حدِ ادب
انوارحسین حقی
موسیٰ کلیم مرحوم اور خوشبو کی ہجرت
____________________________
موت سے کسی کے لیئے فرار ممکن نہیں ہے ۔ لیکن بہت سے لوگ اس دنیا سے تو چلے جاتے ہیں مگر اپنی بے کنا ر محبت او ر حسین یادیں چھوڑ جاتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں میں موسیٰ کلیم بھی شامل ہیں ۔۔۔ میں شام ڈھلے اُس موبائل فون کال کو کبھی نہیں بھول پاؤں گا جس میں ایک لرزتی ہوئی آواز میں برادر،مختار خالد رانانے لرزتی اور سہمی ہوئی آواز میں اطلاع دی تھی کہ’’ موسیٰ کلیم اعوان کا انتقال ہو گیا ہے ‘‘303055_163182200431861_1724956029_n
۔۔۔بجلی بن گرنے والی اس اطلاع سے مَیں گویا سکتے میں آگیا تھا۔ اعصاب جواب دے گئے تھے ۔طبیعت کچھ سنبھلی تو موسیٰ کلیم کی سدا بہار شخصیت کے تمام روپ سروپ میری آنکھوں کے سامنے تھے۔اور میں سوچ رہا تھا کہ
تُونے پہلے تو لٹائی تھی زباں ہی لیکن
اب یہ خبر کہ جاں تک بھی لٹا دی تونے
جو ترے تن کی جگہ قبر سے اب اُٹھیں گے
ہائے کس طرح کے شعلوں کو ہوا دی تُونے
تُو جو بچھڑا تو میرا قرض بڑھا کر بچھڑا
تیری فرقت سے ہوا بار دوبالا میرا
مُجھ کو درکار ہے اب اور بھی ثابت قدمی
اور شدت سے پڑا درد سے پالا میرا
بھاگتے دوڑتے ’’ الفیصل شہید ‘‘ پہنچے تو خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ موسیٰ کلیم کے بھائیوں ، عزیزوں اور دوست احباب کی ہچکیاں کبھی کبھی گہرے سکوت کو توڑتی تھیں۔ سکوت اور سوچ مجھے اِسی مقام کا دس سال پہلے کا ایک منظر یاد دلانے لگی جب میں محترم کلیم اللہ ملک کی موت کی خبر سن کر ’’ الفیصل شہید‘‘ پہنچا تھااس وقت بھی یہاں موت کا راگ سنا یا جا رہاتھا۔ کلیم اللہ ملک کی موت کے بعد اچانک آن پڑنے والی ذمہ داریوں نے موسیٰ کلیم کو صبر و استقامت کا پہاڑ بنایا ہوا تھا۔ اپنے والد کی وفات پر وہ مجھ سے لپٹ کر خوب روئے تھے۔ لیکن اس کی وفات پر ۔۔۔۔ معاذ بیٹا ؟۔۔۔۔۔۔۔ تو ابھی بہت چھوٹا ۔۔۔ بہت معصوم ۔اس کے نزدیک موسیٰ کلیم اس کے لئے بہت پیار کرنے والا ایک باپ ہی تھا۔ یہ معصوم نہیں جانتا تھا کہ ’’ کیا دولتِ نایاب لُٹی ہے موت کے ہاتھوں‘‘۔۔
13501964_1133865073302437_1566442954322312947_n
موسیٰ کلیم کی جدائی کا غم ۔۔۔۔ ہم سب کا مشترکہ دکھ بن گیا ۔ کئی سال بیتنے کو ہیں اس خُوش ذوق ، خُو ش پوش، خُوش مذاق اور خُو ش مزاج شخص کو مرحوم لکھتے ہوئے اب بھی کلیجہ مُنہ کو آتا ہے۔موسی کلیم اعوان ۔۔
سرزمینِ میانوالی کا گراں قدر اثاثہ اور ہم سب کے لئے ایک مخلص دوست کی حیثیت رکھتے تھے۔
موسی ٰ کلیم کی ذات میں ایک عجیب طرح کا سحر ، جاذبیت اور کشش تھی۔وہ بے لاگ اور دوٹوک بات کرنے اور لکھنے کے قائل تھے۔ستائش کی تمناء اور صلہ کی پرواہ سے یکسر بے نیازتھے۔ہر نیکی سے محبت اور زشت سے نفرت۔۔۔۔ جس سے محبت کی برملاکی۔۔اور جس سے ناراضگی ہوئی اس کا اظہار بھی بر ملا کیا۔اس کی کمزرویاں عام انسان کی کمزوریاں تھیں لیکن موسیٰ کلیم کی خوبیاں عام انسانوں سے کہیں زیادہ تھیں۔وہ یقیناًفرشتہ نہ تھے ،لیکن فرشتہ سیرت ہونا شرفِ انسانیت کی معراج ہے۔
