درد کا سفیر سے انصاف کا سفیر تک
عیسیٰ خیل کے قبیلہ رب نواز خیل کے احمد خان نیازی کے گھر دو بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والا بچہ جو والدین کیلئے بے پناہ مسرتوں کا باعث بنا۔ تو والد نے رب ذوالجلال کی رحمتوں کے اظہار تشکر کیلئے اس کا نام عطاء اللہ خان رکھا۔ یعنی اللہ کی عطاء۔ اور شاید قدرت کو یہی اظہارتشکر پسند آگیا کہ اس بچے میں بے پناہ صلاحیتوں کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا۔ دلکش خوبصورت شخصیت ،اعلیٰ اخلاق،ذہانت ،جادو بھر پُر سوز آواز اور پھر ان اوصاف سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی صلاحیت اور اہلیت۔جو کسی بھی انسان کو درجۂ کمال تک پہنچانے کیلئے قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ اہم عنایت ہے۔ اور یہی صفت باکمال لوگوں اور عوام الناس میں فرق کرتی ہے۔ورنہ مختلف قسم کی خوبیاں تو ہر انسان میں ہوتی ہیں۔کیونکہ خالق اپنی تخلیق کو خوبیاں عطاکرنا خوب جانتا ہے۔یہ فرق اس لئے ہوتا ہے کہ کوئی کوئی ہی اللہ کی عطا کردہ خوبیوں سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پنجاب کے دور افتادہ پسماندہ ضلع کی آخری حدود پر واقع تحصیل عیسیٰ خیل میں جنم لینے والا یہ بچہ فن موسیقی میں صرف ضلع میانوالی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی پوری دنیا میں پہچان بنا اور خاص طور پر سرائیکی موسیقی کو نیا رنگ دے کرا س میدان کا بے تاج بادشاہ بنا اور درد کا سفیر کہلایا۔
1968ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔تو پارٹی کے خوش آئند منشور نے متوسط طبقہ کے نوجوانوں کو فی الفور متوجہ کیا اور روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے چار سو گونجنے لگے۔ میانوالی میں پارٹی کی مقبولیت بڑھتے بڑھتے عیسیٰ خیل تک پہنچی تو سب سے پہلے یہی نوجوان جو اس وقت عطاء اللہ شاہین کہلاتا تھا۔عیسیٰ خیل میں جئے بھٹوکا نعرہ لگایا۔اس وقت عطاء اللہ شاہین نے نوجوانوں کا ایک اچھا خاصا سرگرم گروہ منظم کرکے پارٹی کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کاکام شروع کردیا اور پارٹی کیلئے اس کی خدمات کے صلہ میں اس وقت اسے پارٹی کی صوبائی قیادت کی طرف سے ایک عدد سہراب سائیکل عطا ہوئی۔
اب یہ سفر اس دور میں ایک نئے انداز سے شروع ہوا چاہتا ہے۔کہ جب گذشتہ دنوں عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن میں ضلعی صدر کا الیکشن لڑنے کااعلان کیا۔اس اعلان نے بہت سے لوگوں کو حیران کردیا کہ کہاں گلوکاری اور کہاں سیاست،مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کا بڑا صائب فیصلہ ہے۔اور سیاست ان کیلئے کوئی نئی بات نہیں۔پہلے بھی وہ تھوڑی بہت سیاست کرتے رہے ہیں۔لیکن وہ سیاست کے منظر نامہ پر اس لئے نمایاں نہ ہوسکے کیونکہ ان کا اصل کل وقتی شعبہ موسیقی ہی تھا۔ جس سے انہوں نے کماحقہ انصاف کیا اور اپنا لوہا منوایا ۔عمران خان کے ساتھ ان کا تعلق ویسے بھی پرانا ہے۔کیونکہ شوکت خانم ہسپتال کی بنیادوں میں ان کا کردار بھی نمایا ں ہے۔ اور ہسپتال کیلئے چندہ مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جھولی پھیلاکر پیسہ پیسہ اکٹھا کیا۔