یتیموں کا ساتھی
پوری قوم کو یتیم کر گیا
انسانیت کی بے لوث خدمت کا یہ استعارہ کیا اس قوم کو مزید ایدھی فراہم کر سکے گا؟
تحریر: عنایت عادل
جذبات ہیں کہ امڈے چلے جا رہے ہیں۔ الفاظ ہیں کہ کم پڑ چکے ہیں۔پورے ملک کا ماحول سوگوار، ہر آنکھ اشکبار۔۔ کیا ٹی وی چینلز، کیا اخبارات، کیا سوشل میڈیا ، کیا کوچہ و بازار و بیٹھک و چوپال، کیا گھر وں کے ڈرائینگ رومز اور کیا نجی و سرکاری محفلیں، سب میں ایک ہی دکھ بھری خبر پر تبصرے جاری ہیں ۔ کوئی عبدالستار ایدھی کی خدمات پر روشنی ڈال رہا ہے تو کسی کو خادم ملت کو آخری عمر میں لاحق بیماری اور اس بیماری کے دوران ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی بے اعتنائی پر قلق ہے۔کوئی اسکی یتیم سے محبت کی مثال پیش کر رہا ہے تو کوئی لاشیں گرانے کی مائل آج کی اس سوچ کے دوران ، ایدھی کی جانب سے لاشوں کو اٹھانے کی ہمت کی داد دے رہا ہے۔ کوئی ایدھی کو مذدور کا ساتھی قرار دے رہا ہے تو کوئی اسے بیماروں کی معالج کہنے پر مصر ہے۔کسی کو اسکی سینکڑوں ایمبولینسوں کی موجودگی کارنامہ نظر آتی ہے تو کوئی ایدھی کی بیواؤں کی امداد میں انسانیت کی خدمت نظر آرہی ہے۔کوئی شیر خوار بے آسرا بچوں کو اپنے نام کی پہچان دینے کو حرف تحسین پیش کر رہا ہے تو کسی کو ایدھی ہومز میں لا وارث و لاچار افراد کو ملتی محفوظ چھت ، عبدالستار ایدھی کے سماجی قد کاٹھ کو نمایاں کرتی نظر آ رہی ہے۔ لیکن کیا کہیں کہ انسانیت کی گوں نا گوں خدمات کو اپنے خون سے سینچتا ، انسانیت کو اپنا مذہب و مسلک قرار دیتا عبدالستار ایدھی اس فانی دنیا کو خیر باد کہہ چلا۔مگر رکئے، ایدھی اگر اٹھاسی سال کی ضعیف العمری، مختلف بیماریوں کی یلغار اور انسانیت کے دکھ میں مسلسل سلگنے کی بدولت نحیف بھی ہوا تو اس کے جذبوں کو کوئی کمزوری نہ دے سکے۔ اس نے بستر مرگ پر پڑے پڑے ہی اپنی آخری خدمت کچھ اس طرح انسانیت کو پیش کی کہ اس نے اپنی آنکھیں کسی مستحق کے لئے وقف کر ڈالیں۔وطن سے محبت ایسی کہ اس دور میں کہ جب ہمارے مشاہیر زکام بخار اور کھانسی تک کے علاج کے لئے دیار غیر کی اڑان بھرتے ہیں، عبد الستار ایدھی جان لیوا امراض کی شدت کا ادراک رکھتے ہوئے بھی انہی ہسپتالوں میں اپنے علاج کروانے پر مصر رہے کہ جہاں اس ملک کا عام آدمی علاج کروانے پر مجبور ہے۔ان کا یی جذبہ کسی جذباتی نوعیت کا شاخسانہ ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا۔خود انہوں نے دوران علالت کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انکی روح اپنے ملک ہی کی فضاؤں میں انکے جسم کو چھوڑے۔ اسی ملک کی فضائیں کہ جس کے باسیوں کی مختلف انواع کی خدمت کرتے کرتے عبدالستار ایدھی نے اپنی تمام زندگی ہر قسم کی عیش و عشرت ، چین و آرام اور لالچ و طمع سے دور رکھتے ہوئے بتا دی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ
عبدالستار ایدھی خدمت خلق کے شعبہ میں پاکستان اور دنیا کی جانی مانی شخصیت تھے، جو پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے تاحیات صدر رہے۔ ان کی انتھک محنت ہی نہیں، خلوصِ نیت ، اور ہر قسم کی تفریق سے بالا تر ہو کر انساینت سے محبت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ایدھی فاؤنڈیشن کی شاخیں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کی بیوی محترمہ بلقیس ایدھی بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں۔ دونوں کو 1986 میں عوامی خدمات کے شعبہ میں رامون ماگسیسے ایوارڈ (Ramon Magsaysay Award) سے نوازا گیا۔
