مولانا عبد الستار خان نیازی:
محمد اشفاق چغتائی عاشق رسول اور علامہ اقبال سے سچی محبت کر نے والا تھا ۔ اسے علامہ اقبال کا سارا کلام یاد تھا ۔ وہ ایک سچا اور پکا مسلمان تھا۔ وہ میانوالی کا ایک ایسا سپوت تھا جس پر ہم میانوالی کے لوگ بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں ۔ میں نے اس کی قابلیت کی بنا پر اسے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی بھیجنے کی سفارش کی تھی ۔ وہ میرا بہت بڑا عزیز اور پیار کر نے والا تھا ۔ لیکن جب مجھے وزارت ملی تو اس نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور کہا کہ حضور ! آپ سرمایہ داروں کی حکومت میں شامل ہوگئے ہیں ۔ جب آپ حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے تو میں آپ کی خدمت میں پہنچ جاﺅں گا۔
احمد فراز:
بہت زمانوں بعد مری نظر سے رباعیوں کا مجموعہ گزرا کہ یہ صنف اپنی مشکل بحور اور مختصر تعداد کے مصرعے رکھنے کی وجہ سے زیادہ مقبولیت حاصل نہ کر سکی ۔ فارسی میں عمر خیام کی رباعیاں خاصی مشہور و مقبول ہوئیں ۔ Fitzgeroldنے ان کا انگریزی میں ترجمہ کر کے اسے مغرب سے روشناس کرایا ۔ دراصل Fitzنے ترجمہ سے زیادہ Recreation کے عمل پر توجہ دی ۔ فارسی میں خیام کے بعد سرمد کی رباعیوں کو بھی قبول عام کی سند ملی لیکن اردو شاعری میں اس کا رواج کم رہا ۔ غالب نے چندرباعیاں ضرور کہیں مگر وہ ان کی غزلوں والا مرتبہ حاصل نہ کر سکیں ۔ یگانہ ، جوش و فراق نے بھی اس صنف کو جمالیاتی لب و لہجہ عطا کیا مگر ان کی شہرت پر بھی غزل ہی غالب رہی ۔ اس چو مصرعی صنفِ سخن میں بحور کی قطعیت اور پابندی کے سبب کچھ اساتذہ اور بعد کے چند شعراءنے بھی محض آزمائش طور پر اس دشت کی سیاحی کی مگر پھر اس بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑ دیا۔ میں نے دو چار مجموعے رباعیات کے دیکھے جن میں سے ایک جناب ضیا جعفری مرحوم کا مجموعہ ” صبوحی“ کے عنوان سے مجھے یاد ہے ۔ اس مجموعے کی تقریبا ً تمام رباعیاں خمریات کے موضوع سے متعلق ہیں اور پھر اب پروفیسر اشفاق چغتائی کا مجموعہ ”صراحی“ میرے زیر نظر ہے ۔ جناب اشفاق چغتائی کا کلام کسی اور صنف میںمیری سے نہیں گزرانہ ہی لوگ ان کے نام اور ادبی مقام سے واقف ہیں ۔ بہر حال ان کے عقیدت مندوں نے ان کا یہ مجموعہ پروفیسر صاحب کی وفات کے بعد شائع کرنے کا ارادہ کیا ہے ۔ میری نظر میں چغتائی صاحب کی یہ
کاوش قابل تحسین ہے کہ انہوں نے اس رفتہ و گذشتہ صنف کو طاقِ نسیاں سے اتار کر حجلہ سخن میں پھر سجادیاہے ۔ ان کی رباعیاں مضامین کے تنوع کے اعتبار سے خاصے کی چیز ہیں۔ اس کے فنی پہلوﺅں پر تو وہ حضرات زیادہ ثقہ کومینٹری کر
سکتے ہیں جو علم عروض سے پوری طرح باخبر ہیں۔ میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ مجموعہ ”صراحی“ رباعی کی بازیافت ہے جو بہت بڑا کام نہ سہی بڑا کام ضرور ہے ۔
پیر نصیر الدین نصیر :
تصوف کے وجود و شہود نظریہ پر ایک نظر
