سماجیات

حضرت بابا فیس بک والی سرکار

حضرت بابا فیس بک والی سرکار …………….. تحریر نوشین حسین
چند سال قبل تک تو ہمیں جب کہیں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تھا، ماہرین سے رجوع کرنا پڑتا تھا۔ اب یہ معاملہ حضرت بابا فیس بک والی سرکار نے آسان کر دیا ہے۔ ’’لاگ ان‘‘ کیا اور لیجئے جناب دنیا جہاں کے ماہر مذہبی اسکالر، سیاسی تجزیہ کار، ماہر عمرانیات، ماہرِ ماحولیات، ڈاکٹر، حکیم غرض ہر شعبے میں فیس بک والی سرکار آپ کی مددگار ہو سکتی ہے، اب کیا کیا گنوائیں بس یوں سمجھ لیں’ جتنے اکاؤنٹ، اتنے ماہرین اور صرف اتنا ہی نہیں، ہمیں تو اتنے ادیب اور شاعر کبھی کتابوں میں میسر نہیں آئے جس قدر فیس بک پر مل گئے ہیں۔ غالب، فیض، فراز اور اقبال کی شہرت کا سہرا بھی فیس بک بابا کے سر ہی جاتا ہے۔ فیض احمد فیض سے اس قدر فیض تو کبھی ’مکالماتِ فیض‘ سے بھی حاصل نہ ہو سکا۔ ان شعراء کرام کے ایسے ایسے شعر پڑھنے کو مل رہے ہیں جنھیں لکھنے کا جرم یقینا انھوں نے اپنی زندگی میں تو نہیں کیا ہو گا۔ یہ تو شکر ہوا کہ ان میں سے کوئی حیات نہیں ورنہ اپنی شاعری کا یہ حال دیکھ کر دل کا عارضہ ہونا یقینی تھا۔ یہ سعادت فی الحال ان چند شعراء کو ہی حاصل ہو سکی ہے، وقت کی کمی کے سبب باقی اس سے محروم ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں ان کے کلام کو بھی اعزاز بخشا جائے گا۔ زبیدہ آپا کے وہ وہ ٹوٹکے برآمد ہوئے کہ انھیں بھی ہاتھ جوڑتے ہی بنی۔
اس سر زمین میں ٹیلنٹ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ بس ہمیں ہی احساس نہ تھا۔ صد شکر کہ فیس بک بابا کی آمد سے ہمارے ناقص مشاہدے کو درستی کا موقع میسر آیا، طرح طرح کے جواہر موجود ہیں بس انھیں تراشنے کی دیر تھی اور یہ موقع ہمارے ہاتھ آگیا ہے تو اسے جانے کیسے دیں۔
ایک صاحب نے اپنے اسٹیٹس میں دو طویل سطریں لکھ ڈالیں، پہلی کے آخر میں لفظ غالب لکھا تھا، جسے پڑھ کر اندازہ ہوا کہ یہ سطریں دراصل دو مصرعے ہیں اور لفظ ’غالب‘ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ خدانخواستہ یہ غالب کا شعر ہے، یہ پوچھنے پر کہ آپ نے اسے ’دیوانِ غالب‘میں کہاں پایا۔ جواب ملا ’دیوان فیس بک’ اور ’دیوان گوگل‘ پر تو یہی موجود ہے۔ اس سے اگلے دن یہی ظلم اقبال کے ساتھ ہوتا نظر آیا۔ شاعرِ مشرق کے کلام کو مشرق سے مغرب تک کھنگال ڈالا مگر آنکھیں اس شعر کا دیدار کرنے سے محروم ہی رہیں۔ بالآخر اپنی کم علمی پر لعن طعن کرتے ہوئے پوچھنے کی جسارت کر ہی لی کہ جناب بتایئے تو سہی یہ شعر کب اور کن کیفیات کے زیرِ اثر لکھا گیا تھا، جواب ندارد۔ وہ دن اور آج کا دن پھر کسی سے پوچھنے کی ہمت نہیں کی۔ روزانہ کی بنیاد پر یہ گنہگار آنکھیں یوں ہی فیس بک عالموں اور فاضلوں کے لاتعداد شاہکار دیکھتی ہیں مگر کچھ کرنے سے قاصر۔ بس اپنے ناقص علم پر کڑھتے رہنے میں ہی عافیت جانی۔ ہمارے سامنے نجانے کیسے کیسے علم کے دریا بہہ رہے ہوتے ہیں اور ایک ہمارا معلومات سے بے بہرہ اکاؤنٹ، تُف ہے۔
بات صرف غالب اور جالب تک محدود رہتی تب بھی کسی نہ کسی طرح ہضم ہو جاتا۔ اب تو شاعروں کے ساتھ ساتھ علمائے کرام کی ایک طویل قطار ہے جو آپ کی عاقبت سنوارنے بیٹھی ہے۔ کن کن اعمال کے سرزد ہونے سے کون دن میں کتنی مرتبہ اسلام کے دائرے سے خارج ہوگا، یہ تمام اہم معلومات اس پر درج ہیں۔ دوبارہ داخلے کا طریقہ البتہ عموماََ نہیں بتایا جاتا، اس کے لئے آپ کو خود ہی زحمت کرنی ہو گی۔ بیش بہا تصاویر شیئر کی جاتی ہیں جن میں کئی احادیث درج ہوتی ہیں۔ ہاں مگر ان میں دور دور تک کہیں حوالہ نظر نہیں آئے گا۔ اب اگر آپ پوچھ بیٹھیں کہ یہ صحیح مسلم میں موجود ہے یا صحیح بخاری میں، یا پھر صحاح ستہ کی کسی اور کتاب سے اخذ کی گئی ہے تو جناب دین کے معاملے میں زیادہ سوال نہیں کیا کرتے، یہی کیا کم ہے کہ ایک بھلے شخص نے وہ علم آپ تک پہنچا دیا جو اس جیسے ہی کسی اور بھلے مانس نے شیئر کیا تھا، یہ تو ہمارے ایمان کی کمزوری ہوئی، اگر اتنا ہی دین دار ہوتے تو چپ چاپ عمل نہ کر لیتے لکھی باتوں پر، یہ کیا جاہلوں والی بات کر دی، حوالہ، ثبوت، لاحول ولا! جتنے گنہگار ہم فیس بک پر خود کو محسوس کرتے ہیں اتنے گناہ تو شاید نکیرین بھی ہم سے نہ اگلوا سکیں۔ اگر دن بھر فیس بک پڑھ لیں تو نیم عالم خطرہ ایمان تو آپ بھی بن ہی جائیں گے۔
یہ فیس بک نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجئے
اک علم کا دریا ہے اور ڈوب ’ہی‘ جانا ہے!

Back to top button