مولاناعبدالستار ایدھی 1928 میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدمتوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے جو اپنے علاقے کے بازار میں کپڑے کی دکان کے ذریعے اپنے خاندان کی کفالت کیا کرتے تھے۔عبدالستار ایدھی کے بچپن کے ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ پیدائشی طور پر قائدانہ صلاحیتوں کے مالک تھے اور شروع سے ہی اپنے دوستوں کی ہر لحاظ سے معانت و امداد کا بیڑہ اٹھائے رکھتے تھے۔روزمرہ کے کام کاج اور یہاں تک کہ علاقے میں کھیل کود جیسی مثبت سرگرمیوں تک کی حوصلہ افزائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جب انکی والدہ انکو اسکول جاتے وقت دو پیسے دیتی تھی تو وہ ان میں سے ایک پیسہ خرچ کر لیتے تھے اور ایک پیسہ کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے لیے استعمال کر لیتے۔ گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو شدید قسم کے ذیابیطس میں مبتلا تھیں۔ چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا، جو آگے کی انکی سماجی زندگی کے لیے کامیابی کی کنجی ثابت ہوا۔
1947 میں تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا اور کراچی میں آباد ہوئے۔ 1951 میں آپ نے اپنی جمع پونجی سے ایک چھوٹی سی دکان خریدی اور اسی دکان میں آپ نے ایک ڈاکٹر کی مدد سے چھوٹی سی ڈسپنسری کھول لی۔ اسی ڈسپنسری میں ہی ایدھی صاحب نے بنیادی طبی امداد کی تربیت حاصل کر لی جو انکی سماجی خدمات کے دوران تمام عمر انکے کام آتی رہی۔ اسکے علاوہ انہوں نے اپنے دوستوں کو اس بات پر مائل کیا کہ وہ اسی ڈسپنسری ہی میں بچوں کو تعلیم تربیت کا اقدام اٹھائیں۔ ایدھی صاحب بچپن ہی سے سادہ طبیعت کے مالک تھے۔وہ اسی ڈسپنسری کے سامنے بنچ پر ہی سو لیتے تاکہ بوقت ضرورت فوری طور پر مدد کو پہنچ سکیں۔
1957 میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس پرعبدالستار ایدھی نے فوری طور پر رد عمل پیش کیا۔ انہوں نے شہر کے نواح میں خیمے لگوائے اور مفت مدافعتی ادویہ فراہم کیں۔ مخیر حضرات نے انکی دل کھول کر مدد کی اور ان کے کاموں کو دیکھتے ہوئے باقی پاکستان نے بھی۔ امدادی رقم سے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری تھی اور وہاں ایک زچگی کے لیے سنٹر اور نرسوں کی تربیت کے لیے اسکول کھول لیا، اور یہیں ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز تھا۔
اس کے بعدآنے والوں سالوں میں ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان کے باقی علاقوں تک بھی پھیلتی گئی۔ فلو کی وبا کے بعد ایک کاروباری شخصیت نے ایدھی کو کافی بڑی رقم کی امداد دی جس سے انہوں نے ایک ایمبولینس خریدی جس کو وہ خود چلاتے تھے۔ آج ایدھی فانڈیشن کے پاس 600 سے زیادہ ایمبولینسیں ہیں، جو ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئیں ہیں۔ کراچی اور اندرون سندھ میں امداد کے لیے وہ خود روانہ ہوتے ۔کراچی میں کسی بھی حادثہ یا سانحہ کی صورت میں ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات سرکاری مشینری سے کہیں سرعت کے ساتھ آ موجود ہوتیں۔۔ ہسپتال اور ایمبولینس خدمات کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بنک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور اسکول کھول رکھے ہیں۔ اسکے علاوہ ایدھی فاونڈیشن نرسنگ اور گھر داری کے کورس بھی کرواتی ہے۔ ایدھی مراکز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر ایدھی مرکز کے باہر بچہ گاڑی کا اہتمام ہے تا کہ جو عورت بچے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی اپنے بچے کو یہاں چھوڑ کر جا سکے۔ اس بچے کو ایدھی فاونڈشن اپنے یتیم خانہ میں پناہ دیتی ہے اور اسکو مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔
ایدھی فاونڈیشن نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ترقی کی ہے۔ اسلامی دنیا میں ایدھی فاؤنڈیشن ہر مصیبت اور مشکل وقت میں اہم مدد فراہم کرتی ہے۔ جہاں امداد اور نگرانی کی خاطرعبدالستار ایدھی بذات خود متاثرہ ممالک میں جا یا کرتے تھے۔ پاکستان کے علاوہ فاونڈیشن جن ممالک میں کام کر رہی ہے ان میں سے چند نام افغانستان، عراق، چیچنیا، بوسنیا، سوڈان، ایتھوپیا اور قدرتی آفت سماٹرا اندامان کے زلزلہ(سونامی) سے متاثرہ ممالک کے ہیں۔
16 اگست 2006 کو بلقیس ایدھی اور کبری ایدھی کی جانب سے ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فاؤنڈیشن کے قیام کااعلان کیا گیا۔ جس کے تحت دنیا کے امیریاغریب ہویا دنیا کا کوئی بھی ملک امریکہ، یو کے، اسرائیل، شام، ایران، بھارت، بنگلہ دیش ہوں میں یہ ایمبولینس بطور عطیہ دی جا رہی ہے اورانہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ایمبولینس کو 5 سال تک استعمال کرنے کے بعد فروخت کرکے اس کی رقم خیراتی کاموں میں استعمال کریں۔
آج پاکستان کے علاوہ اسلامی دنیا میں بھی ایدھی نے ایک غیر خود غرض اور محترم شخص کے طور شہرت پائی ہے۔ شہرت اور عزت کے باوجود انہوں نے اپنی سادہ زندگی کو ترک نہیں کیا، وہ سادہ روائتی پاکستانی لباس پہنتے ہیں،اور کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس پہننے کو شاید دو یا تین ہی کپڑوں کے جوڑے ہیں۔، اسکے علاوہ انکی ملکیت کھلے جوتوں کا ایک جوڑا ہے، جسکو وہ سابقہ بیس سال سے استعمال کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کا بجٹ ایک کروڑ کا ہے جس میں سے وہ اپنی ذات پر ایک پیسہ بھی نہیں خرچ کرتے۔ آپ کے بیٹے فیصل بتاتے ہیں کہ جب افغانستان میں مرکز کا افتتا ح کیا جا رہا تھا تو عملہ نے مہمانوں اور صحافیوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں خرید لیں۔ جب ایدھی وہاں آئے تو وہ اس بات پر سخت خفا ہوئے، کونکہ انکے خیال میں یہ رقم کسی ضرورت مند کی مدد پر خرچ کی جا سکتی تھی۔ اس رات آپ کلینک کے فرش پر ایمبولینسوں کے ڈرائیوروں کے ساتھ سوئے۔
آج ایدھی فانڈیشن ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ایدھی مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کرتے کہ وہ پاکستان کے ہر 500 کلو میٹر پر ہسپتال تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ گرچہ انکو احترام کے طور پر مولانا کا لقب دیا گیا ہے لیکن وہ ذاتی طور پر اس کو پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کبھی کسی مذہبی اسکول میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ وہ اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلوانا پسند کرتے ہیں، کیونکہ انسانیت کی خدمات پر پاکستان میں انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹلریشن سے ڈاکٹری کی اعزازی سند دی گئی ہے۔ وہ اس بات کو بھی سخت ناپسند کرتے ہیں جب لوگ انکی یا انکے کام کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ حکومت یا سیاسی و مذہبی جماعتوں سے امداد بھی نہیں لیتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی امداد مشروط ہوتی ہے۔ ضیاء الحق اور اطالوی حکومت کی امداد انہوں نے اسی خیال سے واپس کر دی تھی۔
1996 میں عبدالستار ایدھی کی سوانح حیات شائع کی گئی۔1997 گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس ہے۔ ایدھی بذات خود بغیر چھٹی کیے طویل ترین عرصہ تک کام کرنے کے عالمی ریکارڈ کے حامل ہیں۔ اور ریکارڈ بننے کے بعد بھی ابھی تک انہوں نے چھٹی نہیں لی۔