اور اسی طرح تحریک انصاف میانوالی کے ایک ادنیٰ اور غریب کارکن محسن شہزاد کو کینسر کا مرض لاحق ہوا تو لالہ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے ان کے علاج کیلئے کئی امدادی شو کرکے ان کے علاج کی خاطر لاکھوں روپے اکٹھے کئے۔ اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان برملا اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ ایک قومی سطح کا گلوکار ہوتے ہوئے عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے میرا ہر جگہ ساتھ دیا ہے۔اکتوبر 2005ء کے ہولناک زلزلہ کے وقت بھی یہی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی ہی تھا جس نے پوری ملک میں جھولی پھیلا کر زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے رقم اکٹھی کی۔اور اس کے علاوہ بھی تحریک انصاف کیلئے ان کا کردار روزِ روشن کی طرح عیاں ہے خاص طور پر انتخابی ترانے اور گیت اور خصوصاً مظہر نیازی صاحب کا لکھ ہوا گیت ’’بنے گا نیاپاکستان ‘‘ گا کر انہوں نے حق ادا کردیا ہے۔
اب انہوں نے باقاعدہ طور پر سیاست میں آنے کا اعلان کردیاہے۔وہ عمران خان کو ایک سچا اور کھرا لیڈر کہتے ہیں وہ ضلع میانوالی کیلئے تحریک انصاف کے ضلعی صدارت کے امیدوار ہیں۔ اس وقت ضلع میانوالی میں تحریک انصاف کے پارٹی اختلافات پارٹی کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ اور بقول عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی میں ان اختلافات کو ختم کرانے کیلئے میدان سیاست میں آیا ہوں۔اور عمران خان کے وژن کوکامیاب بنانے کیلئے تن من دھن قربان کرنے کو تیار ہوں۔ تحریک انصاف کے قیام سے لیکر اب تک پہلی مرتبہ ضلعی سطح پر پارٹی کو ایک وژنری آدمی ملا ہے۔ جو یقیناًپارٹی کیلئے نیک شگون ہے۔ان کے کہنے کے مطابق ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنے لوک گیت ’’تینوں لے کے جانا میانوالی‘‘ کو عملی جامع پہنائیں گے۔میری ورکرز اور ممبران سے اپیل ہے کہ اللہ نے آپ کو ایک مرتبہ پھر ایک موقع دیا ہے اپنی تقدیر بدلنے کا تو اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔میانوالی کی محرومیوں کے ازالہ کا وقت آگیا ہے۔ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی عمران خان کو اپنا لیڈر کہتا ہے اور عمران خان ہی کی وجہ سے عملی سیاست میں آیا ہے۔جس طرح پاکستان کیلئے عمران خان اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے اسی طرح میانوالی کیلئے عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی اللہ کی خاص عنایت ہے۔
اب جب کہ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی کا ایک بڑا اور اہم فیصلہ کرلیا ہے ۔اور وہ کہتے ہیں کہ سب کشتیاں جلا کر آیا ہوں اور میرا جینا مرنا پی ٹی آئی کیلئے ہے۔
کملی ہے دنیا جو روکے ساکو خان توں
اللہ جانڑیں لگدا ہے پیا را جند جان توں
عمران خان اور عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھا جائے تو دنوں اپنے اپنے میدان میں مقدر کے سکندر رہے ہیں اور قسمت کے دھنی ہیں۔ جس کام کو بھی شروع کیابے پناہ مشکلات کے باوجود اس کو پایا تکمیل تک پہنچایاہے۔دونوں نے ہی اپنے اپنے شعبوں میں عروج حاصل کیا اور بے تاج بادشاہ کہلائے ۔اب جبکہ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے تواللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہیں کہ اللہ رب العزت ان کو کامیاب کرے ۔خاص طور پر ہم ضلع میانوالی کیلئے دعا گو ہیں ۔

حصہ