تصوف کے موضوع پر آج تک بہت کچھ لکھا گیا، اس پر تفصیلی بحث کے لیے وقت چاہیے جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ ان ساری ابحاث کا عام مسلمان کی زندگی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں اور نہ کوئی کلمہ گو وجود و شہود ایسے دقیق موضوعات اور ان سے برآمد ہونے والے نتائج کا مکلّف ٹھہرایا گیا ہے۔ لہٰذا یہ سب کچھ فضول ہے۔ عوام و خواص کے لیے جو چیز نفع مند ہے وہ صرف قرآن و سنّت کی سادہ سی تعلیمات ہیں، جن پر تمام امّتِ مسلمہ کو عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے ۔ مخالفین کے ایسے اعتراضات کسی حد تک بجا بھی ہیں۔ مگر صوفیائے کرام کے جملہ مکشوفات و مشاہدات کو بیک جنبشِ قلم رد کرنا بھی کوئی عقل مندی نہیں۔ ہاں ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ تصّوف کا جو نظریہ یا مشاہدہ قرآن و سنّت کی تعلیمات کے مخالف ہو گا۔ وہ ہمارے لیے ناقابلِ تسلیم ہے۔ زیر تبصرہ کتاب محمد اشفاق چغتائی مرحوم کانتیجہ¿ کاوش ہے۔ مرحوم نے محی الدین ابنِ عربی ؒ اور مجدد سر ہندی ؒ کے نظریات کی روشنی میں جو نتائج اخذ کیے اور پھر علامہ اقبالؒ کے نظریہ¿ وجود و شہود کے حوالے سے ان موضوعات کا ایک تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ وہ قابل تحسین ہے۔ میرے دادا حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے اپنی مشہور تصنیف تحقیق الحق فی کلمتہ الحق میں بعض مقامات پر تصوف کے چند باریک مسائل کو بھی زیر بحث لایا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ تصّوف کے یہ ابحاث خواص کے لیے ہیں نہ کہ عوام کے لیے۔ پرانے صوفیاءکے متعلق کتابوں میں آیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ لوگ جو ان مقامات کے حامل تھے وہ سات دروازے بند کر کے اپنے تلامذہ کو ان اسرار کا درس دیا کرتے تھے۔ لہٰذا ان موضوعات کو محض لفظوں کا کھیل نہ سمجھا جائے، بلکہ ان کے ادراک کے لیے اخصّ الخواص کا ذہن چاہیے۔ جو ان منازل سے گزر کر بھی قرآن و سنّت کی واضح تعلیمات کا دامن نہ چھوڑے۔
اس حسنِ برق وش کا دل سوختہ وہی ہے
شعلوں سے بھی جو کھیلے دامن کو بھی بچائے
میں اشفاق چغتائی مرحوم کی اس کتاب پر حسبِ توفیق ِعلمی کچھ مزید بھی تحریر کرتا مگر اس کے لیے بہت وقت کی ضرورت ہے۔
عطاءالحق قاسمی :
اشفاق چغتائی مر حوم کا شعری مجموعہ ”چراغ“ پڑھتے ہوئے میں ایک بار پھر اس دکھ کی کیفیت سے دو چار ہوا ہوں جو نا قدری¿ زمانہ کا شکار ہونے والی شخصیتوں کے حوالے سے مجھے ہمیشہ کرب میں مبتلا کر تا ہے ۔ میانوالی میں بیٹھا ہوا یہ درویش منش شاعر افکارِ نو کے انبار لگاتا رہا اور اس کی موجودگی میں کمتر درجے کے شاعر مسندِ فضیلت پر براجمان رہے ۔ میں نے ” چراغ “ کا مطالعہ ایک نعتیہ مجموعے کے طور پر شروع کیا لیکن جوں جوں آگے بڑھتا گیا مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ نعت روایتی نعت نہیں رہی بلکہ اس میں تو دنیا بھر کے دکھ جمع ہوتے چلے جا رہے ہیں، سوا گر یہ غزلوں کا مجموعہ بھی ہے تو س کی بنیاد عشق محمد ہے ۔ مرحوم سے میری دو تین ملاقاتیں ہوئی تھیں مگر انہوں نے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا یہ بھی نہیںکہ وہ ماہر اقبالیات ہیں ، نعت گو ہیں ، رباعیات لکھتے ہیں ، غزل کہتے ہیں درویشی کی مسند پر فیض ہیں ۔بتایا تو صرف یہ کہ وہ منصور آفاق کے بھائی ہیں۔شاید اس لیے کہ عشقِ محمد ﷺ میں نفی ذات پہلا مر حلہ ہوتا ہے۔ تاہم ”چراغ “ کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ جدید یت کے امتزاج کی حامل یہ شاعری اس قابل ہے کہ اسے اس کا وہ حق دیا جائے جس حق سے اس کا شاعر اپنی زندگی میں محروم رہا ۔ میں ” چراغ “ کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ عطار کا یہ کام نہیں ہے، خوشبو اپنا اعلان خود کرتی ہے !
