مولانا، ماروی اور سماجی رویے……….. تحریر . نسیم کوثر
میری رائے میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہم اپنے مخالف نظریات کو بھی وقعت دینا سیکھیں۔خود ہی کو حق پر مت سمجھیں۔دنیا کا کوئی نظریہ حتمی، بہترین اور خامیوں سے ماروا نہیں ہے۔ایسا خیال کر لینا اپنے اوپر علم اور نشوونما کے دروازے بند کر لینے کے مترادف ہے۔یہ انتہا پسند سماجی رویوں کی ترویج کا بھی سبب ہے۔باہمی احترام اور رواداری جو ایک دوسرے کے نقط نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنے اور ناقد نقطہ نظر کو جگہ دینے سے حاصل ہوتی ہے پر امن سماجی تعلق کی پہلی شرط ہے۔
ہمارا نظام تعلیم، چاہے وہ مدرسے کا ہو یا مکتب کا، ایسا ہونا چاہیے جس میں نظریاتی اجارہ داری نہ ہو۔ مخلوط نظریات و مظاہر کو غیر جانبداری سے پیش کرتے ہوئے ان کے مثبت و منفی پہلو اجاگر ہونے چاہیں۔ جب تقابل اور موازنہ ہو گا تو فرد کی نفسیات میں ہٹ دھرمی، انتہا پسندی اور خود راستی کے عناصر کم ہوں گے۔
ماروی سرمد اور مولانا حمدللہ، دونوں کا ہی رویہ قابلِ ستائش نہیں تھا۔ ماروی سرمد کو البتہ اتنی چھوٹ دی جا سکتی ہے کہ ابتدا اس کی طرف سے نہیں ہوئی۔مولانا بیرسٹر صاحب کی گفتگو سن کر اپنے اعصاب پر قابو نا رکھ سکے اور ماروی کو نقطہ نظر پیش کرنے سے روکنے لگے۔ دو دفعہ ویڈیو دیکھ کر مجھے یہی محسوس ہوا کہ مولانا صاحب ابلاغ کی مہارت سے عاری ہیں اور ان کے اعصاب جواب دے گئے۔ لیکن یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ انہوں نے بیرسٹر صاحب کی بجائے ماروی صاحبہ کو ہی کو قابلِ گرفت کیوں سمجھا؟ اس کے پیچھے بھی پوری سائنس ہے جو نظریات کی نفسیات میں نفوذ ہو کراکتسابی رویے کی صورت میں ظاہر ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
رویہ مکمل طور پر ایسی شے ہے جس کی تربیت ہو سکتی ہے اور جسے پریکٹس سے سیکھا اور بدلا جا سکتا ہے لیکن یہ پریکٹس کہاں ہو؟ یقیناً ان تعلیمی اداروں میں جہاں سے ہم سب زندگی جینے کے طریقے سیکھنے جاتے ہیں اور اب جن کا نمبر بطور تعلیم و تربیت کے ماخذ گھر سے پہلے آتا ہے۔ کیا ہمیں وہاں یہ سہولت میسر ہے؟
مکاتب میں ہمارے اساتذہ چاہے کتنے ہی دقیانوس یا جدید علوم اور تعلیمی مہارتوں سے بے بہرہ ہیں لیکن سیکھنے والوں کے لیے وہاں پھر بھی کچھ نا کچھ سامان موجود ہے۔ اردو ادب، انگلش ادب، لائبریری کی کتب، ٹی وی ڈرامہ، فلم، سائنس کی کتب یہ وہ سب دروازے ہیں جن کے ذریعے ہم اپنا علمی کینوس بڑا کر کے کچھ نا کچھ ذہنی وسعت پیدا کر سکتے ہیں جو ہمارے متحمل رویے کی صورت اجاگر ہو جاتی ہے۔ لیکن مدارس کی صورت حال کیا ہے؟ وہاں کے طالب علم کی شخصیت پالش کرنے کے لیے کن ذرائع اور کن حوالوں کا استعمال کیا جاتا ہے؟ سوائے کراچی، اسلام آباد اور دیگر چند ایک بڑے مدارس کے جہاں جدید تعلیم کا انتظام ہے باقی چالیس پینتالیس ہزار مدارس بنیادی اسلامی تعلیم جو کہ خالص احکامات سے آگہی کی تعلیم ہے اور یک فکری کی سختی سے مقلد ہے، پر ہی تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ ہر قسم کی دیگر اخلاقی و دنیاوی تعلیم انہوں نے خود پر حرام قرار دے رکھی ہے۔ نصاب کے علاوہ ایسی غیر نصابی سرگرمیاں بھی وہاں ممنوع ہیں جو کسی قسم کی تربیت میں حصہ لے سکتی ہیں۔ ہم مدارس کے نظام تعلیم پر انگلی اٹھا کر ترامیم اور اصلاحات کی بات کرتے ہیں تو ہمیں مذہب دشمن کہا جاتا ہے۔
