کراچی میں چیونٹی کو ہاتھی بنانے کی کوشش ناکام ۔۔ باغِ جناح میں مصطفی ’’کمال ‘‘ نہ دکھا سکے ۔۔۔
عمران خان کا کامیاب ترین جلسہ ۔۔۔۔۔ شریف حکومت کے ساتھ ساتھ سائیں سرکار کو بھی چیلنج کر دیا
کراچی ( نیلاب نیوز نیٹ ورک )24 ۔ اپریل 2016 ء کا دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک گرم سیاسی دن کے طور مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ اس روز لاہور میں جماعت اسلامی کے سراج الحق ، کراچی میں نوزائیدہ سیاسی پارٹی ’’ پاک سرزمین پارٹی ‘‘ کے مصطفیٰ کمال اور اسلام آباد میں تحریک انصاف کے عمران خان نے اپنی اپنی جماعت کے جلسوں سے خطاب کیا ۔غیر جانبدار مبصرین کے مطابق اسلام آباد کے F/9 پارک( فاطمہ جناح پارک ) میں ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے نے ماضی قریب میں ہونے والے دیگر سیاسی جلسوں کا ریکارڈ توڑ دیا ۔ پاکستان کی قومی سیاست میں اس قدر کامیاب جلسے اب پاکستان تحریک انصاف کے کریڈٹ پر ہی رہ گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور محترمہ بے نظیر بھٹو مرحوم کی برسیوں پر ’’سائیں سرکار ‘‘ کی سرپرستی میں ہونے والے بلاول بھٹو زرداری کے جلسے بھی کپتان کے جلسوں کا ریکارڈ توڑنے میں ناکام رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا کہ 24 ۔ اپریل کا دن سیاسی کامیابی کے حوالے سے عمران خان کے نام ہے ۔ پاکستان کے طول و عرض سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ اسلام آباد کے F/9 پارک پہنچے ۔ پانامہ پیپرز کی وجہ سے سیاسی ماحول کی گرمی نے کپتان کو بھر پور سیاسی فائدہ پہنچایا ۔ اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیئے عمران خان نے سندھ میں سائیں سرکار کی کرپشن کے خلاف 26 ۔ اپریل سے ایک مہم چلانے کا اعلان کرکے پاکستان پیپلز پارٹی بھی کو کڑے امتحان سے دوچار کر دیا ہے ۔ پاکستان کے دوسرے بڑے صوبہ سندھ میں ایک دہائی سے سائیں سرکار اقتدار میں ہے ۔ قائم علی شاہ کی اس حکومت کی کرپشن کی کہانیاں زبان زدِ عام و خواص ہے ۔ پانامہ پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد عمران خان نے جہاں ایک طرف شریف حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا وہاں وہ پیپلز پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کرنے میں بھی کامیاب ہوتے ہوئے نظر آنے لگے ہیں ۔ ’’کپتان ‘‘ کے سیاسی مشیر ’’ شریف حکومت ‘‘ کے عالی دماغوں پر سبقت لے گئے ۔ سندھ میں سائیں سرکار کی حکومت کی کرپشن کے خلاف عمران خان کی مہم کی مخالفت میں پیپلز پارٹی کے لیئے اب یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت کو عمران خان کی مخالفت میں کمک فراہم کر سکے ۔ کیونکہ موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کے لیئے ممکن نہیں رہا کہ پانامہ لیکس کے معاملے میں حکومت کی مدد کی جا سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کے باغِ جناح میں پاک سر زمین کی جانب سے منعقدہ جلسے اور ایک روز قبل موسیقی کے ایونٹ نے پاک سر زمین پارٹی کے پہلے جلسے سے کوئی خوش کن تائثر قائم نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔ مصطفی کما ل کراچی کے عوام کو متائثر کر نے میں بااکل اُسی طرح ناکام رہے جس طرح پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اپنی نسل اور عمر کے افراد کو بھی اپنی سیاست ست متائثر نہیں کر سکے ۔۔ پاک سرزمین پارٹی کے حوالے سے شروع دن سے ہی یہ تائژ قائم ہے کہ اس پارٹی میں لیڈروں کی تعداد کارکنوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ ایک ماہ قبل جنم لینے والی اس پارٹی کے بارے میں یہ تائثر زائل ہونے کی بجائے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مستحکم ہوتا جا رہا ہے کہ کراچی کے سابق ناظم مصطفی کمال کو باکمال بنانے کے لئے ’’اشرافیہ ‘‘ بادشاہ گر کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ پاک سر زمین پارٹی کے پاس مالی وسائل کی ضرورت سے زیادہ فراوانی اور فنڈز کے ذریعہ کے حوالے سے بھی بہت سے تحفظات سامنے آنے لگے ہیں ۔

حصہ