افتخار عارف :
اشفاق چغتائی کور خصت ہوئے اب دو برس ہونے کو آئے ہیں ۔ اس عہد زود فراموش میں کہ جہاں تر جیحاتِ زندگی میںدانش و ادب پسپا ہو تے نظر آتے ہیںکسی صاحب علم وہنر کو یاد رکھنا عمل خیر کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس طرح ایک طرف ہم رخصت ہونے والے کے کمال ِفن کا اعتراف کرتے ہیں اور دوسری طرف خود اپنی وجودی زندگی کی معنویت کا ثبوت دیتے ہیں ۔ اشفاق چغتائی ایک اچھے شاعر تھے ۔ حیرت ہوتی ہے کہ ان سے بہت زیادہ کم استعداد رکھنے والے لوگ دنیا ئے ادب میں نمایاں نظر آتے ہیں مگر ان کو اس طرح نہیں پہچانا گیا جیسا کہ ان کا حق تھا ۔ انہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں اپنی تخلیقی اور فنی دسترس کا اظہار کیا ہے ۔ غزل ، نظم ، رباعی ، خاص طور پر ان کے شعری اثاثے میں بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ زبان و بیان پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ نہ صرف یہ کہ زبان پر قدرت رکھتے تھے ۔ اللہ نے ان کو زبان کے تخلیقی اظہار کی توفیق بھی عطا فرمائی تھی ۔ ان کے مصرعے بہت کسے ہوئے اور تراکیب بہت رواں نظر آتی ہیں ۔ جذبے اور فکر دونوں سطحوںپر ان کے ہاں ایک وضع کی ہمواری نظر آتی ہے ۔ آپ ان کا سارا کلام پڑھ جائیے آپ دیکھیں گے کہ وہ کہیں بھی اپنے اس معیار سے نیچے نہیں آتے جو انہوں نے اپنے لئے قائم کیا ہے ۔
شوکت واسطی :
مرحوم پر وفیسر محمد اشفاق چغتائی کا تعلق شہر میانوالی سے ہے جو ادبی لحاظ سے بہت جانا پہچانا ہے ۔ ہم جب مدرسہ میں جاتے تھے اور مشہور شاعر تلوک چند مرحوم کی نظم ” مقبرہ ¿ نور جہاں “ ہمارے نصاب میں شامل تھی ۔ پھر تلوک چند مرحوم دِلی جابسے ۔ آج کل ان کے فرزند جگن ناتھ آزاد جموں میں آباد ہیں اور وہ اپنے اس آبائی قصبے کو بھول نہیں پارہے ۔پروفیسر صاحب مرحوم نے شاعر ی کی ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی اور ان کی غزل شاداب ، رباعی شگفتہ اور نظم بہہ خوبی ¿کمال قابل مطالعہ ہیں ۔ رباعی میں انہیں خاص درک تھا اور ان کے کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے میں استادانہ حیثیت کے حامل تھے ۔ علاوہ برآں نثر میں بھی ان کی معتدبہ ورثہ موجود ہے ۔ وہ علامہ اقبال کے ”تصور حقیقت مطلقہ “ پر ڈاکٹری کا مقالہ بھی قلم بند کر رہے تھے مگر موت نے مہلت نہ دی کہ وہ اس تحریر کو مکمل کر کے سند پاسکتے ۔ ایک کتاب ”فقر غیور “ بھی ابھی غیر مطبوعہ چھوڑ کر چل بسے ۔ صرف علامہ اقبال پر ان کے تیس سے زائد مقالات و مضمون منظر عام پر آنے سے رہ گئے کہ پر وفیسر اشفاق نے عمر کی پچاس بہاریں بھی پوری نہ کیں اور داعی ءاجل کو لبیک کہہ گئے ۔ کتنا عظیم اثاثہ وہ ادب کے حوالے سے اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ قابل مبارک باد ہیں اسد مصطفی اور منصور آفاق کہ انہوں نے ان کے منتشر ترکہ کوجمع کیا ہے اور وہ اسے زیور ِ طبع سے آراستہ کر رہے ہیں ۔
ڈاکٹر طاہر تونسوی:
محمد اشفاق چغتائی کے تخلیقی اظہارات کا مطالعہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ انہیں نے کلاسیکی شاعروں کی روایات کا نہ صرف گہرا شعور ہے بلکہ لفظ و معنی کے لحاظ سے بھی ایک گوڑھا رشتہ نظر آتا ہے اور انہوں نے روایت اور جدت کے امتزاج کے موضوع و اسلوب دونوں تناظر میںاپنے لیے ایک نئی راہ نکالی ہے جس میں خود کلامی کی کیفیت نما ندی دھیرے دھیرے قاری کو اپنے بہاﺅ میں شریک کر لیتی ہے اور اس حوالے سے وہ ان کے تخلیقی مزاج سے بھر پور آگاہی حاصل کر تا ہے ۔ یوں قومی اور ذاتی درد کی جو روان کی شاعری میں ہے پڑھنے والوں کے دلوں کو گداز بخشتی ہے ۔ میرے نزدیک یہ خوبی ان کے ہم عصروں میںکم کم پائی جاتی ہے اور یہی ان کی شناخت کا وسیلہ بھی ہے ۔
