‏شرمندگی کے جھوٹے پیمانے ………………. تحریر :. مہوش بدر

کچھ دن سے ایک یونیورسٹی کے باہر ہونے والے ایک مظاہرے پہ بحث سن اور دیکھ رہی ہوں۔ کالج کے طالب علموں نے دیوار پہ سینیٹری نیپکین لگائے اور ان پہ کچھ فکر آمیز جملے تحریر کئے۔
بحیثیت عورت مجھے ان طالب علموں کے اس عمل پہ رشک آیا۔ ہمیں بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ چونکہ ہم صنفِ نازک ہیں اس لئے ہمیں بہت سی باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ “دوپٹہ ایسے اوڑھنا، زیادہ میک اپ نہیں کرنا، اونچی ہیل نہ پہنو، زیادہ زور سے باتیں نہ کرو، اور ہاں حیض کے اوقات میں جمیز بانڈ کی اولاد بن جاؤ۔”
مرد حضرات کو اس بات کا صحیح سے ادراک نہ ہو لیکن حیض کے متعلق عورت کی زندگی میں معاشرہ ایک طرح کی ایمرجنسی نافذ کئے رکھتا ہے۔ ہم عورتوں کے دماغ میں بیٹھا دیا جاتا ہے کہ حیض ایک “ناپاک” اور “خراب” چیز ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کسی کو معلوم پڑ گیا کہ آپ کو حیض آ رہا ہے تو نا جانے وہ آپ کے بارے میں کیا سوچے گا۔ سینیٹری نیپکین ایسے کاغذوں میں لپیٹ کے خریدے جاتے تھے جیسے اس میں صحت اور صفائی کی اشیاء نہیں بلکہ چرس یا کوکین خریدی جا رہی ہے۔ ان حالات میں خوب دل لگا کے جھوٹ بولنا بھی جائز ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پہ اگر دوران حیض کوئی باہر چلنے کا کہے تو فوراََ کوئی بہانہ بنا لیں جیسے کہ پیٹ خراب ہے، سر میں درد ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسکے علاوہ حیض سے متعلق سوال کا جواب دینا بھی ایک غیر اخلاقی عمل گردانا چاہتا ہے۔ (کاش کہ کوئی سب کو بتلائے کہ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ حیض سے جڑی کئی بیماریاں ہوتی ہیں، جن میں ڈپریشن کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔) لہٰذا ان پہ غور کرنا آپ کی اپنی صحت کے لئے ہی مفید ہے۔)
‏‏اس یونیورسٹی کے شاگردوں کے اس عمل پہ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جناب یہ مسئلہ پاکستانی عورتوں کو درپیش اصل مسائل (تیزاب پھینکنا یا زندہ جلانا وغیرہ) کی ترجمانی نہیں کرتا۔ لیکن ذرا ایک لمحے کو ٹھہریے اور سوچیے کہ احتجاج کرنے والوں نے کب کہا کہ یہ مسئلہ پاکستان کی تمام عورتوں کو یکساں درپیش ہے؟ وہ تو معاشرے کہ ایک طبقے کی نمائندگی کر رہی ہیں جن کو واقعی اپنی روز مرہ زندگی میں ایسے مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ گاؤں کی عورت جو مرد کے شانہ بہ شانہ کھیتوں میں کام کرتی ہے اس کے لیے واقعی شاید حیض اور سینٹری نیپکن ایک معمولی سا مسئلہ ہو لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حیض اور اس سے جڑی باتیں پاکستان کی کسی عورت کا مسئلہ نہیں۔ بلکہ حیض سے جُڑی بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جن کے حوالے سے معاشی طور پہ کمزور طبقہ اس لئے بھی مدد نہیں ڈھونڈتا کیونکہ اس کا اول تو اسے علم نہیں ہوتا دوسرا یہ ‘شرم’ کی فضا اسے اس بارے میں بتانے کی جسارت نہیں کرنے دیتی۔
‏اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے یہ تو مراعات یافتہ لوگوں کے رونے ہیں۔ جن کو ویسے ہی ہر طرح کا عیش و آرام میسر ہے۔ دیکھا جائے تو بات کسی حد تک غلط بھی نہیں۔ پاکستان میں ‘فیمینزم’ کا مطلب اخذ کرنے میں کافی لوگ زیادتی تو کرتے ہی ہیں۔ مثال کے طور پہ وہ خواتین جنہوں نے ساری زندگی والد کی کمائی پہ گزاری اور پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اپنے خاوند کے ماتحت ہوگئیں۔ پھر ‘بیگم صاحبہ’ کلچر کا استعمال انہوں نے جی بھر کے کیا۔ ایک نو عمر بچی رکھ لی جو ان کے بچے سنبھالتی رہے، ایک خادم رکھا جو ان کو ہر جگہ ڈرائیو کر کے لے جائے۔۔۔ اور باقی سارا وقت کمیٹی لنچ اور لان کی نمائشوں پر لگا دیا – ان کے منہ سے حقوق نسواں کا راگ تھوڑا معیوب سا لگتا تو ہے۔ لیکن رکئے! ان بیگم صاحبان کا بھی تعلق ان مسائل سے ہے۔ کیونکہ اتفاقاََ حیض محل میں بیٹھی عورت کو بھی آتا ہے اور کھیت میں کام کرنے والی عورت کو بھی۔ ساتھ ہی ساتھ اس سے جڑے مسائل کا بھی انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔
‏شاید مراعات ملنے والے بھی اس مسئلے پہ بات کرنا چاہتے ہیں اور 18 گھنٹے ڈیوٹی دینے والی خواتین بھی جو بہت مشکل سے اپنے بچوں کے پیٹ پال رہی ہیں۔ اپنے تئیں، ان طالب علموں نے ایک بہت اہم مسئلے پہ سب کی توجہ مرکوز کروائی ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جو کل اپنے گھر بنائیں گے، ایک نئی نسل کو پروان چڑھائیں گے۔ اگر ان کی یہ سوچ قائم رہی اور انہیں یوں ہی معاشرے کے مسائل پہ بات کرنے کی ہمت رہی تو ان کے بچے اس خوف اور پریشانی کا شکار نہیں ہوں گے جیسے ہم بھگت چکے۔
‏جب امیر طبقہ یا زندگی کے تمام سہولیات سے فیض یاب طقبہ معاشرے میں تبدیلی چاہتا ہے تو اس تبدیلی کا آنا زیادہ ممکنات میں سے ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ یہ امیر لوگ ہیں انہیں کیا معلوم تکلیف کیا ہوتی ہے کچھ حد تک درست ہے۔ مگر اس بات پہ ان کے کسی مثبت عمل کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنانا نقصان دہ ہے۔ وہ غریب عورت جو تعلیم یافتہ بھی نہیں، جس کے پاس ویسے ہی زندگی کی مشکلات اتنی زیادہ ہیں کہ وہ وقت نکال کے اپنے حقوق کے لئے این جی او کیا بچوں کے لئے ٹھیک سے اسکول تک نہیں ڈھونڈ سکتی۔۔۔ کیا آپ کی امید اس سے ہے کہ وہ حیض کی بابت ایک آگہی مہم چلائے؟
ویسے بھی کچھ ہماری قوم کو عورتوں کے حقوق کی آگاہی دینے والوں یا حقوق نسواں کے لئے آواز اٹھانے والوں کو محض غلط ثابت کرنے کے لئے ان کے خلاف تنقید برائے تنقید کرنے کا شوق ہے۔ تازہ مثال شرمین عبید چنائے کی ہے جس نے فلم کیا بنا دی اس کے پیچھے عوام پڑ گئے کہ ملک کو بدنام کر رہی ہے۔ جو مولوی حضرات منبر پہ بیٹھ کر یا مولوی زدہ سوچ رکھنے ولے لوگ سارا دن مردوں کو برین واش کرتے ہیں کہ عورت ان کی ملکیت ہے اور معاشرے میں ایک بہت بدترین بیماری کے پھیلاؤ کی مسلسل ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف بولنا کفر کے زمرے میں آتا ہے۔
‏سوال یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکی ڈھابے پہ بیٹھ کے چائے پینا چاہتی ہے اور اس کو وہ اپنا حق سمجھتی ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟ اور جو عورت کھیت میں بیٹھ کے ڈھابہ چلا رہی ہے اس میں کیا برائی ہے؟ سیدھا سا جواب ہے، کوئی بھی نہیں۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پدرانہ نظام میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایک عورت اگر یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ حیض، جو ایک قدرتی عمل ہے اور جس سے انسان کی بقا جڑی ہوئی ہے اس کی وجہ سے عورت کو ناپاک یا گندہ یا کسی ‘خفیہ مشن پہ موجود ایجنٹ’ بنانا بیوقوفی ہے ۔۔۔ تو اس میں کیا برائی ہے؟ حیض کے بارے میں بات کرنے میں شرم کیوں محسوس کرنی چاہیے؟ کیا یہ ایک عام سی بات نہیں؟ کیا ہماری بچیوں کو اس بات کی سمجھ نہیں ہونی چاہیے کہ حیض آخر ہے کیا؟
‏اور ہم کس معاشرے کی اقدار کی بات کر رہے ہیں؟ جہاں ویسے ہی غیرت کے نام پہ عورت کا قتل جائز بنا دیا جاتا ہے؟ جہاں عورت کے حقوق کے لئے ایک بل پاس کروانے کے خلاف مولانا حضرات سڑکوں پہ ریلیاں نکالتے ہیں اور یہی اعتراض کرنے والے ان تختہ دار اور غیرت کے ٹھیکے داروں کے سامنے خاموش رہتے ہیں۔
عورت اور غیرت کو جوڑ کے جتنا پامال ہم نے عورت کو کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اپنے معاشرے اور اس کی اقدار کی عزت ایک جگہ مگر جن اقدار میں کھوکلی شرم و حیاء اور پاکدامنی اور غیرت کے دار بنا کے عورت کو ٹانگ دیا جاتا ہے، ان اقدار کے اوپر سوال اٹھانے والے بہادر لوگ ہیں۔ اور ایسی اقداروں کا سرے سے مٹ جانا ہی معاشرے کی بقاء کا سبب بن سکتا ہے۔
‏عورت کے حق کے لئے بات کرنے والا ہر انسان قابل عزت ہے۔ ہر شخص جو عورت کو انسان سمجھے گا اور اس کے ساتھ ہونے والے مسائل پہ روشنی ڈالے گا اس کو بولنے کا پورا حق ملنا چاہیے۔ آپ اس سے اختلاف رکھ سکتے ہیں یا اپنے حساب سے اس میں کمی بیشی کے مشورے دے سکتے ہیں لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں کیا معلوم؟ یا یہ کیوں بول رہے ہیں؟ یا یہ کہ انہیں بولنے کا کوئی حق نہیں وغیرہ۔
‏شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
‏اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

حصہ