موسیٰ کلیم میں ایک اچھے قلمکار کی تمام خوبیاں اپنے مکمل اظہاریے کے ساتھ موجو د تھیں۔ان کی بہت سی تحریریں میری نظر سے گذریں ان تحریروں میں سے اکثر کو میں نے عروض و سخن کی خصوصیات سے مزین پایا ان کے کالم فکر و فن کا اعلیٰ نمونہ ہوتے تھے۔وہ اپنے موضوعات میں حیات و کائنات کے تمام پہلوؤں کی عکس بندی کو ممکن بنانے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔اور کہیں کہیں ماحول اور معاشرے پر لطیف طنز اور ہلکے ہلکے اشارے بھی کرتے تھے۔ان کے ان اشاروں میں نیک نیتی اور اصلاح و فلاح کی خواہش نمایاں ہوتی تھی۔۔ موسیٰ کلیم نے صحافت میں اس وقت قدم رکھا جب ہماری صحافت ایک نظریے اور مشن سے انڈسٹری میں بدل رہی تھی۔ اور اس شعبے سے ہر کس و ناکس کا گذرنا آسان ہو گیا تھا لیکن موسیٰ کلیم نے صحافت کو الفاظ کی بازیگری بنانے کی بجائے سے ’’کمٹ منٹ ‘‘ کی صحافت کی ۔ وہ نظریے اور شعور کی صحافت کے قائل تھے۔ انہوں نے روایتی سماج کے خلاف ایک شعوری ردِ عمل پیدا کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے صحافتی دنیا میں اپنی پیشہ ورانہ جد وجہد سے اپنے لئے ایک قابلِ احترام مقام پیدا کیا وہ پریس کلب میانوالی کے بانی جنرل سیکرٹری بھی رہے۔انہوں نے اپنی صحافت کے حوالے سے جو شعور بیدار کیا اس کا تائثر کسی بھی صورت ان سے محبت کرنے والوں کے دلوں سے محو نہیں ہو سکتا۔
میری نظر میں میرے عزیز اور میرے دوست موسیٰ کلیم کی زندگی اس پھول کی مانند تھی جو جب تک کھلا رہتا ہے۔ خوشبو بکھیرتا رہتا ہے اور جب مرجھا جاتا ہے تو اس کا آخری پیغام بھی خوشبو ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ موسیٰ کلیم کی موت خوشبو کی ہجرت ہے۔وہ اپنے کردار کی خوشبو اور خوش مزاج شخصیت سے پورے میانوالی کو مہکا گئے ہیں۔موت کی آندھی نے اس زندہ دل شخصیت کی زندگی کا چراغ تو گُل کر دیامگر اس کی یادوں، تحریروں،تقریوں اور صحافت سے جو آفتاب طلوع ہوا ہے اس سے فکر و نظر کی وادیوں میں ہمیشہ روشنی رہے گی۔
دوستی اورمحبت کا شہابِ ثاقب موسٰی کلیم میانوالی کے مرکزی قبرستان میں اپنے مرحوم والد کے پہلو میں محو استراحت ہے۔ان کے عزیز دوست اور چاہنے والے سب پُرنم آنکھوں اورٹھنڈی سانسوں کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ جو نیا گھر اُس نے بسالیا ہے۔خداوندِ کریم آپ کو مٹی کے اس گھروندے میں سکھی اور پُر امن رکھے۔ اس کی مرقد پُر نور ہو اور اس کے درجات بلند ہوں۔
علم دوست و قلمکار با مروت وباشعور
آہ ۔۔ آہ
جواں مرد موسیٰ کلیم اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تصویرِ پدر موسیٰ کلیم اللہ

حصہ