ڈاکٹر انعام الحق جاوید:
میں محمد اشفاق چغتائی کو ایک مفکر، ماہر اقبالیات ، منجھے ہوئے شاعر اور ایک ایسے درد مند شخص کی نظر سے دیکھتاہوں جو جتنا اپنے فکر و نظر کی رو سے کھر اہے اس سے کہیں بڑھ کر اپنے عمل میں کھرا ہے ۔ اس کے کھرے ہونے کی دلیل شعر و نثر میں ہمیشہ مقصد یت کو سامنے لا نا ہے اور محمد اشفاق چغتائی کی مقصد یت کوئی ذاتی مقاصد یامشہور ہونے کے لیے نہیں تھی بلکہ وہ تو پوری امت کا درد اپنے سینے میں رکھتا تھا ۔ اس کا نوحہ تو پوری امت کا نوحہ ہے ،اس کے چند شعر دیکھئے:
ہیں سجدہ ریز کہاں کجکلاہ امت کے
غلام آپ کے ہوتے تھے شاہ امت کے
بڑی ہے عصر کی تقویم بدنما اشفاق
شبیں سفید ہیں اور دن سیاہ امت کے
محمد اشفاق چغتائی کا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا دور میرے سامنے ہے ۔ میں نے انہیں ملازمت کے دوران ایک صالح ، باکر دار ، ہمیشہ دوسروں کی عزت کرنے والا پایا ۔ فکر اقبال کے حوالے سے ان کا نقطہ ئِ نظر دوسروں سے جدا اور قطعی اقبالی تھا اسے ضرور سامنے آنا چاہیے ۔
ڈاکٹر محمد حامد:
عجب اتفاق ہے کہ جس شخص سے صرف ایک ہی ملاقات ہوپائی وہ اس لائق تھا کہ ایک عمر اسکے نام کر دی جاتی ۔ اس ملاقات میں جو کہ ان کی آخری علالت میں ہوپائی یوں محسوس ہو کر اس شخص نے انہیںمسائل اور افکار کو اپنی زندگی کا محور
بنایا ہو اہے جو میرے لیے بھی بے حد اہم رہے ہیں اور اب بھی ہیں ۔ تاہم مجھے اعتراف کرنا ہے کہ اس شخص نے جس شدت سے ان چیزوں کے بارے میں سوچا تھا اس نے انہیں گھلا کر رکھ دیا تھا ۔ اس طرح مجھے پورا یقین ہے کہ وہ شہید راہ ِ عشق تھے ۔ خاک وخون میں غلطیدہ ہونے کا رتبہ توہے سو ہے لیکن ملت اسلامیہ کے بارے میں ایک گھڑی کا تفکر کسی عابد کی ہزار سالہ عباد ت پر بھاری ہے ۔
اشفاق چغتائی ہمہ تن ملت کے مسائل پر غور و فکر کرنے والا شخص تھا ۔ اسکے لیے روٹی، کپڑا ،مکان ، کیرئیر اور اسی طرح کے خاکبازی کے مسائل کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے ۔ میں جتنی دیر ان کے ساتھ رہا وہ ملت کی درد مندی میں ڈوبی ہوئی
باتیں کرتے رہے ۔ وہ اسقدر کمزور اور خستہ ہو چکے تھے کہ میںان کی بیماری کے پیش نظر جلد اٹھ آیا لیکن ان کی آنکھوں کی چمک جو کسی ہم خیال فرد سے مل کر ان میں پیدا ہوئی تھی ،وہ اب بھی میری آنکھوں میں ہے ۔
اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے ۔ ہم جیسے لوگ تو ان کیلئے دعا کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے ،البتہ مجھے امید ہے کہ وہ زیر خاک بھی ہمارے لیے اور پوری ملت کے لیے دعا گو ہوں گے ۔
اللہ تعالیٰ ان کی امیدیں اور آرزو ئیں ان کی وفات کے بعد پوری کرے اور پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے ان کی دعاﺅں کو پورا کرے ۔ حسرت موہانی ؒ نے پاکستان بننے سے پہلے خواب میں حضور اکرم ﷺ کی زیارت کی اور ان سے پاکستان کی خوشخبری سنی ۔ پھر دیوان حافظ سے فال نکالی تو یہ مصرعہ نکلا ۔
طاقِ ابروئے تو محراب ِ جہاں خواہد شد