پاکستان میں ایدھی فانڈیشن کی فلاحی سرگرمیوں کا آغاز صرف پانچ ہزار روپے سے ہوا۔ آج ان فلاحی سرگرمیوں سے پاکستان بھر میں بے گھر، نادار اور انتہائی ضرورت مند لاکھوں افراد کی مدد کی جارہی ہے۔اس دوران کتنی ہی ایسی تصاویر سامنے آئیں کی جن میں کبھیمولانا عبدالستار ایدھی دارالحکومت اسلام آباد میں سڑک پر چندہ جمع کر رہے ہیں۔
مولانا عبدالستار ایدھی دارالحکومت اسلام آباد میں سڑک پر چندہ جمع کر رہے ہیں۔ اور انکی یہ عاجزی، حب انسانیت اور بے لوث خدمات ہی تھیں کہ آج صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں جہاں بھی فلاحی سرگرمیوں کا ذکر آئے تو عبدالستارایدھی کا نامضرور لیا جاتا ہے۔ وہ ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی مفلس و نادار افراد کی مدد کے لئے پیش پیش رہتے ہیں۔انسانیت کی خدمت کے لئے عبدالستار ایدھی کے کاموں کا دائرہ پاکستان بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ بعض دیگر ممالک میں بھی ان کے فلاحی کام جاری ہیں۔ تاہم ان کاموں کا آغاز پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ہوا۔ آج بھی عبدالستار ایدھی کی رہائش اسی شہر میں ہے۔ یہ شہر بلاشبہ عبدالستار ایدھی کا احسان مند ہے۔
انسانیت کے لئے عبدالستار ایدھی کی بے لوث خدمات پر انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔ 1980 کی دہائی میں پاکستانی حکومت نے انہیں نشان امتیاز دیا۔ پاکستانی فوج نے انہیں شیلڈ آف آنر پیش کی جبکہ 1992 میں حکومت سندھ نے انہیں سوشل ورکر آف سب کونٹی نینٹ کا اعزاز دیا۔
بین الاقوامی سطح پر 1986 میں عبدالستار ایدھی کو فلپائن نے Ramon Magsaysay Award دیا۔ 1993 میں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں پال ہیرس فیلو دیا گیا۔ 1988 میں آرمینیا میں زلزلہ زدگان کے لئے خدمات کے صلے میں انہیں امن انعام برائے یو ایس ایس آر دیا گیا۔پاکستان میں بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ عبدالستار ایدھی نوبل امن انعام کے بھی حق دار ہیں۔ اس بارے میں کراچی میں ذرائع ابلاغ کے ماہر پروفیسر نثار زبیری نے کہا کہ کچھ برس قبل کراچی یونیورسٹی نے عبدالستار ایدھی کو نوبل امن انعام دیے جانے کی تحریری سفارش کی تھی۔
مولانا عبدالستا ایدھی انتہائی سادہ انسان ہیں۔ اور یہ سادگی ان کے کپڑوں میں ہی نہیں بلکہ باتوں میں بھی جھلکتی ہے۔ سب سمجھتے کہ اس وسیع پیمانے پر فلاحی کاموں کو چلانے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ تاہم عبدالستار ایدھی جیسے شکایت کرنا جانتے ہیں نہیں۔ ڈوئچے ویلے سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے کاموں میں کبھی مشکلات کا سامنا نہیں کرپڑا۔ وہ یہ بھی کہتے کہ وہ کبھی دلبرداشتہ بھی نہیں ہوئی، نہ ہی انہیں قوم سے کوئی شکایات ہے۔ عبدالستار ایدھی کہتے ہیں پاکستانی عوام نے ہمیشہ ان کے ساتھ تعاون کیا اور انہوں نے پاکستانیوں کے علاوہ کبھی کسی سے چندہ نہیں لیا۔
عبدالستار ایدھی نے اپنی فلاحی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھانے کے لئے ایدھی فانڈیشن کی بنیاد رکھی۔ اس کام کا آغاز ایک کمرے سے ہوا جو آج ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک غیرمنافع بخش ادارہ ہے اور فلاح سرگرمیوں کے لئے اس کا دائرہ کار پاکستان میں سب سے بڑا ہے۔ یعنی بڑے شہر اور چھوٹے دیہات، ایدھی کی سرگرمیوں کی جھلک ملک کے کونے کونے میں دیکھی جا سکتی ہے۔اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہکراچی کے لئے عبدالستار ایدھی کی حیثیت وہی سمجھی جاتی ہے جو کولکتہ کے لئے مدر ٹیریسا کی رہی۔یہ اور بات کہ عبدالستار کی یہ خدمات میٹرو پولٹین شہر کراچی سے ہوتے ہوتے ہوئے پورے ملک اور یہاں تک بین الاقوامی سطح تک پہنچ چکی ہے۔
