سماجیات

عورتوں کی مشکلات ………………………… سمیہّ خان کے قلم سے

خواتین کے مسائل ……………… تحریر ………………. سمیہّ خان۔
آج میں ایک اہم مسۂلہ شیئر کرنا چاہتی ہوں۔اور یہ مسئلہ آج ک اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔مسئلہ ہے”عورتوں کے مسائل”۔آج کل ماڈرن زمانہ ہے۔اور ہر لڑکی گھر سے باہر نکل کر جاتی ہے یا تو جاب کے سلسلے میں یا تو پڑھائ کے سلسلے میں۔لیکن وہ گھر سے باہر نکلتے ہوۓ کتنے مسائل کا سامنا کرتی ہے یہ صرف وہی جانتی ہے۔سب سے بڑا مسئلہ ایک لڑکی کو درپیش آتا ہے وہ ہے "ٹرانسپورٹ کا مسئلہ”۔ ایک لڑکی گھنٹوں سڑک پر کھڑی رہتی ہے۔بس کا انتظار کرتی ہے۔اور جب بس آتی ہے تو ایسے گزر جاتی ہے جیسے کہ کوئ کھڑا ہی نہ ہو۔اس کے علاوہ اگر خوش قسمتی سے بس رک بھی جاتی ہے تو مردوں کو بھی لیڈیز کمپارٹمنٹ میں چڑھایا ہوا ہوتا ہے۔مطلب کہ عورتوں کو بس میں بھی ان کا حق نہیں دیا جاتا۔پہلے تو یہی مرد کہتے کہ عورت کچھ نہیں کر سکتی۔عورت مردوں کے شانہ بشانہ آکر دیکھے کہ مرد کو کتنی محنت کرنی پڑھتی ہے۔۔پھر جب عورت مرد کے شانہ بشانہ آنا چاہتی ہے تو اسے موقعے فراہم نہیں کیۓ جاتے۔اس کا مطلب تو یہی ہے کہ مرد جانتے ہیں کہ عورت ان سے بہتر ہے۔ان سے بہتر کام سرانجام دے سکتی ہے۔
بڑے بزرگوں سے راۓ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ پہلے عورتوں کو گھر سے نکلنے کی آزادی نہیں تھی۔ان کو چار دیواری میں رکھا جاتا تھا۔عورتیں انپڑھ ہوتی تھیں۔ان کو تعلیم حاصل نہیں کروائ جاتی تھی۔اس کے باوجود وہ عورتیں اپنا گھر چلاتی تھیں۔بچوں کی اچھی سے اچھی تربیت کرتی تھیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت کی ذہانت اور قابلیت کسی تعلیمی ادارے پر انحصار نہیں کرتی۔بلکہ اس کی نیک سیرت ہی کافی ہوتی ہے۔کیا اس بات کو دیکھ کر ہم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ مرد حضرات کبھی چاہتے ہی نہیں کہ عورت گھر سے باہر نکل کر اپنا حق حاصل کریں۔مردوں کے کاندھے سے کاندھا ملا کر چلے۔کیونکہ مردوں کو یہ خوف ہے کہ عورتیں ان سے بہتر ہیں۔کیونکہ عورت ہی ایک ایسی ذات ہے جو گھر اور باہر کے کام کو ایک ساتھ سنبھال سکتی ہے۔
اس کے علاوہ اگر ہم عورتوں کی عزت و آبرو کے بارے میں بات کریں تو باہر نکلنے والی عورتوں کو معاشرے میں اچھی نگاہ سے بھی نہیں دیکھا جاتا۔ایسی عورتوں کو غلط سمجھا جاتا ہے۔کالج،یونیورسٹی کی لڑکیوں کو موڈ سمجھا جاتا ہے۔اس بات کو دھیان میں بھی نہیں رکھا جاتا کہ جب تک وہ پڑھے گی نہیں تعلیم حاصل نہیں کریں گیں تو اپنے خاندان کو کیسے چلائیں گیں۔صرف اور صرف انگلی اٹھانا جانتے ہیں۔بغیر یہ سوچے سمجھے کہ اگر ایک عورت جاب کے سلسلے میں گھر سے باہر نکل رہی ہے تو وجہ کیا ہے؟ کوئ مدد کرنے سامنے نہیں آتا لیکن طعنے دینے کے لۓ کونے کونے سے نکل کر آتے ہیں۔
کیا ایک عورت کی اپنی زندگی اپنی مرضی سے گذارنے کا کوئ حق نہیں۔ایک عورت اپنا حق لینا جانتی ہے۔عورت کبھی کمزور نہیں پڑھتی۔اور بے بس عورت بہت خطرناک ہوتی ہے۔اپنے خاندان کے لۓ کچھ بھی کر سکتی ہے۔
ہمیں چاہئیے کہ عورتوں کو ان کا حق دلوانے میں مدد کریں۔انہیں سمجھیں انکی مشکلات پر غور کریں۔انگلی اٹھانے کے بجاۓ ان کا سہارہ بنیں کیونکہ ایک عورت کو اسلام میں بھی اعلی مقام حاصل ہے

Back to top button