کہ پاکستان پوری دنیا کیلئے امیدوں کا گہوارہ اور مرکز بنے گا۔ میانوالی کی سر زمین کے اس مردِ حر محمد اشفاق چغتائی کی امیدیں اور آرزوئیں حسرت موہانی ؒ سے مختلف نہ تھیں ۔انہوں نے علامہ اقبال ؒ کے تصوف کے بارے میں خیالات پر ایک انتہائی وقیع کتاب لکھی جو وجود و شہود کے متعلق تھی اور اسطرح ،علامہ ابن عربی ؒ کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال ؒ کے بارے میںبھی وضاحت کی ۔ میرا اپنا ارادہ اس موضوع پر لکھنے کا تھا اور میں نوٹس بھی بنا چکا تھا لیکن محمدا شفاق چغتائی صاحب کی کتاب کے بعد میرے خیال میں اسکی چنداں ضرورت نہیں رہی ۔ یہ ایک ایسا قرض تا جو چغتائی صاحب نے باحسن طریق اداکیا ہے ۔ اسکی داد تو خود علامہ اقبال ؒ نے انہیں دی ہوگی ۔چغتائی صاحب ایک فرد نہیں ایک دبستان تھے ۔ مجھے امید ہے کہ ان کا حلقہ ان کے کام کو آگے لے کر چلے گا۔ میں اس بات کو اپنی سعادت سمجھوں گا اگر یہ نیاز مند بھی اس خدمت میں کسی کام آسکے۔
خدا رحمت کندایں عاشقاں پاک طنیت را
ڈاکٹر محمد صدیق خان شبلی :
چغتائی صاحب کامطالعہ وسیع تھا اور وہ اقبال کے فلسفے پر بھی گہری نظر رکھتے تھے ۔ انہوں نے اقبال کے فلسفہ ¿ وجود و شہود کا جو تجزیہ کیا وہ انتہائی قابل تعریف ہے ۔ اگر چہ انہوں نے شاعری پر زیادہ توجہ نہیں کی لیکن ان کی دستیاب شاعر ی اپنی
جگہ قابل تعریف ہے ۔ تحریر کے علاوہ تقریر میں بھی بڑی مہارت رکھتے اور مختلف موضوعات پر انہوں نے اپنی تقریر سے
سامعین کو ہمیشہ متاثر کیا ۔
پروفیسر ڈاکٹر شاہد اقبال کا مران :
جن بڑے لوگوں کو میں نے قریب سے دیکھا ہے، اشفاق چغتائی ان میں سے ایک تھے ۔ دبلے پتلے ہر وقت مسکراتے ہوئے ۔ بات کریں تو فکر مند ، گہرائی میں جائیں تو آرزومند ، میں نے اسی آرزو مندی کے بارے میں ایک بار استفسار کیا کہ آپ کی اس شدید آرزو مندی کا علاج کیا ہے ۔ کہنے لگے میری مشکل یہ ہے کہ مریض ہی علاج کروانے یا یوں کہیے کہ صحت مند ہونے کے لیے آمادہ نہیں ۔ دنیا بھر کے مسلمان جانتے ہیں کہ ان کے مسائل و مشکلات کے اسباب کیا ہیں ، دوست کون ہے اور دشمن کون ، سب کچھ جانتے ہیں لیکن کچھ بھی نہیں کرتے ۔اس بات نے انہیں دکھ سے بھر دیا تھا ۔ میں کہتا تھا آپ نے ذرا سی جان کے ساتھ بہت بڑا دکھ پال لیا ہے ۔ وہ مسلمانوںکو بیدار اور متحد کرنا چاہتے تھے ۔ وہ مسلمانوں کی یکجہتی کی آرزو کو ایک تحریک میں بدل دیناچاہتے تھے۔ اس تحریک کیلئے انہوں نے اپنی ہر دوسری آرزو کو ختم کر دیا ۔ اقبالیات سے ان کا تعلق صرف ایم فل اقبالیات والا نہیں تھا ۔ہمارے ہاں سینکڑوں اسکالر آئے اور چلے گئے بیشتر کے لیے ایم فل اقبالیات محض ملازمت میں معاون ایک ڈگری رہی مگر اشفاق چغتائی کے لیے اس کا مفہوم کچھ اور تھا ۔مجھے یا د ہے اپنے تحقیقی مقالے کے لیے انہوں نے ایک موضوع کا انتخاب کیا جسے سن کر اس کے ساتھی اسکالروں کا پسینہ چھوٹ گیا ۔ کچھ نے کہا یار کوئی چلتا ہوا ساعنوان لو اور کام ختم کر و محمد اشفاق چغتائی مسکرا کر چپ ہورہے ۔ میں نے
دیکھا کہ فلسفہ بھی ان کا ایک عشق تھا ۔ تصوف کے ضمن میں اقبال کے نتائج سے مطمئن تھے لیکن اس اتفاق کے لیے ان کے پاس دلائل دوسرے تھے، مرادیہ کہ وہ اپنے تجربے ، تجزئیے اور تحقیق کی بنا پر اقبال کے موقف سے ہم آہنگ ہوئے تھے ۔میرے نزدیک ان کا وہی مقالہ اقبال کے ذہنی سفر کی مکمل روداد ہے ۔
سلیم گورمانی:
ہمہ خانہ آفتاب است
علامہ اقبال تصوف کو دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں ۔ ایک تصوف کی وہ قسم ہے جو مایوسی ، عاجزی اور ناتوانی کی معلم و مبلغ ہے۔ دوسری قسم کا تصوف ، زندگی و پائندگی اور حرکت و حرارت کا موید ہے ۔ علامہ پہلی قسم کے تصوف کو عجمی قرار دے کر اس کی مخالف کرتے ہیں جب کہ دوسری قسم کے تصوف کو ”اسلامی“ قرار دے کر اس کی تائید کرتے ہیں ۔ ( اگرچہ اقبال نے اپنے تخلیقی سفر کے درمیانی حصہ میں تصوف کو اسلام کی سرزمین پر اجنبی پودے کے نام سے بھی موسوم کیا ہے ) ۔مثنوی اسرار و رموز کے پہلے ایڈیشن میں حافظ شیرازی کی مخالفت میں شعر شامل کیے گئے تھے ۔ حافظ کے ارادت مندوں نے جوشِ عقیدت میں اسے تصوف کی مخالفت سمجھ کر اقبال ؒکے خلاف طوفان کھڑا کر دیا ۔ حالانکہ اقبالؒ تصوف کی اس قسم کی مخالفت کررہے تھے ۔ جس کانمائندہ حافظ شیرازی تھے ۔ یعنی کمزوری و ناتوانی والے تصوف کی ۔ ورنہ اسی کتاب میں بڑے بڑے صوفیاءکا تذکرہ نہایت ادب و احترام سے کیا گیا تھا ۔ مثال کے طور پر بوعلی قلندر پانی پتی علی ہجویری داتا گنج بخش ، میاں میر ، احمد رفاعی ۔
یہ صوفیائے کرام اقبال کی رائے میں حرکت ، حرارت اور قوت کے حامل تصوف کے نمائندہ تھے ۔ بال جبریل کے چند اشعار دیکھئے ۔
اک فقر سکھاتا ہے صیاد کو نخچیر ی
اک فقرسے کھلتے ہیں اسرار جہانگیری
اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری
اک فقر سے مٹی میں خاصیت اکسیری
اک فقر ہے شبیری اس فقر میں ہے میری
میراثِ مسلمانی،سرمایہ شبیری

قم باذن اللہ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن

یہ ہے اقبال کا فلسفہ تصوف جو ہمارے نزدیک قرآن کے پیش کر دہ نظام حیات کے تصور کے قریب ہے۔ اشفاق چغتائی (مرحوم ) کی زیر نظر تصنیف ” اقبال کا فلسفہ وجود و شہود “ اسی موضوع پر گہرائی اور گیرائی کے ساتھ بحث کرتی ہے ۔ اس تصنیف سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اشفاق چغتائی علیہ الرحمتہ اگر جوانی ہی میں اللہ کو پیارے نہ ہوتے تو نہ جانے فکر و فلسفہ میں کسی قدر آگے جاتے ۔ اشفاق چغتائی ہمارے عہد کے تخلیقی نابغہ منصور آفاق کے بڑے بھائی تھے ۔ ان دونوں کے کام کو دیکھ کر بے ساختہ یہ الفاظ نکلتے ہیں ۔ ”ہمہ خانہ آفتاب است “
لائق صد تحسین ہے منصور آفاق جس نے اشفاق چغتائی کے کام کو دستِ بر دِ زمانہ سے بچا کر اس کے حقیقی حق داران لوگوں کے سپرد کر دیا ہے اور اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حق بہ حق دار رسید ۔

حسن عباسی :
اشفاق چغتائی مرحوم گوناگوں خوبیوں کے مالک تھے ۔ ان کی زندگی میں فکر اور عمل کا وہ امتزاج نظر آتا ہے جو علامہ اقبالؒ اپنے شاہین میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک بھر پور اور مصروف عملی زندگی گذارنے کے باوجود اشفاق ؒنے تحریر کے لیے بھی وقت نکالا لیکن ان کے بیشتر مسودے ہنوزتشنہ طباعت تھے ۔ اب اشفاق مرحوم کے بھائی معروف شاعر منصور آفاق نے اس مسودات کو شائع کر وانے کا بیڑہ اٹھایا ہے جس کے لیے میں انہیں ہد یہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ جہاں تک مجھے یہ تحریریں پڑھنے کا موقع ملا ہے میںیقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پختگی ءفکر اور ندرتِ اسلوب، ہر دو لحاظ سے یہ تحریریں اس قابل ہیںکہ انہیں سنجیدہ قاری تک پہنچایا جائے ۔ میںامید رکھتاہوں کہ ان کتابوں کو ہماری علمی دنیا میں خاطر خواہ پذیرائی ملے گی۔
