کیس آیا ہے حضور، خواجہ سرا کا کیس! …………… تحریر ثمینہ انصاری
حضور والا! ایک کیس آیا ہے۔ہے تو انسانوں کا کیس مگر ہمارے ہاں انہیں کو انسان نہیں مانا جاتا۔ ان کی کوئی شناخت نہیں۔ شناختی کارڈز ہی نہیں شناخت کیسے کی جائے۔ یہ لوگ کسی دوسر ے ملک نہیں جا سکتے۔ کیونکہ ان کو دوسرے صوبے جانے پر بھی اختیار نہیں دیا گیا۔ کوئی اکا دکا ہی صوبہ بدل پاتا ہے۔ زیادہ تک ایسی نوبت نہیں آتی۔ جس شہر پیدا ہوتے پلتے بڑھتے ہیں وہی کے پوش اور نالے کے قریب پڑتے علاقے میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کا کام ناچنا ہے۔ مگر یہ ہر وقت ناچتے ہیں اور ان کا ناچ تگنی کے ناچ سے زیادہ سخت ہے۔ ان کے پاس رہنے کو گھر نہیں۔ کھانے کو کھانا اور پہننے کو کپڑا نہیں۔ اچھا ہوتا انہیں کتابیں ہی مفت میں مل جاتی۔ پڑھ لکھ جاتے اگر ہمارے سکول کے اساتذخالص اور کھرے ہو جائیں۔ خیر ان بیچاروں کا کیا قصور۔ وہ بھی تو اسی معاشرے کی پیداوار ہیں سوچ کیسے مختلف ہو سکتی ہے۔ پھر آج کل وقت کہاں۔ حضور کیس تو وہیں رہ گیا۔ ہاں کیس سمجھانے کے لئے تمہید باندھنا بھی ضروری ہے۔ کہیں میری نوکری بھی خطرے میں نہ پڑ جائے۔
انہیں اترن پر بھی خوشی ملتی ہے۔ کوڑے دان سے باسی روٹی اُٹھا کر کھا لیتے ہیں۔ کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ سیکس ورکر ہیں۔ اور ان کا دھنداآدمی لوگ چلاتے بھی ہیں۔حضور پیٹ بھوکا ہو تو سب چلتا ہے۔ آخر کیا کام کریں یہ بیچارے۔ تعلیم ان کو نہیں ملتی۔ صحت کی کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔ جہاں جاتے ہیں مذاق میں اُڑتے پائے جاتے ہیں۔ کہیں غصہ دکھا یا تو لاتوں گھونسوں کی بارش ھی برداشت کرتے ہیں۔پیدا ہوتے ہیں تو انہیں ڈرایا جاتا ہے۔ یہ ڈر آگے چل کر زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ کوئی ریپ ہوا تو یہ ہیں ہی سیکس ورکر یہ تو عام سی بات ہے۔(جس تھانے میں رپورٹ درج کرائی گئی اس کے ایس ایچ او نے یہی کہا تھا)۔ حالانکہ کرنے کو بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ سلائی کڑھائی کر سکتے ہیں۔ کمپیوٹر پر موجود تمام سائیٹس چلا سکتے ہیں۔ ٹائیپنگ کر سکتے ہیں۔ کال سینٹرز میں کام کر سکتے ہیںوکالت اختیار کر سکتے ہیں۔ آرٹسٹ تو بہت اچھے بن سکتے ہیں چاہے ٹرک آرٹ ہو یا پینٹنگ ڈرائینگ یا پرفامنگ آرٹ کا کئی بھی شعبہ۔ کھیل سکتے ہیں۔ جمناسٹک، سویمنگ، دوڑ لگانا وغیرہ وغیرہ
الغرض انسان ہیں اتنا بڑا کام کرتے ہیں تو باقی کام تو معمولی ہیں۔ کر سکتے ہیں مگر حضور ان صلاحیتوں کا تبھی استعمال ہو گا جب ان کا استحصال بند کیا جائے اور دیگر انسانوں کی طرح مراعات دی جائیں۔ انہیں بھی اپنی شناخت کا حق ہے۔ ہماراقانون انہیں عورتوں میں شمار کرتا ہے اور نہ مردوں میں۔ انہیں عورتوں میں نہ شمار کیا جائے مگر انسان تو قبول کیا جائے۔تن ڈھانپنے کو خود خرید لیں گے مگر بازار میں ریڑھی تو لگانے دی جائے۔ ایک بار انہیں دکاندار تو بنایا جائے۔