ان کے ساڑھے تین ہزار کارکن اور ہزاروں رضاکار 24 گھنٹے بغیر کسی وقفے کے ان سہولتوں کی فراہمی میں مصروف رہتے ہیں۔ ساتھ ہی ملک بھر میں اس کے مراکز کی تعداد 250 ہے جہاں لاوارث میتوں کے لئے مفت تدفین کی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں جبکہ معذور، یتیم اور لاوارث بچوں کی نگہداشت کے مراکز چلائے جا رہے ہیں جن میں صرف یتیم بچوں کی تعداد ہی 50 ہزار ہے جبکہ ایدھی مراکز کے باہر رکھے گئے جھولوں کے ذریعے رد کئے گئے 20 ہزار شیرخواروں کو بچایا جا چکا ہے۔ مفت ہسپتال اور ڈسپنسریاں، منشیات کے عادی افراد کی بحالی، مفت ویل چیئرز، بیساکھیاں اور معذوروں کے لئے دیگر سروسز بھی ایدھی فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔
اس فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والی ایمبولینس سروس کے ذریعے سالانہ دس لاکھ سے زائد افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس تو ہنگامی حالات میں استعمال کے لئے فضائی ایمبولینس سروس بھی موجود ہے جسکے ذریعے اس کے رضاکار ملک کے کسی بھی دور دراز علاقے میں فوری رسائی رکھتے ہیں۔ فاؤنڈیشن کے پاس
ایئرایمبولینس کے طور پر دو چھوٹے طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر موجود ہے جبکہ تین مزید طیارے اور دوہیلی کاپٹر آئندہ تین سال میں حاصل کئے جائیں گے۔لاوارث میتوں کی تدفین اور زیادتی کانشانہ بننے والی خواتین کے مراکز، محروم طبقے کے لئے تربیتی مراکز، ایدھی فاؤنڈیشن کے چند دیگر کام ہیں۔اس فاؤنڈیشن کے کاموں کا دائرہ کار بیرون ممالک بھی پھیلا ہے۔ اس فاؤنڈیشن کے تحت نیویارک، اونٹاریو، ڈھاکہ، ٹوکیو، سڈنی، لندن، دبئی میں بھی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ افغانستان، بھارت، سری لنکا، یمن اور روس میں خدمات کی فراہمی کے لئے کام جاری ہے۔
پاکستان میں ہر ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہسپتال بنانا، بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے دیہات مراکز کا قیام، منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لئے کراچی میں ایک بال پوائنٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری لگانا، یہ ایدھی فاؤنڈیشن کے مستقبل کے منصوبے ہیں۔
ملک کا بچہ بچہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے بعد عبدالستار ایدھی کو جانتا ہے ایدھی صاحب نے 2003 تک گندے نالوں سے 8 ہزار نعشیں نکالی 16 ہزار نوزائیدہ بچے پالے انہوں نے ہزاروں بچیوں کی شادیاں کرائی یہ اس وقت تک ویلفیئر کے درجنوں ادارے چلا رہے تھے لوگ ان کے ہاتھ چومتے تھے عورتیں زیورات اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دیتی تھیں نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر انہیں دے کر خود وین میں بیٹھ جاتے تھے۔غرض ان کے جذبوں کو ، ان کی خدمات کو اور انکی بے لوث تگ و دو کے ساتھ ساتھ انکی دیانت و امانتداری کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا بچہ بچہ عبدالستار ایدھی کے فلاحی کاموں میں اپنا حصہ ڈالنے کو اپنے لئے افتخار کا باعث سمجھتا تھا۔
8 جوالائی 2016 کو گردوں کے فیل ہونے کی وجہ سے 88 سال کی عمر میں عبدالستار ایدھی وفات پا گئے۔انا للہ وا انا الیہ راجعون
لیکن جاتے جاتے بھی وہ انسانیت کا دکھ نہیں بھولے۔فیصل ایدھی کے مطابق عبدالستار ایدھی نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ ان کے جسم کے تمام اعضا ء کو عطیہ کر دیا جائے۔