سید امتیازاحمد
”خودی “ علامہ اقبال کے فکر و شعر کے اساسی موضوعات میں سے ایک ہے لیکن اس حوالے سے ایک سوال اکثر ہمارے سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ فکر اسلامی میں بالعموم اور ہماری خانقاہی روایت میں بالخصوص خودی اور انا کی نفی پر زور
دیا گیا ہے ۔کثرت میں وحدت کا جلوہ دیکھنے اور قطرے کے دریا میں گم ہونے کا تصور پیش کیا گیا۔ بظاہر تصوف کا بنیادی کام ہی ذاتِ انسانی کی نفی اور ذاتِ باری تعالیٰ کا اثبات نظر آتا ہے ۔ہماری صوفیانہ شاعری کا پورا ذخیرہ بھی کچھ اسی قسم کا موقف پیش کرتا ہے لیکن علامہ کا موقف اس سے مختلف بلکہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ اسی صورتحال کی وضاحت اشفاق چغتائی کی کتاب فقرِ غیور کا موضوع ہے۔ اشفاق چغتائی جس کا نام لیتے ہی یہ مصرعہ ذہن میں گونج اٹھتا ہے ۔ خوش در خشید ولے شعلہ مستعجل بود
مجھے یقین ہے کہ اشفاق چغتائی کی یہ کتاب ہمارے ذخیرہ اقبالیات میں ایک گراں قدر اضافہ قرار پائے گی ۔
عبد اللہ ناصر:
یوںتو محمد اشفاق چغتائی کو ہم اپنے ہاتھوں سے دفنا آئے ہیں مگر یہ جسمانی انقطاع ہمارے روحانی انقطاع کی وجہ کبھی نہیں بن سکا ۔ محمد اشفاق چغتائی سے میرا روحانی تعلق اسی طرح قائم ہے جیسے ان کی زندگی میںتھا۔ وہ حقیقت میں ولی اللہ تھا ۔ اس کی عظیم رفاقت میں مجھے اس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ۔ اس کے اندر کا استاد ، معلم انسانیت ﷺ کی
نقل کرنے والا اور ان کی باتوں کو عام کرنے والا تھا ۔ اس جیسے شخص کی زمانہ ہمیشہ قدر کرتا ہے ۔
قاری نور حسین:(اسلام آباد)
محمد اشفاق چغتائی فضائل اخلاق سے آراستہ شخص تھے ۔ انہوں نے کبھی رزائل اخلاق سے اپنے دامن کو آلودہ نہیں ہونے دیا ۔ ان کی شخصیت کا یہی اعلیٰ وصف ان کی تحریر کی پہچان تھا۔ انہوں نے شاعری کی تو ایک اعلیٰ اخلاقی معیار قائم کر دیا ۔ نثر لکھی تو معیار کو اور بہتر بنایا اور گفتگو کی تو سننے والے پر سحر طاری کر دیا ۔
پروفیسرنور ینہ تحریم بابر:
میری اب تک کی سروس میں اشفاق مر حوم بہترین کو لیگ تھے ۔ بہت اچھے انسان تھے ۔ سچے اور عملی مسلمان تھے ۔ اخلاقی اعتبار سے انتہائی اعلیٰ درجے پر فائز تھے ۔ بے انتہائی محنتی تھے ۔ بیمار ہونے کے باوجود مسلسل کام کرتے تھے ۔ سوشل بہت تھے ۔ مگر سوشل ہونے کو کام پر اثر انداز نہ ہونے دیا ۔ وضع داری اور مروت تھی مگر غیر ضروری نہیں ۔خواتین کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ ان سے پہلے بھی شعبہ ءاردو میں لوگ آئے اور بعد میں بھی مگر جتنی وہ خواتین کی عزت کرتے تھے اور میں نے نہ دیکھے ۔ دوستوں کی ہر ممکن مدد کرتے تھے ۔ اگر کسی نے کہا تقریر لکھنی ہے تو لکھ کر دے دیتے تھے ،دوستوں کے کام ہوتے ،وہ اپنی کار پر انہیں لیے پھرتے ۔ کہتے تھے ہمارا کام فیض پہنچانا ہے ۔ ہمیں دینا آتا ہے ۔ ہمارا کام ان کی مدد کرنا ہے ۔اشفاق مرحوم سچے عاشق رسول ﷺ تھے ۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر بشیرسیفی مرحوم نے ایک اجلاس کے دوران کہا کہ جس طرح سیرت النبی ﷺ میں علامہ شبلی نعمانی صفحے کے صفحے کالے کرتے جاتے ہیں ۔ یہ نہیں ہونا چاہیے ۔ بات مختصر اور جامع ہونی چاہیے تو اشفا ق مرحوم بھر ے پنڈال میں اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں یہاںIntrupt کرنا چاہوں گا اور کہا کہ یہ بات عام ادیبوں کے لیے تو درست ہے مگر رسول ﷺ کی ذاتِ اقدس کے لئے کوئی جتنی بھی چاہیے تعریف کرے ،مبالغہ کے ذیل میں نہیں آتی اور پھر کہا کہ سب درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر روشنائی اور آنحضور ﷺ کی مدح شروع کر دی جائے تو یہ سب ختم ہو جائیں گے مگر تعریف مکمل نہیں ہو سکے گی ۔