مذہب زندگی کے مخصوص پہلوؤں پر ہماری رہنمائی کرتا ہے لیکن بہت سے دنیاوی معاملات ایسے ہیں جن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ماہرین کے ان تربیتی course and discourse سے رہنمائی لینے کی ضرورت پیش آتی ہے جو انہوں نے مختلف سائنسی و نفسیاتی تجربات سے اخذ کیے ہیں۔ہماری خواہش اتنی ہے کہ فقہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مدارس میں زیر تعلیم طلباء علت و معلول کی حرکیات کے متعلق معلومات اور تربیت بھی حاصل کریں۔ یہ انہیں عملی زندگی میں بہتر طریقے سے ایڈجسٹ کرنے اور بہتر اور قابلِ تقلید انسان بننے میں مدد کرے گا۔ کیا مدارس میں پڑھتے ہمارے ہم وطنوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مخصوص سماجی موقع پر دانشمندی سے کم از کم ابلاغ اور مکالمے کی مہارت ہی پیدا کر لیں اور جان لیں کہ گفتگو کے آداب کیا ہیں۔ کسی کی بات کاٹنا، اسے بات مکمل نہ کرنے دینا کتنا نامعقول رویہ ہے، دوران گفتگو مبالغے اور دروغ گوئی کے بغیر محض استدلال اور اخلاقی دباؤ ہی سے فریق کو چت کیا جا سکتا ہے۔ اور اڑتے جہازوں کو چپلیں مارنا کوئی قابلِ فخر فعل نہیں۔ دین کی تعلیم کے ساتھ معاشرتی میل جول بھی سیکھنا چاہیے کیونکہ اس میں حقیقی دوستی اور باہمی روابط کو بہت اچھے طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔
اگر مدارس میں ایسی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو جائے تو ہمارے مرر و زن ایک دوسرے کو دیکھتے ہی اپنے عصبی نظام میں اتنے اجڈ طریقے سے ہیجان محسوس نا کریں۔ مشہور زمانہ Shuttle and cage تجربے کے مستند نتائج کی روش میں ڈیزائن کردہ کلاس روم یا تربیتی ماحول فراہم کرنا سود مند رہے گا جہاں مشرق و مغرب نظر آنے والی یہ مخلوق (مرد و زن) جو اصل میں ایک دوسرے کا جز اور پرتو ہیں بار بار ایک دوسرے کو سامنے دیکھ کر، ایک دوسرے سے ڈیلنگ کر کے، ایک دوسرے سے ابلاغ کرنے کے مختلف مگر جذباتی و عصبی حوالوں سے کنٹرولڈ طریقے دریافت کرکے اچھے طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ جائیں گے۔کچھ بعید نہیں کہ پھر معتبر حلقے ماروی سرمد کو بھی ایسے اداروں میں تعلیم کے لیے بھیجنے کی ضرورت محسوس کریں.
ماروی صاحبہ مولانا کی داڑھی کو کوس رہی تھیں اور مولانا انکی شلوار کو۔ میں سوچ رہی ہوں کہ لندن جہاں بقول ہمارے اسلامی بھائیوں کے مساجد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔وہاں کی ماروی سرمد داڑھی والوں کو کیسے برداشت کرتی ہو گی اور وہاں کا داڑھی والا ملکہ برطانیہ کی منی سکرٹ اور لال سوہی لپ اسٹک سے کیسے نمٹتا ہو گا؟
یہ سب سماجی رواداری اور قابل عمل رویے سیکھنے کا معاملہ ہے۔

حصہ