میانوالی

سرزمینِ شہدا ۔۔۔ ٹولہ منگلی کے حوالے سے محمد جنید خان کی خصوصی تحریر

ٹولہ منگلی۔شہداء کا گاؤں
میانوالی ضلع کا کون سا ایسا شہر،قصبہ، اور دیہات ہے جس کے باسیوں نے وطن عزیز کے لیے اپنا لہو قربان نہ کیا ہو، میجر جنرل جاوید سلطان ہوں یا میجر جنرل ثنا اللہ نیازی ، ٹولہ منگلی کے نصراللہ خان ہوں ،آرمی پبلک سکول سانحے میں شہید ہونے والے طالبعلم حامد سیف خٹک یا پھر ابا خیل کے ملک فیصل ، میانوالی کی دھرتی نے سپاہی سے لے کر جنرل تک پاک وطن پہ قربان کیے ہیں عیسیٰ خیل سے چکڑالہ اور شادیہ سے بانگی خیل تک میانوالی کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جو شہدا کے خون سے رنگین نہ ہو مگر میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں کوٹ چاندنہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پرغیور خٹک قبائل کا ایک ایسا گاوءں موجود ہے جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس گاؤں نے وطن عزیز کے لیے کئی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیاپاک وطن کے لیے جان قربان کرنے والے اس گاؤں کے شہداء کی تعداد بیس ہے اور تین خوش نصیب باپ ایسے بھی ہیں جن کے دو دو بیٹے جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ جی ہاں ! اس گاؤں کا نام ٹولہ منگلی ہے جہاں کے قبرستان میں ہر جانب سبز ہلالی پرچم لہراتے دکھائی دیتے ہیں 1965کی جنگ ہو یا 1971کی، کارگل کا معرکہ ہو یا قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، اس علاقہ کے بہادر اور جری نوجوان ہر محاذ پر مردانہ وار لڑے ہیں۔آفرین ہے میانوالی کے ان شہدا کے والدین پر جنہوں نے دفاع وطن میں اپنے جگر گوشے قربان کیے۔اپنی جوانی کے سنہرے دن وطن کی خاطر قربان کرنے کے باوجود ٹولہ منگلی گاؤں کے مکین پانی کے مسئلے کا شکار ہیں ۔کئی کئی ماہ تک واٹر سپلائی سے پانی کی ترسیل نہ ہونے کے باعث گاؤں کی خواتین کو میلوں دور سے پانی بھر کے لانا پڑتا ہے چاہے سخت گرمی کا موسم یا جاڑے کی سردی۔کاش کہ کبھی ایوان صدر ،وزیر اعظم ہاؤس،گورنر ہاؤس،وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ،کمشنر ہاؤس یا صرف ڈی۔سی ہاؤس یا ڈی۔پی۔او ہاؤس کا بھی پانی بند ہو جائے تو دیکھیں یہ لوگ کس طرح بلبلاتے ہیں تب جا کر عوام کے پیسوں سے تنخواہیں اور مراعات لینے والے اس طبقہ اشرافیہ کو معلوم ہو گا کہ پانی جیسی نعمت کیا ہوتی ہے۔اس گاؤں میں بچیوں کے لیے صرف پرائمری تک ہی سکول موجود ہے جس کے بعد سکول نہ ہونے کی وجہ سے بچیاں تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں ۔اسی گاؤں کے لوگوں نے اس علاقے میں کیڈٹ بنانے کے لیے2200 کنا ل قیمتی اراضی بھی عطیہ کی ہے مگر دس سال گذرنے کے باوجود بھی اس کا افتتاح نہ ہو سکا ۔ ۔مگر نجانے نادیدہ قوتیں اس کالج کے قیام کے خلاف ہیں۔یہ علاقہ معدنی وسائل سے مالا مال ہے حکومت کی ذرا سی توجہ اس علاقہ کی تقدیر بدل سکتی ہے یہاں تانبا ، لوہا، اورسلیکا، اور جپسم کے ذخائر موجود ہیں۔حال ہی میں تحصیل عیسی خیل کے مختلف علاقوں میں تیل اور گیس کے ذخائر بھی دریافت ہوئے ہیں مگر پنجاب کی سب سے آخری تحصیل ہونے کی وجہ سے نہ صرف عیسیٰ خیل تحصیل بلکہ پورے میانوالی ضلع کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ٹولہ منگلی میں سرکاری اسپتال تو ایک طرف بلکہ کوئی ڈسپنسری تک موجود نہیں اور سابقہ فوجیوں کے لیے فوجی فاؤنڈیشن اسپتال تک نہیں کہ وہ مہنگائی کے اس دور میں اپنا علاج تک کرا سکیں ۔اس پورے بیلٹ کے لیے فوجی فاؤنڈیشن اسپتال اور سکول وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔اس علاقہ کے ضعیف پیشنرز کو پینشن حاصل کرنے کے کالاباغ آنا پڑتا ہے اور سرکاری بینک کے باہر کئی کئی گھنٹے چلچلاتی دھوپ میں گھنٹوں انتظار کے بعد جا کر انہیں پینشن مل پاتی ہے۔زندہ قومیں ہمیشہ اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔حکومت کو ایسا میکنزم اختیار کرنا چاہیے کہ جس سے ان بزرگوں کو بجائے بنکوں کے چکر کاٹنے کے گھر پہ ہی پینشن پہنچا دی جائے ۔
تو بات ہو رہی تھی ٹولہ منگلی کے شہداء کی جنہوں نے پاک فوج کا نام روشن کرنے کے ساتھ اپنے گاؤں کا نام بھی روشن کیا اور ٹولہ منگلی کو سب سے زیادہ شہداء کی دھرتی ہونے کا اعزاز بخشا۔ آج بھی اس علاقہ کے نوجوان پاکستان اور اس کی سلامتی کے لیے پر عزم ہیں۔

Back to top button