اشفاق چغتائی کا علمی مقام و مرتبہ بھی بہت بلند تھا ۔ کتاب دوست آدمی تھے ۔ مطالعہ کرتے تھے، نوٹس لیتے تھے ۔ لائبریری اکثر آتے جاتے تھے ۔ وہ یونیورسٹی میں اسی لیے آئے تھے کہ زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں اور لوگوں تک پہنچائیں ۔ ایم ۔ اے اردو کا نصاب لکھا جا رہا تھا تو سب لوگ فردوس بریں پر کام کرنے سے کترا ر ہے تھے مگر اشفاق چغتائی مرحوم نے وہ کام چند دنوں میں خوش دلی سے کر دیا ۔ تحصیل علم کی خواہش جیسی اشفاق مرحوم میں تھی ویسی کسی اور ساتھی میں نہیں دیکھی ۔
شیخ غلام مصطفی :
زندگی کے آخر ی دنوں میں جب محمد اشفاق چغتائی کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آ ف میڈیکل سائنسز میں داخل کر ایا گیا تو میں ان کے ہمراہ تھا ۔ وہاں پر موجود لیڈی ڈاکٹر صاحبہ نے ان کی ہسٹری شیٹ مکمل کرتے ہوئے ان سے سوال کیا ۔ کیا آپ سموکنگ کرتے ہیں تو پروفیسر اشفاق نے ذرا توقف سے جواب دیا۔ ” الحمد اللہ میں نے آج تک کوئی گناہ نہیں کیا “ ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے حیرانی سے میری جانب دیکھا تو میں نے اثبات سے یوں سرہلایا کہ ڈاکٹر مطمئن ہوگئی ۔
اشفاق بچپن ہی سے میرے قریب رہا تھا ۔ وہ اوئل عمر ہی سے پنجگانہ نماز کا عادی تھا ۔ سخت سے سخت تکلیف میں بھی روزہ قضا نہیں کرتا تھا ۔ سچ اور اخلاص اس کے دو بنیادی اوصاف تھے ۔ عشقِ رسول ﷺکو سرمایہ حیات جانتا تھا ۔ ملتِ اسلامیہ کے اتحاد اور ان کی مملکتِ واحدہ کی خواہش جیسی اشفاق کے اندر نظر آتی تھی آج کسی شخص کے اندر نظر نہیں آتی ۔ اپنے فکر وعمل کے حوالے سے وہ قرون اولیٰ کا ایسا مسلمان نظر آتا تھا ۔ جو دین اسلام کے لئے تن من دھن سے سب کچھ قربان کر نے کے لیے تیار ہوا۔
ڈاکٹر مشتاق احمد خان :
اشفاق میرا اعظیم بھائی تھا ۔ اس کی جدائی سے میں ایک بھائی اور عالم اسلام ایک عظیم مفکر سے محروم ہو گیا ہے ۔ اس کی خواہش ہر قیمت پر عالم اسلام کا اتحاد اور احیا تھی وہ اپنی زندگی میں تو اس خواہش کو پورا ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکا لیکن ایسا ادب ضرور تخلیق کر گیا جو اپنے اندر عالم اسلام کے اتحاد کی طاقت رکھتا ہے ۔ یہ ادب اسے عالمی سطح پر عالم اسلام کا بڑا لیڈر اور دانشور ثابت کرتا ہے ۔ حرف کی سطح پر یہ عظیم سچائی اس اسلام کیلئے بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ اور اس کا ابلاغ وقت کی عین ضرورت ہے ۔
تنویر حسین ملک :
میں اشفاق چغتائیؒ کو شاگردِ اقبالؒ کے طور پر دیکھتا ہوں ۔ ایک ایسا شاگرد جو صرف اپنے استاد کے کہنے کے بموجب چلتا تھا ۔ ایک ایسا مرید جو ہزاروں میل دور بیٹھا اپنے پیر سے روحانی تعلق قائم کئے رکھتا ہے ۔ محمدا شفاق چغتائی ؒکی زندگی اعلیٰ روحانی مدارج سے عبارت تھی ۔ اسکی تحریر سچ اورحق کا نمونہ تھی ۔ وہ محبت بھی کرتا تو یہ دیکھ لیتا تھا کہ اس کا محبوب کوئی دشمنِ خدا اور رسول تو نہیں ہے ۔

حصہ