چونکہ اس وقت صرف ان کی آنکھوں کا ریٹنا ہی کام رہا رہا تھا،اس وجہ سے اسے عطیہ کر دیا گیا ہے۔ان کے جسم پر موجود لباس ہی کو ان کا کفن تصور کیا جائے اور اسی میں دفنایا جائے۔
ایدھی صاحب کے خاندان کے مطابق انہوں نے آخری بار صرف اتنا ہی کہا کہ میرے ملک کے غریبوں کا خیال رکھنا۔فیصل ایدھی کے مطابق انہیں جاتے جاتے بھی اپنے بجائے لوگوں کی فکر تھی۔
بد قسمتی سے پاکستان دہشت گردی،عدم روادی،انتہاپسندی کا شکار معاشرہ کہلایا جاتا ہے لیکن عبدالستار ایدھی پاکستان میں انسانیت اور مذہبی رواداری کا روشن باب تھے۔وہ یقیناًہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر تمام پاکستانیوں اور انسانیت کی خدمت کر رہے تھے۔درحقیقت وہ پاکستان کی مدر ٹریسا نہیں تھے بلکہ وہ مذہب سے بالاتر ہو کر لوگوں کی خدمت کر رہے تھے۔عمومی طور پرایک عام پاکستانی کو دہشت گردی، عدم روادری سمیت کئی بری چیزوں سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن جب ایدھی کی بات آتی تھی تو یہ تمام تاثر ختم ہو جاتا تھا۔ ایدھی کی شخصیت کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا منفی تاثر ختم نہیں تو کم ضرور ہوا۔ وہ اکیلا شخص تھا جو دنیا میں گھومتا تو نہیں تھا لیکن دنیا پاکستان کو ایدھی کی وجہ سے بھی جانتی تھی۔ کوئی غیر ملکی جب دہشت گردی کو پاکستان سے منسلک کرتا تھا تو پھر ایدھی کی وجہ سے خاموش بھی ہو جاتا تھا۔ اس شخص نے پاکستان کے لئے کیا کچھ کیا شاید پاکستانیوں کو بھی نہیں معلوم۔
لوگ ایدھی پر پیسے نچھاور کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ سب پیسہ فلاحی کاموں پر ہی خرچ ہو گا۔پاکستان میں جہاں ریاست بھی اپنے فرائص سرانجام نہیں دیتی وہاں اس شخص نے کیا کچھ کر دیا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔عبدالستارایدھی کی وفات کے بعد شاید ان کو نوبل انعام ملنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں لیکن اس سب کے باوجود اگر انہیں نوبل انعام نہیں ملتا تو مجھے نوبل پر ترس آئے گا کیونکہ ایدھی نوبل سمیت تمام اعزازت سے کہیں بڑا ہے۔
**********
اعزازات
(بین الاقوامی اعزازات)
:1986 عوامی خدمات میں رامون مگسیسے اعزاز (Ramon Magsaysay Award)
:1988 لینن امن انعام (lenin peace prize)
:1992 پال ہیریس فیلو روٹری انٹرنیشنل فاونڈیشن (Paul Harris Fellow RotaryInternational Foundation )
دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس – گینیز بک ورلڈ ریکارڈز (2000)
ہمدان اعزاز برائے عمومی طبی خدمات 2000 متحدہ عرب امارات
بین الاقوامی بلزان اعزاز 2000 برائے انسانیت، امن و بھائی چارہ، اطالیہ
انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری (2006)
یونیسکو مدنجیت سنگھ اعزاز 2009
(قومی اعزازات)
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی طرف سے سلور جوبلی شیلڈ (1962-1987)
حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمتگزار برائے بر صغیر کا اعزاز (1989)
نشان امتیاز، حکومت پاکستان کا ایک اعلی اعزاز (1989)
حکومت پاکستان کے محکمہ صحت اور سماجی بہبود کی جانب سے بہترین خدمات کا اعزاز (1989)
پاکستان سوک سوسائٹی کی جانب سے پاکستان سوک اعزاز (1992)
پاک فوج کی جانب سے اعزازی شیلڈ
پاکستان اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی جانب سے اعزازِ خدمت
پاکستانی انسانی حقوق معاشرہ کی طرف سے انسانی حقوق اعزا ز
26 مارچ 2005 عالمی میمن تنظیم کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز (Life Time Achievement Award)

حصہ