص عوام کے پاس جا کر انکی دلجوئی کر رہا ہے ۔
سخت کڑاکے کی سردیوں میں یہ شخص عوام کے حقوق کے لئے دھرنے دیتا پایا جاتا ہے ۔
آپ حیران ہونگے کہ اس شخص کو کیا پڑی کہ اتنی عالیشان ذندگی چھوڑ کر یوں چپے چپے کی خاک چھانتا یہ شخص اس مشقت میں کیوں پڑا ؟
آئیں میں بتاتا ہوں
ہوا کچھ یوں کہ اس شخص نے جب پاکستان کے لئے 1992 کا ورلڈ کپ جیتا تو اس نے اپنے وطن کے غریب اور کینسر کے موذی مرض میں مبتلا مفلوک الحال مریضوں کے لئے مفت علاج کی خاطر ایک ہسپتال بنانے کا ارادہ کیا
اور عوام کے اس پر اعتبار کی وجہ سے وہ ہسپتال اپنے پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ۔
اس شخص نے دیکھا کہ عوام اتنے سخی اور رحم دل ہیں کہ عطیات دینے میں پوری دنیا پر سبقت لے جاتے ہیں پھر یہ عوام ٹیکس کیوں نہیں دیتے ؟
اور اس پر یہ راز افشاء ہوا کہ عوام اس پر تو اعتماد کرتے ہیں
مگر کرپٹ لٹیرے اور بددیانت حکمرانوں پر اعتبار نہیں کرتے ۔
پھر اس شخص نے سیاست کے گٹر کو صاف کرنے کے لئے اپنی کمر کس لی اور پھر اس میدان میں اترا ۔
اور پھر وہ طبقہ جسے سٹیٹس کو کہا جاتا ہے اس نے اپنی زبانیں تیز کر لیں ۔
اس شخص پر وہ وہ الزامات لگائے کہ اسکے دشمن بھی حیران رہ گئے۔
وہ جو کل تک لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھا آج وہ کئی لوگوں کی آنکھوں کا کانٹا بن گیا ۔
اسکی وجہ صرف یہ کہ اس شخص نے کرپشن و بددیانتی کے خلاف آواز حق بلند کی تھی ۔
اس شخص کا قصور صرف یہی ہے کہ اس نے کہا ہے کہ حکمران اپنے اللے تللے ختم کرکے عوام پر انکے ٹیکس کی دی گئی رقم خرچ کریں ۔
اس شخص کا مطالبہ یہی ہے کہ سڑکیں ۔ میٹرو بسیں یا ٹرین ضرور چلائی جائے لیکن ان سے کمیشن نہ بنایا جائے
اور ان سب سے پہلے انسانوں پر رقم لگائی جائے جیسا کہ ہسپتال تعلیمی ادارے بنائے جائیں
تاکہ اس ملک کے بچے صحت مند ہوں اور پڑھ لکھ کر خود ہی سب کچھ بنائیں ۔
اس شخص کا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان کو بیرونی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے زرائع پر اختصار کرکے اپنے پاوں پر کھڑا ہونا چاہئے ۔
یہ شخص چاہتا ہے کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لئے یکساں انصاف ہو ۔
یہ چاہتا ہے کہ امیر اور غریب کے بچے ایک ہی سکول اور ایک ہی نظام تعلیم کے تحت علم حاصل کریں تاکہ امیر اور غریب کا طبقاتی نظام ختم ہو۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ ان غاصب حکمرانوں کی مسکین صورت بنا کر چکنی چپڑی باتوں کا شکار ایک بہت بڑا طبقہ ہوا ہے
وہ طبقہ جو جہالت کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
وہ طبقہ جس کی اکثریت ان پر مشتمل ہے جو ایک قیمے والے نان ، بریانی کی پلیٹ یا چند گز نالی پکی کروانے پر ہی اپنے قیمتی ووٹ کو بیچ دینے پر آمادہ ہوتے ہیں ۔
یہ شخص جو کل تک ہر آنکھ کا تارہ اور ایک شہزادے کی طرح زندگی بسر کرتا تھا ۔
آج اس کو یہودی خان ۔ طالبان خان ۔ زکوتہ خان اور جانے کن کن گھٹیا القبات سے اسکے کم ظرف مخالفین پکارتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہو اور اسلامی فلاحی ریاست کا قیام شرمندہ تعبیر ہو۔
اگر یہ شخص حصول اقتدار کا مارا ہوا ہوتا تو پرویز مشرف کی وزارت اعظمی کی پیشکش کو نہ ٹھکراتا
اس نے مشرف کو کہہ دیا تھا کہ اگر عوام کی مدد سے اقتدار ملا تو قبول کرونگا لیکن اس طرح چور دروازے سے اقتدار کا لالچ رکھنا میرے ظرف میں شامل نہیں ۔
آج یہ سخت گرمی میں پاکستان کے شہر شہر خوار ہو رہا ہے صرف اس ملک کے عوام کے حقوق کی خاطر ۔۔اور یہ شخص ہے عمران خان ۔
جی ہاں وہ عمران خان جو ایک صدی کا کرکٹ میں سب سے بہترین کپتان قرار پایا ہے ۔
اور ہم اسے پاکستان خان کہتے ہیں ۔
اور ہم اپنی آخری سانس تک اس جدجہد کا حصہ رہیں گے ۔
کیونکہ جدجہد کے لئے کوئی معینہ مدت مقرر نہیں ہے ۔
اس کے لئے خلوص دل اور صاف نیت چاہئے ۔
جب تک ہے جب تک اے خان ہم تیرے ساتھ ہیں

حصہ