میں تجھے چھوڑ کے دنیا سے کنارہ کر لوں
تو مجھے چھوڑ دے میں یہ کیسے گوارہ کر لوں

شکست و فتح میرا مسلہ نہیں لیکن
اس زندگی کے ساتھ میں کیسے گذارہ کر لوں

اس دکھ کے سمندر میں اتروں تو سہی
پھر ٹوٹی ہوئی کشتی کو بھی سہارا کر لوں

اپنے خلاف خود ہی فیصلہ لکھا میں نے
اب سلیقے سے اس غم کو آوارہ کر لوں

دل بے تاب بہت نازاں تھا اس محبت پر
ان ٹوٹی امیدوں کا بھی نظارہ کر لوں

خوش ہوں کہ روشن میرا نام ہوا
بن کے چاند میں تجھ کو ستارہ کر لوں! شاعرہ عالیہ جمشید خاکوانی

حصہ