دور کہیں منگولیا سے پار ڈوبتے سورج کے ساتھ پڑتے کسی علاقے میں جب خاتون اپنے آپ کو ورجن (کنواری) بنالیتی تھی تو وہ خود کے بال کاٹ ڈالتی، زنانہ کپڑے اُتار مردانہ کپڑوں سے مردانہ زبان تک مردانہ اُطوار اپنا لیتی تھی۔ اس علاقے کی خاص بات یہ تھی کہ ایسے انسان بھی رسم کنواری سے خود کو محفوظ کر لیتے تھے۔ وہ مردانہ اطوار اپنا لیتے۔ شادی کی کس کو پڑی ہے۔ بس کام کرتے اور اپنا پیٹ پالا کرتے۔ عزت کی زندگی گزرتی تھی۔ پھر ہوا یوں کے اس علاقے کے چند اوباشوںنے ماحول خراب کر دیا۔ انہیں انسانوں کا استحصال کیا اور انہیں سیکس ورکر بنا ڈالا۔ مگر اس زمانے میں سیکس ورکر بننا کوئی خراب یا بے عزت بات نہ تھی۔ پھر ایک عظیم بربادی ہوئی۔مظلوموں کی ہائے لگ گئی۔ یہ معجزہ نجانے کیسے ہوا پر ہو گیا۔ ہاں ! اب بھی یہ رسم زندہ ہے مگر افریقہ کے قبیلوں میں (شاید)۔ مگر حضور میں زیادہ لمبی بات کیوں کروں نوکری خطرے میں پڑتی دکھائی دیتی ہے۔
ایک لینہ حاشر ہے خواجہ سرا کی ماں کو خط لکھتی ہے۔ اسی پیچ ایک صاحب ابواعلیٰ نام کے اختلاف کرتے ہیں بنا تحقیق بات کرتے ہیں اور اپنی بات پر تحقیق کا ٹیگ لگائے پھرتے ہیں۔ اور خواجہ سرا کو پولیس اور اہم اداروں کی اندرونی رسائی کا دعویٰ کرتے ہیں۔حضور اتنی ہی رسائی ہوئی تو کیا در در کی ٹھوکریں کھاتے؟ باعزت زندگی نہ گزارتے؟ اور کیا اتنی ہی رسائی ہوتی تو کسی میڈیکل ایگزامینر/آفیسر کی یہ مجال کہے ”تم تو بنے ہی اسی کام کے لئے ہو، ذرا جواب ملنے پر موصوف کہتے ہیں۔’اچھا! ٹیسٹ کی رپورٹ تو میرے پاس آنی ہے ۔اب فیصلہ میرے ہاتھ میں ہے۔“چپ کر کے ایمانداری سے اپنا کام نہ کرتا؟ایسی دھمکیوں اور مبینہ وارداتوں کی نوبت ہی کیوں آتی۔ پر کیا کرے بے چارہ میڈیکل آفیسر ہے نہ۔ اسے بھی تو کسی کے سامنے سلیوٹ کرنا پڑتا۔ جواب دہی ہوتی ہے بےچارے کی سینئر نے کسی کے سامنے بات کر دی بے عزت ہو جائے گا ۔ ہائے بے چارہ ڈاکٹر۔پر جناب میں یہ سب کیوں بیان کروں؟ حضور میری نوکری خطرے میں پڑ جائے گی جو کچھ زیادہ کہا تو۔ مگر کیس تو سنتے جائیے۔
کہنا تھوڑا مشکل ہے مگر ہوا یوں کہ جولی کا بلاتکار ہوا۔ رپورٹ درج کروانے پر خجل خواری الگ ہوئی۔ اللہ اللہ کر کے جو ہو ہی گئی تو میڈٰکل آفیسر نے خوب سنائی۔ اور ڈی این اے سمیت ٹیسٹ کرنے پر فطری خالی دماغ ہونے کا مظاہرہ کیا۔ اپنی قابلیت و قبولیت کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے دھمکی دے ڈالی۔ اب معلوم نہیں نتیجہ کیا آتا ہے۔ کیس خارج کر دیا جاتا ہے یا نہیں۔ مگر اتنا جانتے ہیں کے اب کی بار ہمت نہیں ہاریں گے۔ بہت چپ ہو لئے۔ یہ بھی کہے دیتے ہیں ۔ شیر زخمی کر دیا جائے ، اسے کئی کچوکے لگائے جائیں تو دو قدم صرف جھپٹنے کے لئے پیچھے ہٹاتا ہے۔ وقت اب کے ہمیں شیر بنا سکے گا یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ اب مجھے اپنا منہ بند کر لینا چاہیے اس سے پہلے کہ کوئی قانون حرکت میں آ جائے اور میری نوکری جاتی رہے۔۔۔

حصہ